Education

آئن سٹائن اور اسلام معلوماتی تحریر ۔۔۔۔ ضرور پڑھئیے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

یہ ہیں آئن سٹائن کی بہت انمول باتیں ذرا ان کو پڑھ کر دیکھیں کہ ان میں اسلام کا پہلو کتنا واضح ہے۔بغیر سوچے سمجھے کسی اتھاریٹی کی عزت کرنا سچ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ انسان اپنے دماغ کا اتنا کم حصہ استعمال کر تاہے کہ اسے ایک وقت میں صرف ایک شیر کی دم ہی نظر آتی ہے۔

حالانکہ اس کے دماغ کی قوت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک پورا شیر بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ بات وہ آدمی کہہ رہا ہے جس کا دماغ اس دنیا میں سب سے زیادہ چلتا تھا۔ دراصل اگر انسان اپنے دماغ کا پورا استعمال کرے تو وہ دنیا کے بہت سے ایسے راز وں سے آشکار ہو سکتا ہے جو ظاہری آنکھ سے پوشیدہ ہیں لیکن ہم سب اپنے ذہن کو بہت تھوڑا استعمال کرتے ہیں۔

آئن سٹائن کہتا تھا کہ میں دینی طور پرایک یہودی ہوں اورنیشنیلیٹی کے لحاظ سے ایک سویس آدمی ہوں مگر اگر دیکھا جائے تو میں اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ایک انسان ہوں۔سچ یہ ہے کہ مجھے اپنے انسان ہونے سے غرض ہے اور صرف اپنے انسان ہونے پر فخر ہے۔ نیشنیلیٹی اور میرے مذہب سے مجھے کوئی لگاؤ نہیں۔

دین سے لگاؤ کے بارے میں آئن سٹائن اگلی بات کرتا ہے کہ میں ایک عام انسان ہوں اور انسان جتنا عقلمند ہو جائے اتنی جلدی اسے یہ سمجھ آجاتی ہے کہ وہ کتنا ضعیف اور نادان ہے۔ اپنے ارد گرد کی کائنات کو دیکھ کر کوئی بھی دانا آدمی اس بات کا اندازہ کر سکتا ہے کہ انسان اصل میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اس لیے عاجزی اختیار کرنے میں حکمت ہے۔ریلیٹیویٹی کے بارے میں بہت خوبصورت مثال دیتا ہے کہ جب آدمی کسی حسین عورت کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اسے ایک گھنٹہ صرف ایک منٹ کے برابر لگتا ہے لیکن جب اس کو کسی گرم چولہے پر بیٹھنا پڑ جائے تو ایک منٹ بھی گزارنا اس کے لیے عذاب بن جائے گا۔ اسے ریلیٹیویٹی بولتے ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا جینیس ایک ایسی مثال دے بیٹھا جو دین کی پوری پوری پیروی کرتی ہے۔ یعنی اگر کسی کو کسی حور کے ساتھ وقت گزارنا ہو تو جتنا بھی وقت گزرے اسے احساس ہی نہیں ہوتا اور اگر آگ کا عذاب آجائے تو رونگٹھے کھڑ ے ہو جاتے ہیں۔

اب آئن سٹائن اپنی طرف سے تو سائنس کی بات کر رہا ہے لیکن صاف صاف اس کی بات دین کی طرف جاتی ہے۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ جتنی انسان کو حکمت، دانائی اور بصیرت ملتی جاتی ہے اتنا ہی وہ ایسی بات کرتا ہے جو خدا کی فطرت پر جاتی ہے۔

آئن سٹائن کہتا ہے کہ میں یہ تو نہیں بتا سکتا کہ میں چار سال کا تھا یا کم پر یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں تین سال سے بڑا تھا جب مجھے یاد ہے کہ میرے والدین بہت پریشان ہو گئے تھے کہ میں بولتا کیوں نہیں تھا اور مجھے باقائدہ ایک ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے لے کر گئے تھے۔

اتنا ذہین تھا کہ اسے تین سال کی عمر میں ہوا یہ واقعہ خود بھی یاد تھا۔ کامن سینس کچھی بھی نہیں، ان خرافات کے سوا جو انسان کے دماغ میں اس کا کلچر اور ملک کے رسم و رواج اٹھاراں سال کی عمر تک بھرتے رہتے ہیں۔

آئن سٹائن نے بولا کہ اگر زندگی میں کامیاب ہونے کا فارمولہ بتاؤں تو بہت سیدھی سی بات ہے کہ کامیابی اگر ’ایکس‘ ہے ، تو ایکس از ایکو ئل ٹو: ایکس پلس وائی پلس زیڈ۔ اس میں ایکس کام ہے، وائی کھیل کود اور لطف اندوز ہونے والی حرکتیں ہیں اور زیڈ ہے اپنے منہ کو بند رکھنا۔

اگر ملکوں کے کانسیپٹ پر بات کی جائے تو آئن سٹائن کا نظریہ بہت صاف تھا کہ ملکوں کا وجود صرف پہچان کے لیے ہونا چاہیے تھا بجائے اس کے کہ اس پر لڑائیاں کی جاتیں یا کوئی خود کو کسی سے برتر گردانتا۔اس نے بولا کہ جو لوگ اپنے آپ کو کسی بھی ملک کا ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔

اس کے اصلی الفاظ یہ تھے کہ ملکوں میں بٹنے کی مشابہت اس سے ہے جیسے ساری انسانیت کو ایسی موذی بیماری لگ جائے جیسے کسی ایک انسان کو خسرہ لگ جاتا ہے۔آئن سٹائن اصل میں کسی قسم کے بٹوارے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ دین سے بھی پہلے تمام انسانوں کا ایک دوسرے کو سمجھنا ایسے ہیکہ ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں اور ہمارا اصلی دین انسانیت کو ہونا چاہیے تھا۔

قرآن بھی اس بات کو سورہ بقرہ میں واضع کرتا ہے کہ وہ لوگ جنت میں جائیں گے جو نیک اعمال کریں گے چاہے وہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا صابئین۔ اب صابئین کا مطلب ہے ایسے لوگ جو کسی دین پر نہ بھی ہوں لیکن انسانیت کی خدمت کریں اور انسانیت کا پر خلوص انداز میں بہتر بنانا ان کا نصب العین ہو۔

خلوت کو بہت پسند کرتا تھا۔ آئن سٹائن کہتا ہے کہ مجھے کبھی بھی خلوت نے تنگ نہیں کیا بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں کسی دین، ملک، قوم، قبیلے، اپنے خاندان یا اپنے ماں باپ سے نسبت رکھتا ہوں۔

میں کس سے نسبت رکھتا ہوں اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ میرے اندر ہمیشہ ایک احساس تھا جس کی وجہ سے میں تنہائی کو پسند کرتا تھا۔ لیکن میرے کسی سے تعلقا ت خراب بھی نہیں تھے۔

وہ اپنی پرسنل سپیس اور اپنی فیملی کو بہت اعتدال سے رکھتا تھا۔ اپنے حلیے اور وضع قطع سے اتنا بے خبر اور لاپرواہ رہتا تھا کہ بولتا تھا کہ اگر میں اپنے آپ کو اچھا دکھانے پر لگ جاؤں تو میں وہ نہیں رہوں گا جو میں اصل میں ہوں۔

آئن سٹائن کا خیال تھا کہ اگر اپنی سوچ کو آزاد چھوڑا جائے اور اپنی سوچ کو تخلیقی دنیا میں پرواز کرنے دی جائے تو انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ اس کے خیال میں انسان کی تخلیقی قوت کا طاقت ور ہونا اس کی تعلیم سے کہیں زیادہ ضروری تھا۔ آئن سٹائن کو دنیاوی اشیاء سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔

بلکہ وہ کہتا تھا کہ اگر کوئی چیز اس دنیا میں مجھے بھاتی ہے یا میری توجہ کا مرکز بنی ہے تو وہ ہے کسی بھی انسان کا نرم اور شفیق رویہ، اس کی صداقت اور خوبصورتی۔ ان چیزوں سے میری روح خوش ہوتی تھی لیکن باقی دنیا کو جو چیزیں قابل قدر لگتی ہیں جیسے اثاثے، قیمتی اشیاء اور آسائشیں، تو مجھے یہ سب دراصل گھناؤنا لگتا ہے۔

ایک اتنا دانشور آدمی کہہ رہا ہے کہ اسے دنیاوی اشیاء سے بہت کم لگاؤ تھا اور اس کے خیال میں کسی بھی انسان کا رویہ ان مادی اشیاء سے کہیں زیادہ مقدم تھا۔ انسان اگر اصل میں عقل مند ہو تو اس کی فطرت خود بخود دین کی طرف منسلک ہو جاتی ہے۔

تعلیم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کو خود مختار بنائے اور اسے ایسی سوچ دے جو وہ حقائق کی بنیاد پر بنی ہو لیکن اصلی بات یہی ہے کہ انسان اس قابل ہو کہ دنیا اور انسانیت کا سوچے اور ان کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے ہر مسئلے کا حل تلاش کرے۔

جو کام بھی خانہ پوری کی نیت سے کیا جائے اس کا نتیجہ کسی عظیم چیز کی صورت نہیں آتا، جب انسان باقی انسانیت کی بھلائی کی نیت سے کام کرے تو اس کو خود معلوم بھی نہیں ہوتا اور وہ ایسی چیزیں ایجاد کر لیتا ہے جو انسانیت کی خدمت کے کام آتی ہیں۔

بہت سے ٹیچر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دیکھیں کہ ان کے طلبہ کو کیا کچھ نہیں آتا ہے حالانکہ ایک اچھے ٹیچر کا فوکس ہمیشہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان سے ایسے سوالات کرے کہ جانچ سکے کہ ان کو کیا کچھ آتا ہے یا وہ کیا کچھ وہ مزید سیکھ سکتے ہیں۔ ایک ایسا انسان جو پر مسرت اور مطمئن ہو وہ اپنے حال سے اتنا خوش ہوتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان نہیں ہوتا۔

پھر اس نے دین کی بات کر دی۔ جو لوگ ایمان لائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں انہیں نہ تو اپنے ماضی کا پچھتاوہ یا رنج ہو گا اور نہ ہی اپنے مستقبل کے اندیشے ستائیں گے۔ انسان کا سوال پوچھنا اور تجسس رکھنا بہت مثبت بات ہے۔

جو انسان بھی اچھا کام کرتا ہے اس کی نیت کبھی خانہ پوری یا مقابلے بازی کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ایسے ہے کہ کوئی دینی عالم یا کوئی عاشق بغیر اپنی مرضی کے روز اپنے دین کے پرچار یا محبوب کی محبت کو پالتے اور پنپتے دیکھتے ہیں، بالکل اسی طرح ایک محنت کش انسان اپنے کام کو اپنے بچوں کی طرح پالتا ہے۔

کام وہ ہے جو دل سے کیا گیا ہو۔ وقت اور خلاء کے کانسیپٹ کے بارے میں انسان کبھی اپنی بلوغت کے بعد نہیں سوچتا ۔ آئن سٹائن کہتا ہے کہ میں باقیوں سے تھوڑا مختلف تھا میں پہلے ان چیزوں کے بارے میں بالکل نہیں سوچتا تھا۔ آج اپنی بلوغت کے بعد میں نے وقت اور خلاء دونوں کے بارے میں اتنی شدیدگہرائی سے سوچا ہے کہ کسی اور نے ان دونوں اینٹیٹیز پر اتنا وقت صرف نہیں کیا ہو گا۔

سائنسی ترقی کے بارے میں اس کا نظریہ یہ تھا کہ ابھی تک جتنی بھی ترقی ہوئی ہے وہ بالکل بھی خاطر خواہ نہیں ہے۔ جو ترقی سائنس نے کی ہے اس کا موازنہ اگر کائنات کے وسیع وجود سے کیا جائے تو انسان کی ترقی کچھ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ بھی یہ تھوڑی سی ترقی ہے جو اس نے سائنس کے زریعے کی ہے۔ آئن سٹائن ایک بار پھر انسان کو دین کی طرف لگا رہا ہے اور شاید وہ جانتا بھی نہیں تھا کہہ وہ یہ کر رہا ہے۔

کیونکہ ایک بار پھر اس نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انسان کی عقل کتنی بھی زیادہ ہو جائے وہ ترقی یافتہ ہو کر بھی دنیا اور کائنات کے موجب کے آگے کسی قابل نہیں ہے۔ جوکچھ بھی تخلیق کیا وہ خدا نے کیا۔ انسان نے اتنی صدیوں کی انتھک محنت کے باوجود کوئی بھی مادہ بذات خود تخلیق نہیں کیا ہے بلکہ وہ صرف خدا کے بنائے ہوئے مادے کو پڑھنے میں مصروف ہے اور اس میں بھی انسان کا کام کل ملا کر کائنات کے وجودکے مقابلے میں بالکل بھی خاطر خواہ نہیں ہے۔

انسان کو اپنے کام کی یا اپنی تعریف سے کبھی بھی رکنے یا مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے ہے چاہے تعریف ہو یا نہ ہو۔ لیکن اس کا نظریہ یہ تھا کہ کسی تعریف کو سر پر سوار نہیں کرنا چاہیے۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب اس کے کسی کام کی تعریف کی جائے تو وہ ہوا میں اڑنے لگتا ہے اور یہ تصور کرتا ہے کہ اس نے کوئی لیول حاصل کر لیا ہے۔ آئن سٹائن کہتا تھا کہ کوئی تعریف کرے یا نہ کرے اس سے کام میں کوئی خلل نہیں پڑنا چاہیے۔

اس کی مثال ایسے ہے جیسے ٹائیگر ووڈز جب بھی کوئی گالف کا ٹورنمنٹ جیت کر آتا ہے تو ساری دنیا اس کی تعریف کے پل باندھ دیتی ہے لیکن اس کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کی گیم کو سراہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنا جو ہول تین شاٹس میں سکور کرتا ہے اسے ایک شاٹ میں سکور کر کے ہول ان ون بنالے۔

کام کے لیے جو بھی گولز ہم سیٹ کرتے ہیں ان کا تعلق دنیا یا لوگوں سے ہرگز نہیں ہونا چاہیے ۔ ٹائیگر ووڈز اپنی ہر جیت کو بہت سرسرا لیتا ہے اور ہر رات میں اس کی مشق جاری رہتی ہے۔ کیونکہ اس کا مشن کسی اور سے جیتنا نہیں ہے۔

جب انسان کا مشن اپنے آپ سے جیتنا بن جائے تو وہ کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ تعریف کے باعث کام کو اسی لیول پر روک کر آرام نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے آپ اس کام کو ایک ایسی جگہ روک دیتے ہو جدھر اس کو بالکل بھی نہیں رکنا چاہیے تھا۔ کیونکہ اس سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top