Education

آغاز سے انجام تک اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

انیسویں صدی کے آخر میں ضلع گورداسپور میں مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے ہاتھوں دین اسلام کے نام پر نیا کھیل کھیلنے والا کھلونا بنا۔ابتداء میں مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل کر نے کے لیے عیسائیوں اور سکھوں سے مناظرے کیے اور اسلام کا دفاع کیا۔ رفتہ رفتہ بعض لوگ مرزا کو ایک مصلح اور مبلغ اسلام کا درجہ دینے لگے۔ مسلمانوں کی حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا نے مشہور مبلغ اسلام بننے کے بعد مختلف کتابیں لکھنا شروع کیں اور پھر اپنے آپ کو مجدّد کہلوانا شروع کردیااور بیسیوں صدی کے آغاز میں اپنا اصل کا م کرنا شروع کیا۔ مجدّد کے دعوے پر مرزا کی گرفت نہ ہوئی تو وہ بتدریج مہدی، مثل مسیح، مسیح موعود، ظلّ نبی، بروزی نبی، امتی نبی، تشریعی نبی یہاں تک کہ اپنے آپ کو خدا کہنے سے بھی باز نہ آیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔مرزا نے اپنے دعووں کوثابت کرنے کے لیے مناظرے، مباحثے اور مباہلے کے چیلنج کیے جو علمائے حق نے ہمیشہ قبول کیے لیکن جب کبھی مناظرے کا وقت آیا تو مرزا قادیانی خود نہیں پہنچتا تھا، یا بالفرض اگر پہنچ بھی جاتا تو بہت بری طرح شکست و ذلت کا سامنا کرنا پڑتا۔ بالآخر جب وہ اپنی ریشہ دوانیوں، بے بنیاد دعووں اور رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کی توہین سے باز نہ آیا تو علمائے حق نے مرزا قادیانی کو کافر و غیر مسلم قرار دیا۔

اس کے بعد مرزا قادیانی کی جماعت نے دینِ اسلام کی آڑ میں اور برطانوی سماج کے سائے میں رہتے ہوئے اپنے باطل مذہب کی خوب ترویج و اشاعت کی اور اپنی تحریروں میں اسلام کی من مانی تاویلات و تشریحات پیش کرنا شروع کردیا۔ غریب اور پسماندہ علاقوں میں جا جاکر لوگوں کو اپنے باطل مذہب میں داخل کرنا شروع کردیا۔ علماء کرام نے قادیانی جماعت کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو دیکھتے ہوئے ریاستی سطح پر اس کی سرکوبی کی کوششیں کرنا شروع کردیں۔ چونکہ اس دوران پاکستان وجود میں آچکا تھا لہٰذا علماء نے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ بلاخوف و خطر یہ جراتمندانہ مطالبہ بڑی ثابت قدمی سے کیا جاتا رہا.

1953ء میں اس جھوٹے مذہب کے خلاف ایک ملک گیر تحر یک شروع ہوئی۔ جلوس نکالے گئے لیکن ستم در ستم یہ کہ حکومت نے مسلمانوں کی تحریک کو ہی کچلنے کا منصوبہ بناکر مسلمانو ں کا بہیمانہ قتل شروع کردیا گیا۔ تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی اس تحریک میں سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے اور ہزاروں کوجیل بھیج دیا گیا۔ حکومت نے تحریک کے قائدین کو بھی حراست میں لے کر مقدمہ چلایا اور سزائے موت سنائی جن میں مولانا عبدالستا ر خان نیازی،اور مولانا خلیل احمد قادری و غیرہ شامل تھے لیکن بعد میں مسلمانوں کے دباؤ پر سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیاگیا۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد قادیانیوں کو مزید تقویت ملی۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا جوش ایمانی سرد نہیں پڑا۔

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top