Education

’’آپ امریکہ جانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ کام کریں ۔۔۔‘‘ایک ایسا مشورہ جو آپ کی مشکلیں دور کرسکتا ہے

موجودہ دور میں سفر کرنا کوئی معرکہ نہیں رہا۔پہلے زمانے میں سفر کرنا ارمانوں اور مصائب کو دعوت دیتا تھا ،کاروباراور سنہری مستقبل کے علاوہ لوگ سیروسیاحت کی تمنا رکھتے تھے تو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں سفر کی لکیریں نمودار ہوا کرتی تھیں ۔

ان کی نظر میں یہ بہت بڑی اچیومنٹ ہوتی تھی۔اگرچہ اب بھی یہ لکیریں ہاتھوں میں نظر آتی ہیں لیکن ایسے لوگ جو بہت سفر کرتے ہیں ان کے ہاتھوں میں ایسی لکیریں مفقود بھی ہوتی ہیں ،یہ ضروری نہیں کہ ہاتھوں میں سفر کی لکیر ہو تبھی سفر ہوتے ہیں،

قوت ارادی سے یہ کام کیا جاسکتا ہے تاہم ہاتھوں میں ایسی لکیروں موجود ہوں تو یہ سفر کی نوعیت پر روشنی ڈالتی ہیں۔ کسی بڑے سفر اور وہاں مستقل قیام کے لئے ہاتھوں میں ایسی مثالی لکیر کا ہونا ضروری ہے ۔مثلاً کوئی غریب یا متوسط طبقہ کا فرد امریکہ جانا چاہتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایسی لکیرکاہونا ضروری ہے

اور یہ بتائے گی کہ اسکی راہ میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور ویزے اور وہاں قیام کے دوران اسے کن مسائل کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔کہیں ویزہ لینے کے چکر میں اسکا پیسہ تو ضائع نہیں ہوگا۔گویا سفر کی لکیروں سے مکمل رہنمائی لیکر مشکلات سے بچا جاسکتا ہے ۔

ہاتھوں میں سفر کی لکیریں کلائی کے کنگن اور قمر کے ابھار سے نمودار ہوتی ہیں۔جو اپنے رجحان سے سفر کی نوعیت بیان کرتی ہیں۔استاد کیرو کا مطالعہ کہتاہے کہ اگر سفر کی لکیر عطارد کے اْبھار تک چلی جائے تو اچانک دولت ملے گی یا ایسی دولت ملے گی جس کا پہلے سے اندازہ نہ ہو۔

کسی کاروباری کو کوئی ڈوبی ہوئی رقم مل سکتی ہے۔ تجارت کا سامان دوسرے ملک میں لے جائیں تو اتنا منافع حاصل ہو گاکہ اس کا پہلے سے اندازہ نہ ہو۔ کئی دفعہ حادثات پیش آتے ہیں تو جن کی زندگی بچی رہتی ہے وہ مرنے والوں کی جیبوں کا صفایا کر کے اچانک امیر بن جاتے ہیں۔

جو لکیرقمرکے ابھار سے ہتھیلی کی طرف آتی ہے اور تقدیر کی لکیر کو کاٹتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ یہ لکیر اْن لکیروں سے اہم ہے جو قمر کے اْبھار پر چھوٹی سی ادھر اْدھر گزرتی ہیں۔ لیکن تقدیر کی لکیر کو نہیں کاٹتیں۔ ایسی لکیر سفر کا اظہار کرتی ہے۔ یہ سفر اْن کے مقابلہ میں طویل ہو گا

جو چھوٹی لکیروں سے ظاہر ہے۔ چھوٹی لکیریں ملک کے اندر سفر کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن یہ بڑی لکیر ملک کے اندر بڑا سفر یا بیرونی سفر کو ظاہر کرتی ہے۔کئی دفعہ قمر کے اْبھار سے لکیریں نکل کر تقدیر کی لکیر کے ہمراہ چلی جاتی ہیں ایسے افراد سفروں میں رہتے ہوئے مالی لحاظ سے فائدے میں رہتے ہیں۔ سفر وسیلہ ظفر بن جاتا ہے۔ وہ خوب کماتے ہیں۔ سفر میں خوش رہتے ہیں۔

اگر پہلی چوڑی سے لکیر قمر کے اْبھار تک چلی جائے یا زیادہ لکیریں قمر کے اْبھار تک پہنچ جائیں تو یہ مسافر کیلئے مفید رہتی ہیں۔ مسافر اپنا سفر آرام سے کاٹتا ہے۔ انجام بخیر ہوتا ہے۔ وہ مالی لحاظ سے منافع میں رہتا ہے۔

جب سفر کی لکیر پہلی چوڑی (کنگن )سے ہتھیلی میں داخل ہوتی ہوئی مشتری کے ابھار تک پہنچ جائے تو جوں جوں سفر کی لکیر بڑھتی چلی جائے گی۔ سفر اس فرد کے لئے وسیلہ ظفر بنتا رہے گا۔ سفر طویل ہو گا بلکہ طویل تر۔ لیکن یہ مصائب اور آرام کا سفر نہ ہوگا۔ خوش بختی اور کامرانی کا سفر ہو گا۔ کامرانی اور مرادوں کا سفر ہو گا اقبال بلند ہو گا۔ دولت اور شہرت ملے گی۔

اگر سفر کی لکیر زحل تک جائے گی تو مایوسی ، نامرادی ، بحران سفر میں شامل حال ہو گا۔ ایسا فرد مالی طور پر نقصان اٹھائے گا۔ پریشان حال ہو گا، پریشان طبع ہو گا۔اگر سفر کی لکیر سورج کے ابھار تک چلی جائے تو مشتری کی طرح یہ بہتر نشانی ہے۔ اس قسم کا سفر مندرجہ ذیل مرادوں سے بامراد ہو گا۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top