Education

ایک مسلمان کی جان مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں کانوں میں انگلیاں دے کر حیران و سرگرداں پھر رہے تھے اور چلا چلا کر کہہ رہے تھے. ہائے افسوس! ہائے افسوس! لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور متعجب ہو کر پوچھنے لگے.

امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعض امراء کی طرف سے ایک پیام رساں یہ خبر لے کر آیا ہے کہ ایک نہر لوگوں کے درمیان حائل ہو گئی.اسے عبور کرنے کیلئے کوئی کشتی نہ ملی تو ان کے امیر (افسر) نے حکم دیا کہ ایسا آدمی تلاش کرو جو اس نہر کی گہرائی کو جانتا ہو. چنانچہ ایک بوڑھا آدمی لایا گیا اس بوڑھے شخص نے خوف و تردد کے لہجہ میں کہا کہ مجھے اس کی برودت کا خوف ہے مگر اس امیر نے اس کو جبراً اس نہر میں داخل کرا دیا، ابھی وہ نہر میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس کو اس کی برودت نے پکڑ لیا اور وہ ہائے عمر رضی اللہ عنہ! ہائے عمر رضی اللہ عنہ! کی آوازیں لگاتے ہوئے اس نہر میں ڈوب گیا.بعدازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس علاقہ کے) والی کو طلب کیا، وہ آیا تو

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چند روز تک اس سے منہ پھیرے رکھا، پھر اس سے پوچھا کہ اس آدمی نے کیا قصور کیا کہ تو نے اسے مار ڈالا؟ امیر نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا اے امیرالمومنین! میں نے اس کو قصداً قتل نہیں کیا اور ہمیں اس نہر کو عبور کرنے کیلئے کوئی چیز بھی دستیاب نہ ہوئی. ہمارا مقصود تو یہ تھا کہ اس نہر کی گہرائی معلوم کریں. پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے کارنامے بتانے لگا کہ ہم نے فلاں علاقہ بھی فتح کر لیا اور فلاں بھی فتح کر لیا ہے اور اتنا اتنا مال ہاتھ لگا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تیز لہجے میں فرمایا کہ میری نظر میں ایک مسلمان آدمی کی جان ان تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے جو تو لے کر آیا ہے اگر سنت نہ ہوتی تو میں تیری گردن اڑاتا. جاؤ اس کے ورثاء کو اس کی دیت دو اور یہاں سے نکل جاؤ، میں تجھے نہ دیکھوں.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top