Education

بادشاہ کاسالا ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

کسی میں میں ایک بادشاہ حکومت کیا کرتا تھا وہ بہت انصاف پسند اور رحمدل تھا اس کی رعایا بھی اسے پسند کیا کرتی تھی بادشاہ کی کوئی اولاد نا تھی اور بادشاہ کی رانی خوبصورت تو تھی مگر کم عقلی میں اپنی مثال آپ تھی رانی بادشاہ کو ہر وقت اس بات کے لیے اکساتی رہتی تھی کہ رانی کے بھائی کو وزیر بنا دیا جائے بادشاہ اپنی رانی کی بات سنی ان سنی کر دیتا تھا ایک دن بادشاہ اور رانی محل کے جھروکے میں بیٹھے ہوئے تھے محل سے دور ایک بستی میں شادیانے بج رہے تھے کہ جیسے کسی کی بارات آئی ہو رانینے بادشاہ سے پھر اپنے بھائی کو وزیر بنانے کی بات چھیڑ دی اور ضد کرنے لگی کہ اس کے بھائی کو وزیر بنا دیا جائے بادشاہ بڑے تحمل سے اپنی بیوی کی بات سنتا رہا اور پھر کہا اچھا اپنے بھائی کو بلاﺅ رانی خوش ہوگئی کہ بادشاہ اب اس کے بھائی کو وزیر بنا دے گا اس نے خادمہ کو کہا کہ جلدی سے اس کے بھائی کو بلایا جائے چند لمحوں بعد رانی کا بھائی بھی ہاپنتا ہوا۔

بادشاہ کے حضور حاضر ہو گیا بادشاہ نے رانی کو دیکھتے ہوئے اپنے سالے سے کہا تم وزیر بننا چاہتے ہو سالے نے کہا کہ ہاں بادشاہ نے کہا کہ جاﺅ پتہ کر کے آﺅ کہ سامنے والی بستی میں شادیانے کیوں بج رہے ہیں سالا خوشی خوشی بستی کی جانب بھاگا اور کچھ دیر کے بعد بھاگتا ہوا واپس آیا اور کہا کہ یہ شادیانے کسی کی بارات میں بج رہے ہیں بادشاہ نے پھر کہا کہ جاﺅ پتہ کرو کہ کس کی بارات ہے؟ سالا پھر بھاگتا ہوا بستی کی جانب نکل گیا اور کچھ دیر کے بعد آ کر جواب دیا کہ یہ بارات قمرو کمہار کے بیٹے کی ہے بادشاہ نے پھر سوال کیا کہ جاﺅ پتہ کرو کہ یہ بارات کس گاﺅں سے آئی ہے سالا پھر بھاگتا ہوا بستی کی جانب نکل گیا۔

اور چند لمحوں بعد آکر جواب دیا کہ یہ بارات فلاں گاﺅں سے آئی ہے رانی اس پورے عمل کو غور سے دیکھ رہی تھی اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بادشاہ کیا کرنا چاہ رہا ہے بادشاہ نے پھر سالے سے کہا جاﺅ پتہ کر کے آﺅ کے قمرو کمہار کے بیٹے کی شادی کس سے ہو رہی ہے سالا اب اس عمل سے تھک چکا تھا مگر وزیر بننے کی لالچ میں دوبارہ بستی کی جانب نکل پڑا اور کچھ دیر بعد واپس آکر جواب دیا کہ یہ بارات رشید کمہار کے گھر آئی ہےمسلسل کی بھاگ ڈور سے سالے کی حالت خراب ہو چلی تھی بادشاہ نے اپنے سالے پر رحم کھائے بغیر پھرسوال کیا کہ جاﺅ پوچھ کے آﺅ کہ حق مہر کتنا طے ہوا ہے بمشکل سالا بستی کی جانب چلا اور کافی دیر بعد واپس آکر جواب دیا اب بادشاہ نے اپنے سالے کو ایک جانب کھڑے ہونے کا اشارہ کیا اور اپنے وزیر کو طلب کیا وزیر کے آنے پر بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ جاﺅ جا کر پتہ کرو کہ یہ شادیانے کیوں بج رہے ہیں وزیر فوراً حکم کی تعمیل کے لیے چل پڑا اور کچھ دیر کے بعد بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جواب دینے کی اجازت طلب کی اجازت ملنے پر وزیر نے بتایا کہ یہ شادیانے قمرو کمہار کے بیٹے کی بارات کے ہیں۔

جو فلاں گاﺅں سے آئی ہےقمرو کمہار کے بیٹے کی شادی رشید کمہار کی بیٹی سے ہو رہی ہے اور حق مہر اتنا ہے اور رشید نے اپنی بیٹی کو کیا جہیز دیا ہے یہ بارات آج ہی واپس جائے گی اور رشید کمہار بارات کی تواضع گڑ کے چاول اور اصلی گھی سے کرنے والا ہے وزیر کا جواب سن کر بادشاہ نے اپنی رانی کی جانب دیکھا رانی بہت شرمندہ ہوئی اور آئندہ کبھی اپنے بھائی کو وزیر بنانے کی ضد نہیں کی۔کسی طاقتور کی رشتہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر عہدے کے اہل ہیں اور اہل افراد ہی ملک کا نظام بہترین طریقے سے چلا سکتے ہیں ۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top