Education

بصیرت افروز جواب کی تاثیر اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

تاتاری قوم جس نے عالم اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور جس نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا، شیخ جمال الدین نامی ایک بزرگ کا حکیمانہ جملہ اس قوم کے اجتماعی طور سے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا، چنانچہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں ’’سلطان کاشغر کے مسلمان ہونے کی نسبت جس کا نام تغلق تیمور خان (1327-1347) تھا،لکھا ہے کہ بخارا سے ایک بزرگ شیخ جمال الدین کاشغر آئے اور انہوں نے تغلق تیمور کو مسلمان کیا، شیخ جمال الدین اور ان کے ساتھی ہم سفر تھے کہ نادانستہ تغلق کی شکاری زمین پر ان کا گزر ہوا، بادشاہ نے اس قصور میں ان سب لوگوں کی مشکیں کسوا کر اپنے سامنے طلب کیا، اور نہایت غصہ کی حالت میں ان سے پوچھا کہ تم کیوں ہماری زمین پر بغیر اجازت داخل ہوئے؟ شیخ نے جواب دیا کہ ہم اس ملک میں اجنبی ہیں اور ہم کو مطلق خبر نہ تھی کہ ہم ایسی زمین پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کی ممانعت ہے، بادشاہ کو جب علم ہوا کہ یہ لوگ ایرانی ہیں تو

اس نے کہا ایرانی سے کتا بہتر ہوتا ہے، شیخ نے کہا کہ سچ ہے، اگر دین برحق ہمارے پاس نہ ہوتا تو فی الحقیقت ہم کتے سے بھی بدتر تھے، یہ جواب سن کر تغلق تیمور حیران رہ گیا اور حکم دیا کہ جب ہم شکار سے واپس آئیں تو یہ ایرانی ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں، چنانچہ ایسا ہی ہوا، بادشاہ نے شیخ جمال الیدن کو علیحدہ لے جا کر کہا کہ جو کچھ تم اس وقت کہتے تھے اس کو اب سمجھاؤ،دین برحق سے تمہارا کیا مطلب ہے؟ یہ سن کر شیخ نے اسلام کے احکامات اور ارکان کو ایسے جوش سے بیان کیا کہ تغلق تیمور کا دل جو پہلے پتھر تھا، اب موم کی طرح نرم پڑ گیا، شیخ نے حالت کفر کاایسا مہیب نقشہ کھینچا کہ بادشاہ کو اپنی غلطیوں سے اب تک بے بصیرت رہنے کا یقین ہو گیا،لیکن اس نے کہا کہ اگر اس وقت میں اپنا مسلمان ہونا ظاہر کروں گا تو پھر رعایا کو راہ راست پر نہ لا سکوں گا، اس لئے کچھ عرصہ کے لئے تم سکوت کرو، جب میں اپنے باپ کے ملک اور تخت کا مالک بنوں تو تم اس وقت میرے پاس آنا، چغتائیہ سلطنت چھوٹی چھوٹی عملداریوں میں تقسیم ہو گئی تھی اور برسوں کے بعد تغلق تیمور اس قابل ہوا کہ ان سب عملداریوں کو شامل کر کے پھر قلمرو چغتائیہ کی مثل ایک سلطنت قائم کر دے،اس عرصہ میں شیخ جال الدین اپنے وطن چلے گئے اور یہاں سخت بیمار پڑے،

جب موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے رشید الدین سے کہا ’’تغلق تیمور ایک دن بڑا بادشاہ ہو گا، تم اس وقت اس کے پاس جانا اور میرا سلام پہنچا کر بے خوف و طر بادشاہ کو یاد دلانا کہ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا‘‘ چند سال کے بعد تغلق تیمور نے باپ کا تخت حاصل کر لیا، تو ایک دن رشید الدین بادشاہ کے لشکر میں پہنچا کہ باپ کی وصیت پوری کرے،لیکن باوجود کوشش کے اس کو خان کے دربار میں حضوری نہ ہوئی، آخر کار مجبور ہو کر اس نے یہ تدبیر کی کہ ایک دن علی الصباح تغلق کے خیمہ کے قریب اذان شروع کی، تغلق کی جب نیند خراب ہوئی تو غصہ ہوا، اس نے رشید الدین کو اپنے سامنے بلوایا، رشید الدین آیا اور اپنے باپ کا پیغام اس کو سنایا، تغلق کو پہلے ہی اپنے وعدہ کا خیال تھا وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا، اس کے بعد اپنی رعایا میں اسلام کی اشاعت کی، اس زمانہ میں ان تمام ملکوں کا مذہب اسلام ہو گیا، جو چغتائی بن چنگیز خان کی اولاد کے تسلط میں رہتے تھے.

. .

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top