Education

بندے کی توبہ اور ماضی کے طعنے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

اسلامی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ایک بندہ ساری زندگی رب کی نافرمانی کرتا رہا لیکن زندگی کے آخری ایّام میں پیش آنے والے کسی حادثے یا واقعے نے سوچ کا رُخ تبدیل کر دیا اور وہ ایمان کی طرف لوٹ آیا اور اس کا انجام خیر کے ساتھ ہوا۔ ایک مشہور واقعہ بہت سے احباب نے پڑھا یا سنا ہوگا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص جس نے 99 قتل کیے تھے اسے توبہ کا خیال آیا تو ایک راہب کے پاس گیا کہ اپنی نجات کے لیے کوئی راستہ مل جائے۔

اس راہب نے کہا کہ تمہاری نجات نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر اس نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا کہ جہاں 99 مارے تو سواں بھی سہی۔ پھر وہ دوسری بستی میں ایک اور راہب کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ میں سو بندے قتل کر چکا ہوں میری نجات کی کوئی راہ ہے؟ اس راہب نے اسے ایک نیک بندے کا پتہ بتایا اور اُس کی خدمت میں پہنچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ بندہ تمہاری راہنمائی کر سکے۔ اس شخص نے سفر شروع کیا ابھی وہ آدھے راستے میں ہی تھا کہ اس کی موت کا وقت آ گیا

اب جنت اور جہنم کے فرشتے اسے لینے آ پہنچے اور دونوں گروہوں میں تکرار شروع ہو گئی۔ جنت کے فرشتے کہنے لگے کہ یہ شخص نیکی کی راہ پر چلا جا رہا تھا اس لیے یہ ہمارا بندہ ہے جہنم والے کہنے لگے کہ ابھی تو اس نے کوئی نیک کام ہی نہیں کیا، نہ ہی یہ منزل پر پہنچا ہے، لہٰذا یہ ہمارا بندہ ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرشتوں کے دونوں گروہوں سے فرمایا کہ ایسا کرو اس کے سفر کا فاصلہ ناپ لو، اگر تو یہ منزل کی طرف زیادہ سفر کر چکا ہو تو جنت میں لے جاؤ، ورنہ جہنم میں۔ جب فاصلے کی پیمائش ہونے لگی تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ منزل کی طرف سے سکڑ جا! فرشتوں نے فاصلہ ناپا تو منزل کی طرف کم نکلا اور فیصلہ یہ ہوا کہ یہ شخص جنّتی ہے۔

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top