Education

تخت اور تختے میں بہت معمولی سا فرق ہے۔ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

تخت اور تختے میں بہت معمولی سا فرق ہے۔ محل کے زینے کبھی کبھی زندان میں بھی اترجاتے ہیں۔ بنوعباس کے دور خلافت میں برمکی خاندان کو جو عروج حاصل ہوا وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ خالد برمکی اس خاندان کا بانی تھا جس کے پہلے عباسی خلیفہ عبداللہ سفاح سے مراسم استوار ہوگئے جو تین نسلوں تک جاری رہے.

برمکی خاندان اس وقت خلافت عباسیہ کا مضبوط ترین ستون سمجھا جاتا تھا جن کی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خالد برمکی سے لے کر اس کے پوتوں فضل اور جعفر تک نے اقتدار کے مزے لوٹے۔ برمکی خاندان کا خلیفہ سے الگ اپنا ایک شاندار محل تھا۔ یہ ایرانی النسل خاندان سخاوت میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ کوئی حاجت مند ان کے دروازے سے خالی نہ جاتا تھا۔ یحیٰی برمکی کی بیوی جس کی خدمت میں ہر وقت سینکڑوں کنیزیں حاضر رہتی تھیں وہ بھی سخاوت میں اپنی مثال آپ تھی۔ یہ خاندان عیش وعشرت سے بھرپورزندگی گزار رہا تھا۔

جس طرح کہتے ہیں کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا بالکل برمکی خاندان کی مقبولیت اور شہرت اسے بھی لے ڈوبی۔ شاہی درباروں میں سازشی اور ٹانگیں کھینچنے والے ہر دور میں ہوتے ہیں لہذا اس دور میں بھی ان کی کمی نہ تھی۔ خلیفہ ہارون الرشید اپنے استاد زادوں کی مقبولیت سے خائف ہوا یا پھر بدظن ہوکر اس نے اپنے وزیر جعفر برمکی کو قتل کروادیا اور یحیٰی برمکی جسے وہ باپ کہتا تھا اسے اس کے دوسرے بیٹے فضل سمیت قید میں ڈلوا دیا۔ دوران قید ہی دونوں کا انتقال ہوا۔

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top