Education

تلوار کے سایہ میں معلوماتی تحریر ۔۔۔۔ ضرور پڑھئیے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

زخم کاری تھا اور ایک عام آدمی بھی اب سمجھنے لگا تھا کہ بچنا شاید ممکن نہ ہو ۔ ایسے وقت میں اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے بے ہوشی آ جاتی مگر پھر سنبھل جاتے۔ اگر کوئی معمولی آدمی ہوتا تو دل چھوڑبیٹھتا مگر یہاں تو عزم وہمت کا فلک بوس پہاڑ ہے۔

ایسا شخص ہے جس کی ساری زندگی تلوار کے سایہ میں گزر گئی۔ وہ ہر وقت موت کو گلے لگانے کے لئے تیار رہتا لیکن موت اس سے آنکھیں ملانے سے گھبراتی تھی۔اب وہلمحہ لمحہ موت کی طرف بڑھ رہا ہے مگر طبیعت میں سکینت و وقار ہے۔ سینہ بے کینہ علم و معرفت کے انوار سے منور ہے۔ اپنے خالق و مالک سے ملنے کا شوق کشاں کشاں موت کی وادیوں کی طرف لئے جا رہا ہے ایسے عالم میں یہ فکر نہیں کہ میری اولاد میرے بعد کھائے گی کیا؟ رہے گی کہاں؟ اسے زندگی کی آسائیش میسر آئیں گی یا نہیں؟

فکر صرف اس بات کی ہے کہ میرے اولاد میرے بعد جادہ مستقیم پر باقی رہے گی یا نہیں؟ آنکھیں کھولیں اور حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو مخاطب کر کے فرمایا ” میرے بیٹو! میرا آخری وقت آن پہنچا۔ نبی اکرم ﷺ کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔ ابن ملجم کی تلوار نے ایسا زخم لگایا ہے کہ میری داڑھی خون آلود ہو چکی ہے۔ کان لگا کر میری وصیت سنو اور میری نصیحت کو ساری زندگی حرز جان بنائے رکھنا ۔

خلوت و جلوت میں خوف خدا سے اپنے دلوں کو معمور رکھنا۔ ہر حال میں کلمہ حق بلند کرنا، دوست اور دشمن سب کے ساتھ انصاف کرنا، خبردار! عمل میں کوتاہی نہ کرنا۔ میرے بچو! ہر شے شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں اور مجھے علم ہے کہ میرا خدا قیامت کے دن مجھ سے ان کے بارے میں سوال کرے گا اور محمد ﷺ ان لوگوں کے لئے مجھ سےجھگڑیں گے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں ان کا جواب نہیں دے سکوں گا اس لئے مجھے اپنے معاد پر رحم آیا اور اپنی بے بسی کا تصور کر کے میں رو پڑا۔

خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا یہ جواب سن کر ان کی اہلیہ فاطمہ ؒ کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے یہ عہد کر لیا کہ حتی الوسع وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گی جس کے باعث حشر کے میدان میں ان کے شوہر کو ذلیل و رسوا ہونا پڑے۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ کے اسی احساس ذمہ داری اور تقویٰ شعاری کے باعث علامہ ابن کثیرؒ نے البدایہ و النہایہ میں حضرت سفیان ثوری ؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو بھی خلفائے راشدین میں شمار کرنا چاہئے اور اس بات پر علمائے امت متفق ہیں۔بچپن میں ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز ؒ رو رہے تھے تو ان کی والدہ ماجدہ نے سبب دریافت کیا۔

عمر بن عبدالعزیز ؒ نے کہا ماں! مجھے موت یاد آ گئی تھی ۔ اس موت کو جو ا نہیں بچپن میں یاد آئی تھی عمر بن عبدالعزیز ؒ نے ساری زندگی یاد رکھا اور اس طرح زندگی گزاری گویا ہر لمحہ موت ان کے سامنے کھڑی تھی۔ ابن ہران ؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے انہیں کسی جگہ کا حاکم بنایا اور حکم دیا کہ اگر کبھی تمہیں میرا ایسا حکم ملے جو حق کے خلاف ہو تو اسے زمین پر پٹخ دینا۔

ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک عامل کو لکھا کہ ” اگر تمہارا اقتدار اور طاقت کبھی تمہیں عوام پر ظلم کرنے کی طرف مائل کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ کی طاقت و اقتدار کو یاد کر لینا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے گھر میں دو چراغ تھے۔ جب انہیں سرکاری خطوط لکھنے ہوتے تو سرکاری چراغ جلاتے اور ذاتی کام کرتے وقت ذاتی چراغ جلاتے اور سرکاری چراغ بجھا دیتے۔ انہوں نے کبھی سرکاری چراغ کی روشنی میں اپنے ذاتی کام کے لئے ایک چٹھی بھی نہیں لکھی۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top