Education

حوض کوثر پر بھی میرے رفیق ہو گے؟ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

جب حضورِ اقدسؐ نے سورۃِ برأت کے نازل شدہ احکامات کا داعی و مبلغ بنا کر حضرت علیؓ کو بھیجنا چاہا تو حضرت علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! میں نہ خطیب ہوں اور نہ فصیح اللسان ہوں. آنحضرتؐ نے فرمایا کہ یاتو تم ان احکامات کو لے کر جاؤ یا پھر میں خود جاتا ہوں!حضرت علیؓ نے کہا کہ اگر میرا جانا ہی ضروری ہے تو میں جاتا ہوں.

آنحضرتؐ نے اپنے دست مبارک ان کے منہ پر رکھتے ہوئے فرمایا: ’’جاؤ! اللہ تعالیٰ تجھے راست باز بنائے اور تجھے ثبات و استقلال عطا فرمائے.‘‘ چنانچہ حضرت علیؓ روانہ ہو گئے، حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے جو امیر الحج تھے، آپؓ نے ان سے امارت لی. حضرت ابوبکرؓ خطبہ ارشاد فرماتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے پھر حضرت علیؓ کھڑے ہو کر سورۃ برأت کے نازل شدہ احکامات لوگوں کے

سامنے سناتے رہے.جب حضرت ابوبکرؓ واپس آئے تو حضورؐ سے عرض کرنے لگے: یا رسول اللہؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں. کیا میرے متعلق کوئی بات نازل ہوئی ہے؟ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ نہیں، بات اصل میں یہ ہے کہ میرے سوا کوئی شخص احکامات نہ پہنچائے یا میری طرف سے کوئی آدمی مقرر ہو جو آگے پہنچا دے.

اے ابوبکرؓ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم غار میں بھی میرے ساتھی تھے اور حوض کوثر پر بھی میرے رفیق ہو گے؟ (یہ تسلی سن کر) ابو بکرؓ خوش ہو گئے اور کہنے لگے: کیوں نہیں، یا رسول اللہؐ.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top