Education

خود کُشی کا علاج اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

شاید نَفس و شیطان رُکاوٹ ڈاليں مگر آپ یہ آرٹیکل پورا پڑھ کر اپنی آخِر ت کا بَھلا کیجئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ اُبَیِّ بن کَعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ میں(سارے ورد،وظیفے ، دعائیں چھوڑ دوں گااور) اپنا سارا وقت دُرُود خوانی میں صَرف کرونگا۔ تو سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ــ”یہ تمہاری فِکروں کودُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مُعاف کر دئیے جائیں گے ۔” (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ص۲۰۷حدیث۲۴۶۵دار الفکر بیروت)

لائیں گے میری قبر میں تشریف مصطَفےٰ عادت بنا رہاہوں دُرُود و سلام کی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زبردست جنگجُو

حضرتِ سیّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں: رسولِ ثَقَلَین ، سلطانِ کونَین ، رَحمتِ دارَین، غمزدوں کے دلوں کے چین ،نانائے حَسَنَین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ ہم (غزوۂ) حُنَین میں حاضِر ہوئے ،توا للہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک شخص کے بارے میں جوکہ اسلام کادعویٰ کرتاتھافرمایا: یہ دوزَخی ہے ۔ پھر جب ہم قِتال (یعنی لڑنے) میں مشغول ہوئے تو وہ شخص بَہُت شدّت سے لڑا اور اُسے زخم لگ گیا۔کسی نے عرض کی :یارسولَ اللہ! عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جس کے بارے میں آپ نے کچھ دیر پہلے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے اُس نے آج شدید قِتال کیا اور مرگیا ۔تو نبیِّ ا کرم ،رسولِ مُحتَشَم،شاہِ بنی آدمصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :وہ جہنّم میں گیا ۔قریب تھا کہ بعض لوگ شک میں پڑجاتے کہ دَرِیں اَثنا( یعنی اتنے میں) کسی نے کہا :وہ مرا نہیں تھا بلکہ اُسے شدید زخم لگا تھا اور جب رات ہوئی تو اُس نے اُس زخم کی تکلیف پرصَبر نہ کیا اور خود کُشی کرلی ۔چُنانچِہ ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجودا ت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :اللہُ اکبر ! ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوںـ”۔ پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا تو حضرتِ بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں میں اِعلان فرمادیا کہ ”جنّت میں صِرف مسلما ن داخِل ہوگا اوربے شک اللہ تعالیٰ اِس دین کی تائید کسی فاجِر آدمی سے (بھی ) کروا دیتا ہے”۔ (صَحِیح مُسلِم ،ص۷۰حدیث ۱۷۸ دارابن حزم بیروت، صَحِیحُ البُخارِیّ ج۲ ص۳۲۸ حدیث ۳۰۶۲دارالکتب العلمیہ بیروت )

اس جنگجو کے دوزخی ہونے کے دو اسباب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کفّار کے ساتھ نہایت بے جگری سے لڑنے والے زبردست جنگجو کو جو جہنّمی قرار دیااس کے دو سبب ہو سکتے ہیں (۱) ”خود کشی کرنا ”اِس صورت میں یہ اپنے گنا ہوں کی سزا بھگت کر جنَّت میں جائے گا (۲)”مُنافِق ہونا ”جیسا کہ شارِحِ صحیح مسلم حضرتِ سیِّدُنا مُحیُ الدّین یَحییٰ بن شَرَف نَوَوِی علیہ رحمۃ اللہ القو ی ، خطیبِ بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کے حوالے سے فرماتے ہیں: ”خودکُشی کرنے والا یہ شخص مُنافِق تھا ” ۔ (شرحِ مُسلم لِلنَّوَوِی ج۱ ص۱۲۳دارالکتب العلمیہ بیروت) اس صورت میں وہ ہمیشہ جہنَّم میں رہے گا۔

مفتی شریف الحق صاحب کی شرح

شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی نزھۃ القاری جلد4صَفْحَہ173 پرفرماتے ہیں:یہ شخص حقیقت میں مسلمان تھا یا کافر اس کا فیصلہ مشکل ہے ۔مگر ابتدا ء میں جو فرمایا: لِرَجُلٍ یَدَّعِی الْاِسْلَامَ (یعنی ایک شخص جو اسلام کا دعوی کرتاتھا )اور اَخیر میں جو مُنادی کرائی اس سے بظاہر یہ مُتَبادِر ہوتا(یعنی فوری ذہن میں آتا)ہے کہ یہ حقیقت میں مسلمان نہ تھا اور اخیر میں فرمایا: بے شک اللہ اس دین کی فاجِر انسان سے مدد کرالیتاہے ۔اس فاجر کے معنیٔ مُتَعارِف ( معنیٰ معروف)کے لحاظ سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ حقیقت میں مسلمان تھا کیونکہ عرف میں فاجر کا اِطلاق گناہ گار مسلمان پر ہوتاہے لیکن یہ قطعی نہیں۔قرآنِ مجید میں ہے : (پ۳۰،الانفِطار:۱۴) (ترجَمہ : بے شک کافر جہنَّم میں ہیں ) اور فرمایا : (پ۳۰، اَلمُطَفِّفِین:۷) (ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک کافروں کی نامۂ اعمال سجّین میں ہیں ) جَلالَین میں دونوں آیتوں کی تفسیر ، كُفّار سے کی ہے ۔اس لیے اس حدیث میں بھی فاجر سے اگر کافر مراد لیا جائے تو کوئی اِسْتِبعاد (یعنی بعید)نہیں۔ (نُزْھَۃُ الْقاری،ج۴ ص۱۷۳، فرید بک اسٹال مرکز الاولیاء لاہور)

قَبولیّت کا دارومدار خاتِمے پر ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ بظاہِر کوئی کتنی ہی عبادت ورِیاضت کرے ،دین کی خوب تبلیغ و خدمت کرے ،لیکن اگر دل میں مُنافَقَت اور میٹھے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عداوت ہو تونیکیوں اور عبادت کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ بھی پتا چلا کہ اعمال میں خاتِمے کامکمَّل عمل دَخل ہے ۔چُنانچِہ ”مُسندِ امام احمد بن حنبل ” میں ہے: ”اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِا لْخَوَاتِیْم” یعنی اعمال کا دارومدار خاتِمے پر ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل ج ۸ ص۴۳۴حد یث ۲۲۸۹۸ دارالفکر بيروت)

جنّت حرام ہو گئی

نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم کا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے: ”تم سے پہلی اُمّتوں میں سے ایک شخص کے بدن میں پَھوڑا نکلا جب اس میں سخت تکلیف محسوس ہونے لگی ۔تو اس نے اپنے تَرکَش( یعنی تیردان) سے تِیر نکالا اور پھوڑے کوچِیر دیا ،جس سے خون بہنے لگا اور رُک نہ سکا یہاں تک کہ ِاس سبب سے وہ ہَلاک ہوگیا ، تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے فر مایا: ”میں نے اس پر جنّت حرام کردی۔ ” (صَحِیح مُسلِم ص۷۱حدیث ۱۸۰ دار ابن حزم بیروت) اِس حدیثِ مبارَک کی شَرح میں شارِحِ صحیح مسلم حضرتِ علامہ نَوَ وِی علیہ رحمۃ ُاللہ القَو ی فر ما تے ہیں: ”حدیث ِپاک سے یہ نتیجہ اَخذ کیا جائیگا کہ اس نے جلدی مرنے (یعنی خود کُشی )کیلئے یا بِغیر کسی مَصلحت کے ایسا کیا (اِسی وجہ سے اس پر جنّت حرام فر مائی گئی )ورنہ فائِدے کے غالِب گمان کی صورت میں عِلاج و دوا کیلئے پھوڑا (وغیرہ ) چیرنا( آپریشن) حرام نہیں۔” (شَرحِ مسلم لِلنَّوَوِی ج۱ص ۱۲۷ )
خود کُشی کا معنیٰ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خودکُشی کا معنیٰ ہے ، ”خو د کو ہلاک کرنا ۔” خود کُشی گناہِ کبیرہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ پارہ 5 سورۃُالنّساء ، آیت نمبر29اور30میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یٰاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمْوَالَكُمْ بَیۡنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمْ ۟ وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمْ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ بِكُمْ رَحِیۡمًا ﴿۲۹﴾

ترجَمَۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رِضا مندی کا ہو۔ اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بے شک اللہ (عَزَّوَجَلَّ)تم پر مہربان ہے۔

وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیۡہِ نَارًا ؕ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

اور جو ظلم و زیادَتی سے ایسا کریگا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخِل کریں گے اور یہ اللہ(عَزَّوَجَلَّ )کو آسان ہے ۔
وَلَا تَقْتُلُوْۤ ا اَنْفُسَکُم(یعنی اور اپنی جانیں قتل نہ کرو)کے تَحت حضرتِ علامہ مو لیٰنا سیّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللہِ الہادی” خَزائنُ العِرفان” میں فرما تے ہیں :مسئلہ:اس آیت سے خود کُشی کی حُرمَت (یعنی حرام ہونا ) بھی ثابِت ہو ئی ۔
پارہ2 سورۃُ البقرۃ آیت نمبر195میں ارشادِ ربّانی ہے: ۔

وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡكُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۛ وَاَحْسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۹۵﴾

تر جَمَۂ کنزالایمان :اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور بھلائی والے ہو جاؤ۔ بیشک بھلائی والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ہیں۔ (پ ۲ البقرۃ ۱۹۵)

اِس آیتِ مُقدّسہ کی تفسیر ”خَزائنُ العِر فان” میں یوں ہے:” راہِ خدا عَزَّوَجَل َّمیں اِنفاق ( یعنی راہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں خرچ) کاترک بھی سببِ ہلاکت ہے اور اِسرافِ بے جا (یعنی بے جا فُضُول خرچی ) بھی اور اِسی طرح وہ چیز بھی جو خطرہ وہَلاک کا باعِث ہوان سب سے باز رہنے کا حکم ہے ،حتّٰی کہ بے ہتھیار میدانِ جنگ میں جانا یا زَہر کھانا یا کسی طرح خُودکُشی کرنا ۔”

خود کُشی کے اَعداد و شُمار

افسوس !آج کل خودکُشی کا رُجحان(رُجْ۔حان) بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ ایک اخباری رَپورٹ میں ہے،” جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ”کے فراہَم کردہ اَعداد وشُمار کے مطابق1985؁ میں 35افراد نے خود کُشی کی تھی اور اس کی تعدادبڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ 2003؁ میں 930 افراد نے خود کُشی کی ۔ان وارِداتوں کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کی عمر 16 سے 30سال کے درمیان تھی ۔” ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستا ن” کی رَپورٹ کے مطابِق6ماہ میں یعنی جنوری سے جون 2004؁ کے عرصے میں 1103افراد نے خودکُشی کی کامیاب اور ناکام کوشِشیں کیں، ان میں بچّو ں کا تَناسب 46.5 فیصد تھا!گویا آدھوں آدھ بچّے تھے۔ ان بچّوں نے خودکُشی کیلئے جو طریقے اختیار کئے وہ یہ ہیں : 21 نے زَہریلی گولیاں کھائیں ، 11نے زَہر کھایا، 8 پھندے سے جھُول گئے ، 2 نے خود کوآگ لگا دی ، ایک نَہَر
میں کود گیا ، 9 نے خود کو گولی مار لی، 2 نے تیزاب پیااور ایک نے شہ رگ کاٹ لی ۔ یہ وہ اَعدا د وشُمار ہیں جو انتِظامیہ(یااخبار والوں)کی نظر وں میں آگئے ورنہ بَہُت سار ی وار ِد ا تیں چھُپا دی جاتی ہیں ۔

خود کُشی کے بعض اَسباب

عُمُوماًگھریلوجھگڑوں، تنگدستیوں، قرضداریوں، بیماریوں، مصیبتو ں، کاروباری پریشانیوں اور اپنی پسند کی شادی میں رُکاوٹوں یا امتِحان میں ناکامیوں وغیرہ کے سبب پیدا ہونے والے ذِہنی دباؤ(یعنیTENSION) کے باعِث بعض انتِہائی غُصِیلے اور جذباتی بد نصیب اَفراد خودکُشی کرڈالتے ہیں ۔

سُن لو نقصان ہی ہوتا ہے باِلآ خِر ان کو
نفْس کے واسطے غصّہ جو کیا کرتے ہیں

خودکُشی کی پانچ دردناک وارِداتیں

بعض و ارِداتیں بڑا رِقّت انگیز منظر پیش کرتی ہیں، چُنانچِہ خودکُشی کی اس طرح کی پانچ خبریں آپکے گوش گُزار کرتا ہوں:(۱) روزنامہ جانباز کراچی (جُمعرات5 اگست 2004؁)ماں نے بیٹے کو دولھا بنایا،بارات رخصت کی ، باراتیوں نے بہت کہا ساتھ چلومگر نہیں گئیں اور بعد میں گھر کے تمام تالوں پر چابیاں لگا کر زیور اور رقم وغیرہ کسی کے حوالے کر کے نَہَر میں چھلانگ لگا دی اور دو دن بعد لاش ملی (۲) ”روزنامہ جُرأت” ( 10اگست 2004؁)کی خبر یہ ہے کہ 6 ماہ قبل شادی ہو ئی تھی ، نَوبِیاہتا دلہن روٹھ کر میکے چلی گئی تھی، بیوی کا فِراق برداشت نہ کرنے کی بِنا پر دولہا نے خود کو گولی مارلی(۳)”روزنامہ انتخاب ” (28 اگست 2004؁) کی خبر یہ ہے کہ ایک باپ نے اپنی ایک بیٹی ، دو بیٹوں، اور ان بچوں کی امّی کو قتل کرنے کے بعد خود کُشی کر کے اپنی زندَگی کا خاتِمہ کر دیا۔ ”روزنامہ نوائے وقت” کراچی( 5اگست2004؁)کی دو خبریں ہیں، (۴) ڈِگری (سندھ) میں شادی نہ کرانے پر نوجوان پھانسی چڑھ گیا(۵)باپ نے غصّے میں طمانچہ مارا تو 14 سالہ لڑکے نے خو د کو باتھ روم میں بند کر کے آگ لگا دی ۔ چند ماہ قبل اِسی علاقے میں ایک اور لڑکے نے بُلند عمارت سے کُود کر خودکُشی کر لی تھی۔
خبروں سے نام نکال دینے کی حِکمت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمانوں کو مرنے کے بعد اچّھائی کے ساتھ یاد کرنے کا حدیثِ پاک میں حُکم ہے لھٰذا میں نے خبروں سے نام نکالدیئے ہیں کیوں کہ شَناخت کے ساتھ مسلمان کی خود کُشی کا بِلا ضَرورتِ شَرعی تذکِرہ اُس کی آبرو ریزی ہے جو کہ گناہ ہے ۔ ایک اَن پڑھ آدَمی بھی اِس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ نام و شناخت کے ساتھ خودکُشی کی خبر مُشْتَہَر کرنے سے میِّت کی آبروریزی کے ساتھ ساتھ اُس کے اَہلِ خاندان کی بھی سخت بدنامی اور دل آزاری ہوتی ہے۔ کاش! ہمارے اخبارات والے مسلمان بھائی اِس گناہِ عظیم سے تائِب ہو کر آئندہ باز رَہنے کی ترکیب بنا لیں۔ کبھی آپ کے عَلاقے یا خاندان میں بھی معاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کوئی خود کُشی کر بیٹھے توبِلا اجازتِ شَرعی کسی کو مت بتایا کریں، اگر کبھی یہ گناہ کر بیٹھے ہیں توتوبہ کے شَرعی تقاضے پورے کر لیجئے۔ ہاں شَناخت بتائے بِغیر خودکُشی کرنے والے کااِس طرح تذکِرہ کرنا جائز ہے کہ مخاطَب پہچان نہ سکے۔

مجرِم ہوں دل سے خوفِ قِیامت نکالدو
پردہ گناہ گار کے عَیبوں پہ ڈالدو

ہر دو مِنَٹ میں خود کُشی کی تین وارِداتیں !

گناہوں کی کثرت اور اَحوالِ آخِرت کے مُعامَلے میں جَہالت کے سبب افسو س ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں خودکُشی کا رُجحان(رُج۔حان) بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ایک اخباری رَپورٹ کے مطابِق اگست 2004؁میں پاکستان میں خود کُشی کی 68وارِداتیں ہوئیں جن میں بابُ المدینہ کراچی کا پہلا نمبر رہا جبکہ دوسرا نمبر مدینۃُ الْاولیاء ملتان والوں کا آیا۔ اُسی اَخبار کے مطابِق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں خودکُشی کی ایک وارِدات ہوتی ہے!

کیا خودکُشی سے جان چھوٹ جاتی ہے ؟

خود کُشی کر نے والے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جان چُھوٹ جا ئے گی! حالانکہ اس سے جان چھوٹنے کے بجائے ناراضئ ربُّ ا لعزّت عَزَّوَجَلَّ کی صورت میں نہایت بُری طرح پھنس جاتی ہے۔خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! خود کُشی کا عذاب بردا شت نہیں ہو سکے گا۔

آگ میں عذاب

حدیثِ پاک میں ہے:”جوشَخص جس چیز کے ساتھ خود کُشی کریگا وہ جہنّم کی آگ میں اُسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔ ” (صَحِیحُ البُخارِیّ ج ۴ص ۲۸۹ حدیث ۶۶۵۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اُسی ہتھیار سے عذاب سلَّم کا

حضرتِ سیِّدُنا ثابِت بِن ضَحَّاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ راحتِ قلبِ ناشاد،محبوبِ ربُّ الْعِبادعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد عبرت بنیاد ہے: ” جس نے لوہے کے ہتھیار سے خودکُشی کی تو اسے جہنَّم کی آگ میں اُسی ہتھیار سے عذاب دیا جائیگا ۔ (صَحِیحُ البُخارِیّ ج۱ص ۴۵۹حدیث ۱۳۶۳ د ا ر ا لکتب العلمیۃ بیروت)

گلاگھونٹنے کا عذاب

حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ،سرکارِ دو عالَم ،نورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدَم ، رسُولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ”جس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنَّم کی آگ میں اپنا گلا گُھونٹتا رہے گا اور جس نے خود کونَیزہ مارا وہ جہنّم کی آگ میں خود کو نَیزہ مارتا رہے گا۔ ” (صَحِیحُ البُخارِیّ حدیث ۱۳۶۵ج۱ص۴۶۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

زَخم و زَہر کے ذَرِیعے عذاب

حضرتِ سیِّدُناابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے پیا ر ے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ کے گلشن کے مَہکتے پھول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عبرت نشان ہے:” جو پہاڑ سے گِر کر خودکشی کریگا وہ نارِ دوزخ میں ہمیشہ گرِ تا رہے گااور جو شخص زَہر کھاکر خودکُشی کریگا وہ نارِ دوزخ میں ہمیشہ زَہر کھاتا رہے گا۔جس نے لوہے کے ہتھیار سے خود کُشی کی تو دوزخ کی آگ میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اس سے اپنے آپ کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا ”۔ (صَحِیحُ البُخارِیّ حدیث ۵۷۷۸ ج ۴ ص ۴۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت )
خودکُشی کو جائز سمجھنا کُفر ہے

اِس حدیثِ مبارَک میں خود کُشی کرنے والے کے بارے میں یہ بیا ن ہے کہ ”ہمیشہ عذاب پاتا رہے گا۔” اِس کی شَرح کرتے ہوئے شارِحِ صحیح مسلم حضرتِ سیِّدُنا مُحیُ الدّین یَحْیٰی بن شَرَف نَوَوِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے کچھ اقوال ذِکر فر مائے ہیں :(۱ )جس شخص نے خودکُشی کافِعل حلال سمجھ کر کیا حا لانکہ اس کو خود کُشی کے حرام ہونے کا علم تھا تو وہ کافر ہوجائے گا اورہمیشہ ہمیشہ کیلئے عذاب پاتا رہے گا(کیو نکہ قاعِدہ ہے کہ جس نے کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام مان لیا تو وہ کافِر ہو جائے گا ، یہ اِس صورت میں ہے کہ وہ حرام لِذاتِہٖ ہو اور اس کی حرمت دلیلِ قَطعی سے ثابِت ہواور وہ ضَروریات دین کی حد تک ہو ۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۱۴ ص ۱۴۷) مَثَلاً شراب (خمر)پینا حرامِ قَطعی ہے تو اب اس کو علم ہے کہ شَراب حرام ہے مگر پھر بھی اس کو حلال سمجھ کر پیئے گا تو کافِر ہو جائے گا اِسی طرح زِنا حرامِ قَطعی ہے اگر اس کو کوئی حلال سمجھ کر کریگا تو کافِر ہوجا ئے گا ) (۲) ہمیشہ عذاب میں رَہنے کے دوسرے معنیٰ یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ طویل مدّت تک عذاب میں رہے گا(لہٰذا اگر کسی مسلمان کے بارے میں یہ وارِد ہوکہ وہ ہمیشہ عذاب میں رہے گا۔تو یہاں یہ معنیٰ لئے جائیں گے کہ طویل مدّت تک عذاب میں رہے گا ۔ جیسا کہ مُحَاوَرَۃً کہا جاتا ہے، ” ایک بار یہ چیز خرید لیجئے ہمیشہ کا آرام ہو جا ئے گا۔ ”حالانکہ ہمیشہ کا آرام ممکن نہیں تویہاں ہمیشہ کے آرام سے مُراد طویل مدّت کا آرام ہے)اسی طرح بطورِ دعا کہا جاتا ہے خَلَّدَاللہُ مُلْکَ السُّلْطَانِ (اللہ عَزَّوَجَلَّ بادشاہ کا ملک ہمیشہ سلامت رکھے)یہاں مُراد یہی ہے کہ تادَیر قائم رکھے ۔اِسی طرح ہمارے یہاں بُزُرگوں کیلئے یہ دعائیہ الفاظ مُرُوَّج ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا سایہ ہم گنہگاروں پر قائم و دائم رکھے۔”دائم” کے لفظی معنیٰ اگر چِہ ” ہمیشہ ” ہے مگر یہاں مُراد ” تادیر” یا ” طویل مدّت” ہے۔ بعض عوام اِس جملہ میں ” تادیر قائم و دائم ” کے الفاظ بھی بولتے ہیں مگر یہ غلط العوام ہے یہاں ” دائم ” کے ہوتے ہوئے لفظ”تادیر ” بولنا غلطی ہے (۳) تیسرا قول یہ ہے کہ خودکُشی کی سزا تو یِہی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مؤ منین پر کرم فر مایا اور خبر دے دی کہ جو ایمان پر مرے گا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا (یعنی معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ اگر کوئی گنہگار مسلمان دوزخ میں گیا بھی تو کچھ عر صہ سزا پانے کے بعد بِالآخِر دوزخ سے نکال کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے داخلِ جنَّت کردیا جائے گا) (شرح مسلم لِلنَّوَ وِی ج ۱ ص ۱۲۵ )

سیکنڈ کے کروڑویں حصّے کا عذاب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ چلو بِالآخِر چھٹکارا تو مل ہی جائے گا کچھ عرصہ کا عذاب برداشت کر لیں گے۔ ایسا کہنا کفر ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا جانے والا عذاب اِس قدر شدید ہوتا ہے کہ اُس کو کچھ عرصہ تو کیاخدا کی قسم ! ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصّے کیلئے بھی کوئی برداشت نہیں کرسکتا ۔

مؤمِن کا قید خانہ

یقیناخودکُشی جُرمِ شدید اور اس پرعذابِ مَدید ہے اگر خدانخواستہ کسی کو خودکُشی کرن ے کے وَسوَسے آئیں تو اس کو چاہئے کہ بیان کردہ وعیدات سے عبرت حاصل کرے اور شیطان کے وار کو ناکام بنائے۔ اگر چِہ کیسی ہی پریشانیاں ہوں صبرو رِضا کا پیکر بن کر مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرے۔ یا د رکھیئے ! حدیث ِ پاک میں ہے : ” اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِر” ” دنیا مؤمِن کیلئے قید خانہ اور کافِر کیلئے جنّت ہے۔ ‘ ‘ (صَحِیح مُسلِم ص۱۵۸۲حدیث ۲۹۵۶دار ابن حزم بیروت)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ظاہِر ہے قید خانے میں تکلیفیں ہی تکلیفیں ہو تی ہیں ۔ حضر ت مولیٰنا جلالُ الدّین رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیںـ ؎ـ

ہَسْت دنیا جنّت آں کُفّاررا اَہلِ ظُلم و فِسق آں اَشراررا
بَہرِ مومِن ہَست زِنداں ایں مقام نَیست زِنداں جائے عَیش واِحتِشام

(یعنی کافِروں ،ظالموں، فاسِقوں اورشریروں کیلئے یہ دنیا جنّت ہے جبکہ ایمان والوں کیلئے یہ دنیا جیل خانہ ہے، جیل خانہ عیش وراحت کا مقام نہیں)

االلہ عَزَّوَجَلَّ آزماتا ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ تبارَک وَتعالیٰ مسلمانوں کو امتحانات میں مُبتَلا فرما کر ان کے سَیِّئآت (یعنی گناھوں) کو مٹا تا اور دَرَجات کو بڑھاتا ہے۔ جو مَصائب و آلام پر صَبْر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ االلہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کے سائے میں آجاتا ہے۔ چُنانچِہ پارہ دوسرا، سورۃُ الْبَقَرۃ آیت نمبر 155 تا157 میں ارشاد ربّانی ہے:۔

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیۡءٍ مِّنَ الْخَوۡفِ وَالْجُوۡعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الۡاَمۡوٰلِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۵﴾ۙ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصٰبَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾

تر جَمَۂ کنزُالایمان :اور ضَرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور خوشخبری سنا اُن صَبْروالوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ،ہم اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب(عَزَّوَجَلَّ) کی دُرُودیں ہیں اور رَحمت۔ اوریِہی لوگ راہ پر ہیں۔”

دُور دنیا کے ہوجائیں رنج وَ اَلم، مجھ کو مل جائے میٹھے مدینے کا غم
ہو کرم ہوکرم یا خدا ہو کرم ، واسِطہ اُس کا جوشاہِ اَبرار ہے

بے صبری سے مصیبت دور نہیں ہوتی

آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مصیبتیں دے کر آزماتا ہے تو جس نے ان میں بے صبری کا مظاہَرہ کیا ،واوَیلا مچایا، ناشکری کے کَلِمات زَبان سے ادا کئے یا بیزار ہو کر مَعاذَااللہ عَزَّوَجَلَّ خودکُشی کی راہ لی ،وہ اِس امتِحان میں بُری طر ح ناکام ہوکر پہلے سے کروڑہا کروڑگُنا زائِد مصیبتوں کا سزاوار ہوگیا ۔ بے صبری کرنے سے مصیبت تو جانے سے رہی اُلٹا صَبْر کے ذَرِیْعہ ہاتھ آنے والا عظیمُ الشّان ثواب ضائِع ہو جاتا ہے جو کہ بذاتِ خود ایک بَہُت بڑی مصیبت ہے۔

مُصیبت سے بڑی مُصیبت

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارَک علیہ ر حمۃاللہ المالِک کا فرمانِ عالی شان ہے،”مُصیبت( ابتِداء ً) ایک ہوتی ہے (مگر) جب مُصیبت زدہ جَزَع (فَزَ ع یعنی بے صَبری اور واوَیلا) کرتا ہے تو ( ایک کے بجائے )دو مصیبتیں ہوجاتی ہیں (۱)

ایک تو وُہی مصیبت باقی رَہتی ہے اوردوسری (۲)مصیبت (صَبْرکرنے پر ملنے والے ) اَجْر کا ضائِع ہوجانا ہے اور یہ (اجر ضائِع ہونے والی دوسری مصیبت ) پہلی (مصیبت ) سے بڑھ کر ہے۔ (تنبیہ الغافلین ص ۱۴۳، پشاور) یعنی پہلے پہل مصیبت کا نقصان صِرف دُنیوی ہی تھا مگر صَبْر کی صور ت میں ہاتھ آنے والے عظیمُ الشّان اَجر کا بے صبری کے باعِث ضائِع ہوجا نا اُس سے بھی بڑی مصیبت ہے کہ اِس میں آخِرت کا بَہُت بڑا نقصان ہے ۔

رونا مصیبت کا تُو مت رو، اٰلِ نبی کے دیوانے
کرب و بلا والے شہزادوں ،پر بھی تُو نے دھیان کیا؟

تین سو دَرَجات کی بُلندی

حدیثِ مبارَک میں ہے،” جس نے مصیبت پر صَبْر کیا یہاں تک کہ اس (مصیبت ) کو اچّھے صَبْر کے ساتھ لوٹا دیاا للہ تبا رَکَ وَتعالیٰ اس کے لئے تین سو دَرَ جات لکھے گا ،ہر ایک دَرَجہ کے مابَین(یعنی درمیان) زمین وآسمان کا فاصِلہ ہو گا ۔” ( اَ لْجَامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّص۳۱۷ حدیث ۵۱۳۷،دارالکتب العلمیۃ بیروت )

زخمی ہوتے ہی ہنس پڑنا

ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ٰ تو مُصیبت پر ملنے والے ثواب کے تصوُّر میں ایسے گُم ہوجا تے تھے کہ انہیں مُصیبت کی پرواہ ہی نہ رَہتی جیساکہ منقول ہے،حضرتِ سیِّدُنا فتح مَوصِلی علیہ رحمۃ اللہ الولی کی اَہلیۂ محتر مہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا ایک مرتبہ زور سے گِریں جس سے ناخُن مُبارک ٹُوٹ گیا، لیکن دَرد سے کَراہنے اور ” ہائے ” اُوہ ” وغیرہ کرنے کے بجائے وہ ہنسنے لگیں!! کسی نے پوچھا : کیا زَخم میں دَرد نہیں ہو رہا ؟ فرمایا :” صَبْر کے بدلے میں ہاتھ آنے والے ثواب کی خوشی میں مجھے چوٹ کی تکلیف کا خیال ہی نہ آسکا ۔” (کیمیائے سعادت ج۲ص۷۸۲ انتشارات گنجینہ تہران)

حُجَّۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُناامام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں : ” اگرتُو واقِعی االلہ عَزَّوَجَلَّ کو عظمت والا سمجھتا ہے تو اِس کی نِشانی یہ ہے کہ بیماری میں حَرفِ شِکایت زَبان پر نہ لائے اور مُصیبت آ پڑے تواُسے دوسروں پر ظاہِر نہ ہونے دے ۔ (کیو نکہ بِلاضَرورت اِس کا اظہار بے صَبری کی عَلامَت ہے جیسا کہ آجکل معمولی نَزلہ اور زُکام یا دَرد سر بھی ہو جائے تو لو گ خوامخواہ ہر ایک کو کہتے پِھرتے ہیں)(ایضاً)

سرپہ ٹوٹے گو کوہِ بلا صَبْر کر ،اے مسلماں نہ تُو ڈگمگا صَبْر کر
لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صَبْر کر، کہ یہی سنّتِ شاہِ ابرارہے

مصیبت چھپانے کی بھی کیا خوب فضیلت ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ، نبیِّ مُحتَشَم،شافِعِ اُمَم،صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس کے مال یا جان میں مُصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہِر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلّ َپر حقّ ہے کہ اس کی مغفِرت فرما دے۔” ( مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج ۱۰ ص۴۵۰ حدیث ۱۷۸۷۲)

چُپ کر سِیں تا ں موتی مِلسن، صَبْر کرے تا ہیرے
پاگلاں وانگوں رَولا پاویں ناں موتی ناں ہیرے

کاش! میں مُصیبت زدہ ہوتا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں چاہئے کہ کیسی ہی مصیبت آجائے اس کی اذیّت اور اس کے بڑے ہونے پر نظر رکھنے کے بجائے اس پر ملنے والے ثوابِ آخِرت پر غو رکریں۔اِن شاءَ االلہ عَزَّوَجَلَّ اِ سطرح صَبْر کرنا آسان ہو جائے گا اور اگر ہم صَبْر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بروزِ قِیامت اس کے ایسے عظیمُ الشّان ثواب کے حق دار ہو جائیں گے جس کودیکھ کر لوگ رشک کریں گے ۔ چُنانچِہ اللہ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: جب بروزِ قِیامت اَہلِ بلا (یعنی بیماروں اور آفت زدوں) کو ثواب عطا کیا جائیگا تو عافِیت والے تمنّا کریں گے کہ کاش! دُنیا میں ہماری کھالیں قَینچیوں سے کاٹی جاتیں۔ (سُنَنُ التِّرْمِذِی ج۴ ص۱۸۰حدیث ۲۴۱۰ دارا لفکر بیروت)

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے الفاظ ” کاش! دُنیا میں ہماری کھالیں قَینچیوں سے کاٹی جاتیں” کے تحت فرماتے ہیں :یعنی تمنّا وآرزو کریں گے کہ ہم پر دنیا میں ایسی بیماریاں آئی ہوتیں ،جن میں آپریشن کے ذَرِیعے ہماری کھالیں کاٹی جاتیں تاکہ ہم کو بھی وہ

ثواب آج ملتا جو دوسرے بیماروں اور آفت زدوں کو مل رہا ہے۔(مراٰۃ ،ج۲ص۴۲۴)
مال و دولت کی مجھ کو توکثرت نہ دے تاج و تختِ شہی اور حکومت نہ دے
مجھ کو دنیا میں بے شک تُو شہر ت نہ دے تجھ سے عطّاؔر تیرا طلبگار ہے

روشن قبریں

منقول ہے کہ کسی بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدُناحسن بن ذکوان علیہ رحمۃالرحمن کو ان کی وَفات کے ایک سال بعد خواب میں دیکھا تو اِستِفسار کیا:کونسی قَبریں زِیادہ روشن ہیں ؟فرمایا:” دُنیا میں مصیبتیں اُٹھانے والو ں کی ۔” (تَنبِیہُ المُغتَرِّین ص۱۶۶ دار المعرفۃ بیروت)

کیا کروں لے کے خوشیوں کے سامان کو
بس تِرے غم میں روتا رہوں زار زار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!وہ گُھپ اندھیری قَبْر جسے دنیا کا کوئی برقی بلب روشن نہیں کر سکتا اِن شاءَ االلہ عَزَّو َجَلّ َوہ میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نور کے صدقے پریشان حالوں کیلئے نور نور ہوکر جگمگا اُٹھے گی۔
خواب میں بھی ایسا اندھیرا کبھی دیکھا نہ تھا جیسا اندھیرا ہماری قبر میں سرکار ہے
یارسولَ اللہ آ کر قبر روشن کیجئے ذات بے شک آپ کی تو مَنبعِ انوار ہے

جنّت تکلیفوں میں ڈھانپی ہوئی ہے

اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ مصیبت زدوں کی قبریں روشن ہوں گی اور جنَّت میں مَسکَن بھی ملیگا ۔ جنّت کے طلبگارو! اِس حدیثِ پاک کو سینے میں اُتار لیجئے جس میں سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنشاہِ اَبرارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلّم نے ارشادفرمایاہے: جہنَّم شَہوتوں سے ڈھانپی ہوئی ہے اور جنّت تکلیفوں سے ڈھانپی ہوئی ہے۔ (صَحِیحُ البُخارِیّ ج ۴ ص ۲۴۳حدیث ۶۴۸۷دارالکتب العلمیۃ بیروت )

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے الفاظ ” جہنَّم شہوتوں سے ڈھانپی ہوئی” کے تحت فرماتے ہیں : دوزخ خود خطرناک ہے مگر اس کے راستہ میں بَہُت سے بناوٹی پھول و باغات ہیں ، دنیا کے گناہ، بدکاریاں جو بظاہر بڑی خوشنما ہیں، یہ دوزخ کا راستہ ہی تو ہیں۔اور ” جنّت تکالیف سے ڈھانپی ہوئی” کہ تحت فرماتے ہیں: جنّت بڑا باردار باغ ہے مگر اس کا راستہ خاردار ہے، جسے طے کرنا نفس پرگِراں ہے۔ نَماز ، روزہ ، حج، زکوٰۃ ، جہاد ،شہادت جنّت کا راستہ ہی تو ہیں ، طاعات( یعنی عبادات ) پرہمیشگی، شَہوات سے علیٰحدگی واقِعی(نفس کیلئے) مَشَقَّت کی چیزیں ہیں۔خیال رہے کہ یہاں” شَہوات” سے مُراد حرام خواہشیں ہیں، جیسے شراب، زِنا،سُرُود ( یعنی گانے باجے) حرام کھیل تماشے ، اس میں جائز شہوات داخِل نہیں، اور ”مکارِہ” (یعنی تکالیف ) سے مراد عبادات کی طاعات کی مشقَّتیں ہیں، لہٰذا اس میں خود کُشی و مال برباد کرنا داخِل نہیں۔ ( مراٰۃ المناجیح ج۷ ص ۵،ضیاء القراٰن)

گناہوں کے سبب بھی مصیبت آتی ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُصیبت آنے پر دل کواللہ عَزَّوَجَلّ سے ڈرانے،صَبْر پر استِقامت پانے اور غَلَط قدم اٹھانے سے خود کو بچانے کیلئے توبہ و استِغفار کرتے ہوئے یہ ذِہن بنایئے کہ ہم پر جو مُصیبت نازِل ہوئی ہے اُس کا سبب ہمارے اپنے ہی کرتُوت ہیں جیسا کہ پارہ 25 سورۃُ الشُّوْرٰی کی 30 ویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ ربّانی ہے: وَ مَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡكُمْ وَ یَعْفُوۡ عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾

ترجَمَۂ کنزُالایمان: اورتمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بَہُت کچھ تو مُعاف فرما دیتا ہے۔

تکلیف میں گناہوں کا کَفّارہ بھی ہے

اِس آیتِ مقدّسہ کے تَحت حضرتِ صدرُالْاَ فاضِل حضرت علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی خَزائِنُ العِرفان میں فرماتے ہیں :” یہ خِطا( اُن) مُؤمِنِین مُکَلَّفِین(یعنی عاقِل بالغ مسلمانوں)سے ہے جن سے گناہ سَرزد ہوتے ہیں، مُراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مؤمِنِین کو پہنچتی ہیں اکثر ان کا سبب ان کے گنا ہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفّارہ کر دیتا ہے ۔ اور کبھی مومِن کی تکلیف اُس کے رَفعِ دَرَجات (یعنی بلندیئ دَرَجات) کیلئے ہوتی ہے۔”

صبر کر جسم جوبیمار ہے تشویش نہ کر
یہ مَرَض تیرے گناہوں کو مِٹا جاتا ہے

میں نے تو کسی کو نقصان نہیں پہنچایا !

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی مصیبت آئے ہمیں گھبر ا کر ربُّ العٰلمین جَلَّ جَلَا لُہٗ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں رُجوع کر کے خوب توبہ و اِستِغفار کرنا چاہئے۔ مَعاذااللہ عَزَّوَجَلَّ زَبان تو زَبان دل میں بھی ایسی بات نہیں لانی چاہئے کہ میں نے تو کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، میں تو سب کے ساتھ اچّھائی کرتا ہوں آخِر” کیا خطا مجھ سے ایسی ہوئی ہے جس کی مجھ کو سزا مل رہی ہے!”ایسی نادانی بھری باتیں سو چنے کے بجائے عاجِزی بھرا مَدَنی ذِہن بنایئے،اپنے آپ کو سراپا خطا تصوُّر کرتے ہوئے ہر حال میں خدائے ذُوالجلال عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیجئے کہ میں تو سخت ترین مجرِم ہونے کے سبب شدید عذاب کا حقدار ہوں ، مجھ پر آئی ہوئی مصیبت اگر میرے گناھوں کی سزا ہے تو میں بَہُت ہی سستا چُھوٹ رہا ہوں، ورنہ دنیا کے بجائے آخِرت میں جہنَّم کی سزا ملی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔

میرے اعمال کا بدلہ تو جہنَّم ہی تھا
میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا

(سامانِ بخشِش)

آگ کے بدلے خاک

ایک بارایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سر پر کسی نے طَشت بھر کر خاک ڈال دی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے کپڑوں سے اُس خاک کو جھاڑدیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ لوگوں نے عرض کی:آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شُکرکس بات کا ادا کر رہے ہیں؟ فرمایا: جو آگ میں ڈالے جانے کا مُستحق ہو (یعنی جس کے سر پر آگ ڈالنی چاہئے ) اگر اُس کے سر پر فَقَط خاک ڈالدینے پر اِکتِفا کی جائے تو کیا یہ شکر کا مقام نہیں؟ (کیمیائے سعادت ج۲ ص ۸۰۵ انتشارات گنجیہ تہران)

جب بھی مصیبت آئے نَظَر آخِرت پہ ہو
سرکار! مَدَنی ذِہن دو مَدَنی خیال دو

صَبْر کرنے کا طریقہ

غم غَلَط کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اَنبیاءِ کِرام علیھم الصلٰوۃ و السَّلام اورخُصوصاً سیِّدُالانبیا مدینے والے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر آنےوالے مصائب و آلام یادکئے جائیں ۔چُنانچِہ مَیدانِ طائف میں زخمی ہونے والے مظلوم آقااور میٹھے میٹھے معصوم مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ڈھارس نشان ہے :”جسے کوئی مصیبت پہنچے اُسے چاہئے کہ اپنی مصیبت کے مقابلے میں میری مصیبت یاد کرے کہ بے شک وہ (میری مصیبت)اعظمُ المصائب(یعنی سب مصیبتو ں سے بڑھ کر )ہے ۔ (الجامع الکیبر ، لِلسُّیُوْطِی ج۷ص۱۲۵ حدیث ۲۱۳۴۶دارالفکر بیرو ت)

دکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے
جب سامنے آنکھوں کے سرکار نظر آئے

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top