Education

سیٹھ اور نوکر کی دولت کا فرق اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

یٹھ شکیل کی کئی ملیں اور سٹیل کی فیکٹریاں کے مالک تھے اور دولت کے انبار بنگلے میں لگے رہتے تھے۔ لوگوں میں آپ کی خوب واہ واہ تھی اور بڑی عزت کیا کرتے تھے۔ یوسف آپ کا ایک ادنی سا غلام تھا۔ یوسف بے حد محنتی اور ایماندار تھا۔ سیٹھ صاحب کی آنکھوں کا تارا تھا.

سارا دن سیٹھ صاحب کے چاہنے والے آتے جاتے رہتے اور آپ کی چاپلوسیوں میں ملوث رہتے۔ یوسف ان کی دیکھ بھال اور مہمان داری کرتا رہتا۔ بس رات پڑتے ہی سیٹھ صاحب کا دل بیٹھنے لگتا اور بنگلے کے سارے دروازے کھڑکیاں بند کرتے پھر جا جا کر دیکھتے کہ کہیں کوہی غلطی سے کھلی تو نہیں رہ گئی.

دراصل سیٹھ صاحب نے بہت کچھ تو بینک میں رکھوایا ہوا تھا پر پھر بھی آپ کی تین تجوڑیاں بنگلے میں بھی پنہاں تھیں۔ آپ کو رات چھاتے ہی وسوسے ہونے لگتے اور ساری رات بے سکونی کے عالم میں کروٹیں بدلتے گزرتی۔ دوسری طرف یوسف تھا، سارا دن خوب محنت کرتا تھا اور رات کو گھوڑے بیچ کر سوتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا مکان تھا زندگی بھر کی کمائی جوڑ جوڑ کر بنایا تھا۔ رات بھر کھڑکیاں در کھلے رہتے تھے اور یوسف بے فکر خراٹیں لیتا تھا۔ سچ تو یہ تھا کہ سیٹھ صاحب اس کی شبوں پر رشک کرتے تھے.

ایک رات سیٹھ صاحب بہت تھکے ہوئے تھے انھوں نے سوچا کہ بس بہت ہو گیا، یوسف کو بھی چین سے نہیں سونے دوں گا۔صبح سویرے اس کو بلوا بھیجا۔ وہ حا ضر ہو گیا۔ اس کو ایک ڈبہ نوٹوں سے بھر کر دے دیا اور بولا جا یہ تیرے ہیں۔ وہ ہکا بکا رہ گیا کہ یہ بھلا کیا ماجرا ہے، خیر اس کے مالک نے اپنی خوشی سے دیے تھے تو یوسف نے ہدیہ قبول کر لیا اور اچھلتے ، ناچتے ہوئے ڈبہ اپنے مکان میں رکھ آیا۔ پورا دن کام کاج کرتے ہوئے ناچتا جھومتا رہا.

رات میں جب مکان میں گیا، کھیس اپنے اوپر ڈالا اور سونے لگا تو ایک دم خیال آیا کہ کہیں کوئی گھر میں گھس کر میرے پیسے ہی نا چرا لے۔ جا کر کھڑکیاں دروازے بند کر دیے پھر بھی ایک پل اس بھلے مانس کی آنکھ نہ لگ سکی۔ صبح سویرے اس نے پیسوں کا وہ ڈبہ اٹھایا اور جا کر سیٹھ صاحب کے ویڑے میں ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرنے لگا۔سیٹھ صاحب جاگے تو اٹھ کر ویڑے میں آئے.

ان کو دیکھتے ہی یوسف بولا مالک خدا آپ کو اور مال سے نوازے، بس یہ ڈبہ آپ ہی رکھو۔ میری چین سکون کی زندگی میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ میں سکون اور اطمینان سے سوتا ہوں، یہ بلا ء میری نیند حرام کر دیتی ہے۔ کیا سمجھے، سبق یہ ہے کہ پیسا سب کچھ نہیں خرید سکتا ۔ سب سے بڑی دولت ہے اطمینان اور یہ صرف قناعت ، محنت ، ایمان، توکل اور اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتا ہے، یہ ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا.

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top