Education

صدقہ بلاوں کو ٹال دیتا ہے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

پاہی محل میں پہنچے تو بادشاہ وہی موجود تھا کھسیانے سے ہوکر وہ وہاں سے کھسک لیے قتل گاہ میں آے تو دیکھا سامنے بوڑھا بیٹھا ہے جب کہ نوجوان نو دو گیارہ ہوگیا تھا .

سپاہی ساری صورتحال سمجھ گئے بوڑھے کو گرفتار کرکہ ساراہ ماجرہ سنا دیا بادشاہ نے جو اپنے مرنے کی جھوٹی حبر سنی تو غضبناک ہوکر تحت سے اٹھ کھڑا ہوا” اے بوڑھے تیری اتنی ہمت یسے ہوئی کہ تو نے میری موت کی جھوٹ خبر لوگوں میں پہنچا دی آخر میں نے تیرا بگاڑا ہی کیا تھابوڑھے نے نرم لہجے میں

کہاعالیجاہ ! میرے ایک جھوٹ بولنے پہ آپ پر کوئی آنچ نہیں آئی .لیکن میرے محسن نوجوان کی جان بچ گئ جس کو بے گناہ قتل کیا جارہا تھا جس وقت میں بھوکوں مررہا تھا تب اسی نوجوان کے دیئے ہوے دقے سے میں نے اپنے لیے اور اپنے حاندان کے لیے غذا کا بندوبست کیا تھا . آج اسکو بے گناہ مصیبت میں دیکھکر مجھ سے رہا نھی گیا مجھ میں موجود انسانیت اور جوان مردی نے سر اٹھایا کہ میں اسکی جان بچاو اسی مدد کی حاطر میں نے یہ حیلہ

اپنایا”بادشاہ نے جب یہ سنا تو اس نے اس نوجوان کی تعریف کی اور اس مقدمے کی از سر نو تحقیقات کا حکم دیا، . خوش ہوکر اس بوڑھے فقیر کو انعام او اکرام دیا.اس نوجوان سے جب کوئی پوچھتا کہ تیری جان کیسے بچی؟وہ جواب دیتا”ایک حقیر سی رقم میری کام آئی جو اس سائل کو ضرورت کے وقت میں نے دی تھی”

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top