Education

غُصّے کا علاج اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

غالباًآپ کو شیطان یہ آرٹیکل پور ا نہیں پڑھنے دے گامگر آپ کو شِش کرکے پورا پڑھ کر شیطان کے وار کو ناکام بنادیجئے۔

دُرود شریف کی فضیلت

سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار ،حبيبِ پروَردگار، شفيع روزِ شُمار، جنابِ احمدِ مختار صلَّی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلم کا ارشادِ نور بار ہے: ”میں نے گزشتہ رات عجیب واقِعہ دیکھا ، میں نے اپنے ایک اُمّتی کو دیکھاجوپُل صِراط پر کبھی گِھسَٹ کر چل رہا تھا اور کبھی گُھٹنوں کے بل چل رہا تھا ،اتنے میں وہ دُرُود شریف آیا جو اس نے مجھ پر بھیجا تھا، اُس نے اُسے پُل صِراط پر کھڑا کر دیا یہاں تک کہ اُس نے پل صراط کو پار کر لیا۔

(المعجم الکبیر ج۲۵ ص۲۸۱،۲۸۲ حديث ۳۹ داراحیاء التراث العربی بيروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شیطان کے تین جال

حضرتِ سیِّدُنا فقیہابواللَّیث سمرقندی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ تَنبیہُ الغافِلین میں نقل کرتے ہیں: حضرت ِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کے ایک بُزُرگ ایک بار کہیں تشریف لے گئے۔ راستے میں ایک موقع پر اچانک پتّھر کی ایک چٹان اوپر کی جانب سے سرکے قریب آپہنچی ،اُنہوں نے ذکر اﷲ عزوجل شروع کردیا تووہ دور ہٹ گئی۔ پھرخوفناک شَیر اور درِندے ظاہِر ہونے لگے مگر وہ بُزُرگ نہ گھبرائے اور ذکر اﷲعزوجل میں لگے رہے۔ جب وہ بُزُرگ نَماز میں مشغول ہوئے تو ایک سانپ پاؤں سے لپٹ گیا ،یہاں تک کہ سارے بدن پر پھرتاہوا سر تک پہنچ گیا،وہ بُزُرگ جب سجدہ کا ارادہ فرماتے وہ چِہرے سے لپٹ جاتا، سجدے کیلئے سرجُھکاتے یہ لقمہ بنانے کیلئے جائے سَجدہ پر منہ کھول دیتا۔مگر وہ بُزُرگ اسے ہٹا کرسَجدہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔ جب نَماز سے فارِغ ہوئے توشیطان کُھل کر سامنے آگیا اور کہنے لگا:یہ سار ی حَرَکتیں میں نے ہی آپ کے ساتھ کی ہیں، آپ بَہُت ہمت والے ہیں، میں آپ سے بَہُت مُتأَثِّر ہواہوں،لہٰذااب میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ آپ کو کبھی نہیں بہکاؤں گا،مہربانی فرماکر آپ مجھ سے دوستی کرلیجئے۔ اُس اسرائیلی بُزُرگ نے شیطان کے اس وار کو بھی ناکام بناتے ہوئے فرمایا: تونے مجھے ڈرانے کی کوشِش کی لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ میں ڈرا نہیں ، میں تجھ سے ہر گز دوستی نہیں کروں گا۔بولا: اچّھا ،اپنے اَہل وعِیال کا اَحوال مجھ سے دریافت کرلیجئے کہ آپ کے بعد ان پر کیا گزرے گی۔ فرمایا:مجھے تجھ سے پوچھنے کی ضَرورت نہیں۔ شیطان نے کہا:پھر یِہی پوچھ لیجئے کہ میں لوگوں کو کس طرح بہکاتا ہوں۔ فرمایا : ہاں یہ بتادے ۔ بولا، میرے تین جال ہیں:ــــ (۱)بُخل (۲)غُصّہ(۳) نَشہ۔ اپنے تینوں جالوں کی وَضاحت کرتے ہوئے بولا، جب کسی پر ”بُخْل ” کا جال پھینکتا ہوں تووہ مال کے جال میں اُلجھ کر رَہ جاتاہے اُس کا یہ ذِہن بناتا رَہتا ہوں کہ تیرے پاس مال بَہُت قلیل ہے(اس طرح وہ بُخل میں مبتلا ہو کر)حُقُوقِ واجِبہ میں خرچ کرنے سے بھی باز رَہتا ہے اور دوسرے لوگوں کے مال کی طرف بھی مائل ہوجاتاہے ۔ (اور یوں مال کے جال میں پھنس کرنیکیوں سے دُور ہوکر گناہوں کے دلدل میں اترجاتا ہے) جب کسی پر غُصّہ کا جال ڈالنے میں کامیاب ہوجاتا ہوں تو جس طرح بچے گیند کو پھینکتے اور اُچھالتے ہیں، میں اس غُصیلے شخص کو شیاطین کی جماعت میں اسی طرح پھینکتا اور اُچھالتا ہوں ۔غُصیلا شخص علم وعمل کے کتنے ہی بڑے مرتبے پر فائز ہو،خواہ اپنی دعاؤں سے مُرد ے تک زندہ کرسکتا ہو ،میں اس سے مایوس نہیں ہوتا، مجھے اُمّید ہوتی ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ غُصّہ میں بے قابو ہوکر کوئی ایساجُملہ بک دے گا جس سے اس کی آخِرت تبا ہ ہوجائے گی۔رہا ”نَشہ ”تو میرے اس جال کا شکاریعنی شرابی اس کو تومیں بکری کی طرح کان پکڑ کر جس بُرائی کی طرف چاہوں لئے لئے پھرتا ہوں۔ اِس طرح شیطان نے یہ بتادیا، کہ جو شخص غُصّہکرتا ہے وہ شیطان کے ہاتھ میں ایسا ہے، جیسے بچّوں کے ہاتھ میں گیند ۔ اس لیے غُصّہ کرنے والے کو صَبْر کرنا چاہیے ، تاکہ شیطان کا قیدی نہ بنے کہ کہیں عمل ہی ضائع نہ کر بیٹھے ۔ (تنبیہ الغافلین ص۱۱۰پشاور)

اکثر لوگ غُصّہ کے سبب جہنَّم میں جائیں گے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس بُزُرگ کی گفتگو میں شیطان نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ غُصیلا انسان شیطان کے ہاتھ میں اس طرح ہوتاہے جیسے بچّوں کے ہاتھ میں گیند۔ لہٰذا غُصّہ کاعلاج کرناضَروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غُصّہ کے سبب شیطان سارے اعمال برباد کروا ڈالے۔کیمیائے سعادت میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں : ”غُصّہ کا علاج اور اس باب میں محنت و مشقت برداشت کرنا فرض ہے ،کیونکہ اکثر لوگ غُصّے ہی کے باعث جہنَّم میں جائیں گے۔”

(کیمیائے سعادت ج ۲ ص ۶۰۱ انتشا رات گنجینہ تہران) سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ، اے آدمی! غُصّہمیں تو خوب اُچھلتا ہے ،کہیں اب کی اُچھال تجھے دوزخ میں نہ ڈال دے۔(احیاءُ العلوم ج۳ص۲۰۵دارصادربیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غُصّے کی تعریف

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں: ”غَضَب یعنی غُصّہ نفس کے اُس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دَفع (دور)کرنے پر اُبھارے۔”
(مرأۃ المناجیح ج۶ ص۶۵۵ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور)

”غُصّے سے ربِّ پاک کی پناہ” کے سولہ حُرُوف کی نسبت سے غُصّے سے جَنَم لینے والی16 بُرائیوں کی نشاندہی

غُصّہ کے سبب بَہُت ساری برائیاں جنم لیتی ہیں جو آخِرت کیلئے تباہ کُن ہیں مَثَلًا :

(۱)حسد (۲) غیبت (۳)چغلی (۴)کینہ (۵)قَطع تعلُّق (۶) جھوٹ(۷)آبروریزی (۸)دوسرے کوحقیر جاننا(۹) گالی گلوچ (۱۰) تکبُّر(۱۱)بے جا مار دھاڑ (۱۲) تَمسخُر(یعنی مذاق اُڑانا) (۱۳) قَطعِ رِحمی (۱۴)بے مُرُوَّتی(۱۵) شُماتَت یعنی کسی کے نقصان پر راضی ہونا (۱۶) اِحسان فراموشی وغیرہ۔ واقِعی جس پرغُصّہ آجاتا ہے ،اُس کا اگر نقصان ہوجائے تو غُصّہ ہونے والا خوشی محسوس کرتاہے ،اگر اُس پرکوئی مصیبت آتی ہے تو یہ راضی ہوتا ہے،اس کے سارے اِحسانات بھول جاتاہے اور ا س سے تعلُّقات ختم کردیتاہے۔ بعضوں کا غُصّہ دل میں چُھپا رَہتا ہے اور برسوں تک نہیں جاتااسی غُصّہ کی وجہ سے وہ شادی غمی کے مواقِع پر شرکت نہیں کرتا ۔بعض لوگ اگر بظاہر نیک بھی ہوتے ہیں پھر بھی جس پرغُصّہ دل میں چُھپا کر رکھتے ہیں،اس کا اظہار یوں ہوجاتاہے کہ اگر پہلے اس پر اِحسان کرتے تھے تو اب نہیں کرتے ، اب اُس کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش نہیں آتے، نہ ہمدردی کا مُظاہَرہ کرتے ہیں،اگر اس نے کوئی اجتِماعِ ذکرونعت وغیرہ کا اِہتِمام کیاتو مَعاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ محض نفس کیلئے ہونے والی ناراضگی اورغُصّہ کی وجہ سے اس میں شرکت سے اپنے آپ کو محروم کرلیتے ہیں ۔ بعض رشتے دار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ آدَمی لاکھ حُسنِ سُلوک کرے مگر وہ راہ پر آتے ہی نہیں ،مگر ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔”جامِعِ صغیر ”میں ہے: صِلْ مَنْ قَطَعَکَ یعنی ”جو تجھ سے رِشتہ کاٹے تو اس سے جوڑ۔” (الجامع الصغيرللسیوطی ص۳۰۹حديث ۵۰۰۴ )
مولیٰنارُومی فرماتے ہیں ؎

تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی

(یعنی تو جوڑ پیدا کرنے کیلئے آیا ہے توڑ پیدا کرنے کیلئے نہیں آیا۔ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غُصّے کا عَمَلی علاج

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غصے کا عملی علاج اس طرح ہوسکتا ہے کہ غُصّہ پی جانے اور درگزر سے کام لینے کے فضائل سے آ گاہی حاصل کرے ، جب کبھی غُصّہ آئے ان فضائل پر غور وفکر کرکے غُصّے کو پینے کی کوشِش کرے۔ بخاری شریف میں ہے ، ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں عرض کی ، یارسولَ اﷲ ! عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے وصیّت فرمائیے۔ ارشاد فرمایا:”غُصّہمت کرو۔” اس نے باربار یِہی سُوال کیا ۔ جواب یِہی ملا: ” غُصّہ مت کرو۔” (صحیح البخاری ج۴ص۱۳۱ حديث ۶۱۱۶ )

جنت کی بشارت

حضر ت ِسیِّدُناابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ میں نے عرض کی ،یارسول اللہ! عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیے جو مجھے جنَّت میں داخِل کر دے؟ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ” لَا تَغْضَبْ وَلَکَ الْجَنَّـۃُ ” یعنی غُصّہ نہ کرو، تو تمہارے لئے جنَّت ہے۔ (مجمع الزوائد،ج۸،ص۱۳۴حدیث ۱۲۹۹۰ دارالفکر بیروت)
طاقتور کون؟

طاقتور کون؟

بخاری میں ہے:” طاقتور وہ نہیں جو پہلوان ہو دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جوغُصّہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔”

(صحیح البخاری ج۴ص۱۳۰ حديث ۶۱۱۴ دارالکتب العلمیۃبيروت)

غُصّہ پینے کی فضیلت

کَنزُالْعُمّال میں ہے:سرکارِ مدینہئ منوَّرہ،، سلطانِ مکّہ مکرَّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ معظم ہے: جوغُصّہ پی جائے گاحالانکہ وہ نافِذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللّٰہ عَزَّوَجَل قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے معمور فرمادےگا۔(کنزالعُمّال ج۳ص۱۶۳حديث۷۱۶۰ دارالکتب العلميةبيروت)
غُصّے کا ایک علاج یہ بھی ہے کہغُصّہ لانے والی باتوں کے موقع پر بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین کے طرز ِعمل اور ان کی حِکایات کو ذِہن میں دوہرائے :

سات ایمان افرو ز حکایات

حکایت ۱:کیمیا ئے سعادت میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نقل فرماتے ہیں:کسی شخص نے حضرتِ امیرُالْمُؤمِنِین سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سخت کلامی کی۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے سرجھکا لیا اور فرمایا:”کیاتم یہ چاہتے ہوکہ مجھے غُصّہ آجائے اورشیطان مجھے تکبراور حکومت کے غُرور میں مبتَلا کرے اور میں تم کو ظلم کا نشانہ بناؤں اوربَروزِ قِیامت تم مجھ سے اِس کا بدلہ لو مجھ سے یہ ہر گز نہیں ہوگا” ۔یہ فرما کر خاموش ہوگئے ۔ (کیمیائے سعادت ج۲ص۵۹۷انتشا رات گنجینہ تہران)

حکایت۲: کسی شخص نے حضرت ِ سیِّدُناسلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالی دی۔ اُنہوں نے فرمایا: ”اگر بروزِقِیامت میرے گناہو ں کاپَلّہ بھاری ہے تو جو کچھ تم نے کہا میں اُس سے بھی بدتر ہوں اور اگر میرا وہ پَلّہ ہلکا ہے تو مجھے تمہاری گالی کی کوئی پرواہ نہیں ۔” (اتحاف السادۃ المتقین ج۹ص۴۱۶ دارالکتب العلمیۃبيروت)

حکایت۳:کسی نے حضرت ِسیِّدُنا شیخ رَبیع بن خُثَیْم(خُ۔ثَیْم) رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو گالی دی ۔آ پ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے تیرے کلام کو سُن لیا ہے میرے اور جنَّت کے درمِیان ایک گھاٹی حائل ہے میں اُسے طے کرنے میں مصروف ہوں اگر طے کرنے میں کامیاب ہوگیا تو مجھے تمہاری گالی کی کیا پرواہ ! اور اگر میں اسے طے کرنے میں ناکام رہا تو تمہاری گالی میرے لئے ناکافی ہے۔” (ایضاً)

حکایت۴: امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی نے گا لی دی ، ارشاد فرمایا:”میرے تو اس طرح کے اور بھی عُیُوب ہیں۔جو اللہ تعالیٰ نے تجھ سے پوشیدہ رکھے ہیں۔ (احیاءُ العلوم ج۳ص۲۱۲دارصادربیروت)

حکایت۵:کسی شخص نے سیِّدُنا شَعبی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کو گالی دی آپ نے فرمایا :اگرتُوسچ کہتاہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری مغفِرت فرمائے اور اگرتُو جھوٹ کہتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تیری مغفِرت فرمائے ۔” (احیاءُ العلوم ج۳ ص ۲۱۲ دار صادر بیروت )

حکایت۶:حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کی گئی،حُضور!فُلاں آپ کوبُرا بھلا کہہ رہا تھا۔ فرمایا: خدا کی قسم ! میں تو شےطان کو ناراض ہی کروں گا،پھر دُعاء مانگی،یا اللّٰہ عَزَّوَجَلّ ! اس شخص نے میری جو جو بُرائیاں بیان کیں اگروہ مجھ میں ہیں تو مجھے مُعاف فرمادے اور میری اِصلاح فرما ۔ اور اگر اِس نے مجھ پر جھوٹے الزامات رکھے ہیں تو اس کومُعافی سے نوازدے ۔
حکایت۷:ایک شخص سیِّدُنابکر بن عبدا ﷲ مُزنی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کو سرِ عام بُرا بھلا کہے جارہا تھا مگر آپ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ خاموش تھے ۔کسی نے عرض کی، آپ جوابی کاروائی کیوں نہیں فرماتے ؟ فرمایا:”میں اس کی کسی بُرائی سے واقِف ہی نہیں جس کے سبب اسے بُرا کہہ سکوں ،بُہتان باندھ کرسخت گنہگار کیوں بنوں!” سبحٰن اﷲ! عزوجل یہ حضراتِ قُدسِیَّہ کتنے بھلے انسان ہوا کرتے تھے اورکس اَحسَن انداز میں غصے کا علاج فرمالیا کرتے تھے۔انہیں اچّھی طرح معلوم تھا کہ اپنے نفس کے واسطے غُصّہ کرکے مدِّمُقابِل پر چڑھا ئی کرنے میں بھلائی نہیں ہے ۔

سن لو نقصان ہی ہوتا ہے بِالآخِر ان کو
نفس کے واسِطے غُصّہ جو کیا کرتے ہیں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top