Education

قبرِستان کی چُڑیل اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

شیطٰن لاکھ سستی دلائے مگر اس آرٹیکل کا اوّل تا آخِرضَرور مطالعہ فرمائیں

دُرُود شریف کی فضیلت

عاشقِ اعلیٰ حضرت ،امیرِ اَہلسنّت، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نقْل فرماتے ہیں،”بروزِ قیِامت لوگوں میں سے میرے قریب تَر وہ ہوگا جس نے دنیا میں مجھ پر زیادہ دُرُودِپاک پڑھے ہونگے۔

(سنن الترمذی،کتاب الوتر ،باب ماجاء فی فضل الصلوٰۃ علی النبی ،الحدیث۴۷۴، ج۲ ص۲۷ مطبوعہ ملتان)

صلّوا علَی الْحبيب! صَلَّی اللہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

قَبْرِستان کی چُڑیل

حیدر آباد (بابُ الا سلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی نے کچھ اس طرح بتایا کہ ہمارا گھر قبرِستان کے اتنا قریب ہے کہ اگر کوئی اس کی چھت سے کوئی قبرِستان میں اترنا چاہے تو اتر سکتا ہے۔میرے چھوٹے بھائی (عمر تقریباً22برس) کے ساتھ عجیب معاملہ پیش آیا ،اسی کا بیان کچھ اس طرح سے ہے :
” ایک رات جب گرمی کے باعِث گھر والے چھت پر آرام کررہے تھے۔ میری تقریباً2:00بجے شب آنکھ کھلی۔ اچانک میری نظر قبرِستان کی دیوار کے قریب ایک دَرَخت پر پڑی تو مجھے وہاں کسی کی موجودَگی کا احساس ہوا،میں چونک کر اُٹھ بیٹھا۔ ہر طرف خوفناک سناٹا چھایا ہوا تھا،ہوا کی سرسراہٹ، درختوں کے پتوں کی کھڑ کھڑاہٹ اور کتّوں کے بھونکنے کی آوازیں ماحول کو مزید وحشتناک بنا رہی تھیں۔ بہرحالمیں نے جب قبرِستان کے درخت کی طرف غور سے دیکھا تو اس پر بیٹھی ہوئی سفید کپڑوں میں ملبوس ایک حسین و جمیل لڑکی میری جانب دیکھ کر مسکرارہی تھی۔میں نے اتنی حسین لڑکی زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔میں اُس کے حُسن میں ایسا گم ہوا کہ مجھے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔ میں اسی کیفیت میں اُٹھا اور چھت پر چلتے ہوئے اس دَرَخت کی طرف بڑھنے لگا۔ جوں ہی میں اس کے قریب پہنچا،یکایک وہ پُر اَسرار لڑکی غائب ہوگئی۔ اُس کے اِس طرح غائب ہوجانے کی وجہ سے مجھ پر شدید خوف طاری ہوگیا، میں ڈر کے مارے تھر تھر کانپنے لگا اور بالآخربے ہوش ہوگیا۔

صبح گھر والوں نے مجھے سنبھالا۔ اب میری عجیب وغریب حالت ہوگئی۔مجھے اپنے آپ کا ہوش نہ تھا ،میرے گھر والوں کا کہنا ہے:” میں گھر سے بھاگنے کی کوشِش کرتا، بہکی بہکی باتیں کرتا، گھنٹوں چھت پربیٹھا رہتا،ڈاکٹر نیند کی دوا دیتے تو سوجاتا پھر جب بیدار ہوتا توپھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔ ” سارے گھر والے پریشان تھے کہ آخِر اچانک مجھے کیا ہوگیا ہے؟ اسی حالت میں کم و بیش 15دن گزر گئے ۔

میری خوش نصیبی کہ ایک دن کسی اسلامی بھائی نے پھول کی ایک پتّی میرے بڑے بھائی کو دی اور کہا کہ یہ اُس ہار کے پھول کی پتّی ہے جو امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کو ربیع النور شریف کے جلوسِ میلاد میں پہنایا گیا تھا،آپ اپنے آسیب زدہ بھائی کوکِھلادیں اِن شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّسب بہتر ہوجائے گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے جیسے ہی پھول کی پتّی کھائی، مجھے ایسا لگا جیسے میرے جسم سے کوئی چیز نکل کر بھاگی ہو۔وہ دن اورآج کا دن ، تقریباًایک سال ہونے والا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میری طبیعت دوبارہ خراب نہیں ہوئی۔ (اُن کے بڑے بھائی کے تأثرات کچھ یوں ہیں کہ) ایک ولیِ کامل سے نسبت رکھنے والے پھول کی پتی کی بَرَکت سے نہ صرف میرے بھائی کو”قبرِستان کی چڑیل” سے نَجَات ملی، بلکہ میرے بھائی کے احساس ِ ذمہ داری اور ذہانت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
معلوم ہوا کہِاَللہ عَزَّوَجَل کے ولیوں سے نسبت رکھنے والی اشیاء میں بہت تاثیر ہوتی ہے۔اور یہ بھی پتہ چلا کہ شریرجنات مختلف روپ میں آکر مسلمانوں کو ستاتے ہیں ۔بلکہ بسااوقات توانسانی جسم میں ظاہر ہوکر خود کو کسی بزرگ کے نام سے بھی منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں ،بیماریوں کا علاج بتاتے ہیں وغیرہ،اسی کو فی زمانہ ”حاضری ”کا نام دیا جاتاہے ۔چنانچہ ہمارے معاشرے میں آج کل جگہ بہ جگہ”حاضِرات”کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ بعض مَقامات پر مرد یا عورت کو ”حاضری” اور پھر کسی بُزُرگ کی ”سُواری ” آتی ہے حتّٰی کہ مَعاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ” غوث ِپاک رضی اللہ عنہ”کی سُواری آنے کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے۔ مثلاً ”حاضری” میں مُبتلا عورت اب اِس طرح ہم کلام ہوتی ہے کہ ”ہم غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ہیں ،ہم سے پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو!” پھر مجمع میں سے لوگ سُوالات کرتے ہیں اور جوابات دئيے جاتے ہیں، علاج تجویز ہوتے ہیں وغیرہ ۔

جنّ کی کا رستا نی

ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ پنجاب کے کسی شہر میں ایک عورت پر اِسی طرح حاضری کا سلسلہ شروع ہوا اور اُس میں ظاہر ہونے والا جنّ کہتا کہ” ہم الیاس قادِرِی ہیں ”کراچی میں رہتے ہیں ، یہاں نیکی کی دعوت دینے کیلئے آئے ہیں۔لوگ متاثر ہورہے تھے کہ ہمارے یہاں زمانے کے ولی کی آمد ہوگئی ہے، جبکہ دَر حقیقت یہ سارے جھوٹے دعوے کسی شریر ،جھوٹے جِنّ کی کارستانی تھی جو اَمیرِاَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا نام لے کر اپنی بُزُرگی کا سکہ جمانا چاہتاتھا۔ معلوم ہوا کہ جنّات مشہور لوگوں کا نام استعمال کرکے بھی لوگوں کومتاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ ”انسان” کسی دوسرے ”انسان”کے جسم میں حُلول نہیں کرتا، ذراسوچئے تو سہی!وہ بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہ جنہوں نے عُمْر بھر”پردہ ”کی تعلیم دی اور اب بعدِ وفات کیسے ممکن ہے کہ وُہی بُزُرگ بے پردہ عورتوں کے جسْم میں داخِل ہوکر تماشا دکھانے لگیں۔

امیرِ اَہلسنّت مدظلہ العالی اور جھوٹا جنّ

امیرِ اَہلسنّت دامَتَ بَرَکاتُہُمُ العالیہ اپنے رسالے” جنات کی حکایات” میں تحریر فرماتے ہیں کہ” مجھے کسی نے بتایا کہ فُلاں صاحِب پر ”ایک بابا”کی ”سُواری”آتی ہے اور وہ ”بابا”آپ دامَتَ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے بارے میں بہت حسنِ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں آپ بھی کبھی چلیں ۔مگر عُلَمائے اَہلِ سُنّت کی نَعلین کے صَدْقے مجھے ان ”حاضِریوں”کا راز اچھی طرح معلوم تھا۔ خیر میں وہاں گیا۔”بابا”نے وہاں بڑی رُونق جما رکھی تھی۔ خوب دُرود خوانی اورمَحفلِ میلاد کے سلسلے تھے ،جس کی وجہ سے ضَعیفُ الاِعْتِقاد لوگوں کی ”سمجھ” میں آجاتا ہے کہ واقعی یہ کوئی بُزُرگ ہی ہیں جبھی تو نیکیاں کروارہے ہیں۔ وہ ”بابا”کی حاضِری کا وقت نہیں تھا مگر مجھ پر چُونکہ خصوصی ”نظرِ کرم”تھی اِس لئے جِن صاحب پر سُواری آتی تھی وہ مجھے ایک الگ کمرے میں لے گئے۔ ”بابا”کی تشریف آوری کا اندازبھی خوب تھا یعنی جن صاحب پر ”سُواری” آتی تھی اُنہوں نے ایک دم اپنا بدن تھرکانا اور پَھڑکانا شروع کردیا۔ چہرہ عجیب ڈراؤنا سا ہوگیا۔ عجیب عجیب آوازیں نکلنی شروع ہوئیں کہ اگر کوئی کمزور دل کا آدمی ہو تو بابا کی آمد کی تنہائی میں ”تجلیات” دیکھ کر شاید چیخ مار کر بے ہوش ہوجائے یا سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑا ہو۔ خیر میں ہمّت کرکے بیٹھا رہا جب ”بابا” کی سُواری”مُسلّط”ہوچکی تو ”بابا”نے اپنا تعارف کچھ اسطرح کروایا کہ ”ہم بغداد شریف سے آتے ہیں اور جنابِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے قدموں میں ہمارا مزار ہے” میں نے پوچھا آپ انسان ہیں یا جنّ؟ تو کہا”بشر”(یعنی انسان) انہوں نے اپنے آپ کو عَرَبیُّ ا للّسان بُزُرگ ظاہر کیا لیکن حالت یہ تھی ،دو تین با ر ایک ”عَرَبی دعا” پڑھی اور مجھے بھی پڑھنے کی تلقین فرمائی ،دعا تو میں بھول گیا ہوں مگر یہ اچّھی طرح یاد رہ گیا ہے کہ وہ ”اَغِثْنِی” کو بار بار ”اَغْثِنِی” کہتے تھے۔بَہَرحال اختتِام پر میں نے اُن کو دعوت دی کہ آپ ان صاحِب کی وَساطت سے نہیں تنہا کبھی تشریف لائیں پھر با ت ہوگی۔ تواُنہوں نے مجھ سے وعدہ فرمایا، ہم آئیں گے۔۔۔۔۔۔ہم آئیں گے ۔۔۔۔۔۔میں نے کہا کب تشریف لائیں گے ؟ تو پھر وہ ، ہم آئیں گے ۔۔۔۔۔۔ہم آئیں گے ۔۔۔۔۔۔کہتے ہوئے تشریف لے گئے۔رخصت کا انداز بھی نرالا تھا یعنی ان صاحِب نے کچھ جھٹکے کھائے اور پھر”نارمل”ہوگئے۔ جب میں کمرے سے باہر آیا تو مجھ سے لوگوں نے رائے دریافت کی تو میں نے عرض کردیا کہ ”یہ جنّ تھا، جو جاہل اور جھوٹا تھا۔”
بَہَر حال جو مسلمان بُزُرگوں کی ” سُواری”کے دعوے کرتے ہیں بعض اوقات بے قُصُور بھی ہوتے ہیں کہ ان پر جنّ مُسَلط ہوجاتے ہیں اور وہ جنّ بُزُرگ اور بابا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
وَسْوَسہ : وہ ”بابا” تو نَماز ،روزہ اور اَوْرَاد و وَظائف کے مشورے دیتے ہیں پھر غَلَط کیسے ہوسکتے ہیں ؟
جوا بِ وَسْوَسہ: جس طرح بعض انسانوں کو بھیڑ کرنے میں لُطف آتاہے اسی طرح بعض جنّات کو بھی مجمع کرنے میں مزا آتا ہے اور وہ نیکی کے کام بتاکر لوگوں کی بھیڑ جماتے ہیں۔ تفسیر”فتح العزیز” میں ہے۔مُنافِق جنّات اپنے آپ کو کسی بُزُرگ کے نام سے مشہور کرکے اپنی تعظیم و تکریم کرواتے اور اپنے پوشیدہ مکر وفریب سے لوگوں کی خرابی کے درپے رہتے ہیں۔بعض مَقامات پر ”بُزُرگ کی حاضِری” کا دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ ”حاضِرات” میں براہِ راست جِنّ ہی کلام کرتا ہے اور لوگ ان سے سُوالات پوچھتے ہیں اور جنّات جوابات دیتے ہیں۔

اعلٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مُبارَک فتویٰ

اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنت ،مجددِ دین وملت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :
” حاضِرات کرکے مُوَکَّلَان جِنّ سے پوچھتے ہیں فُلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فُلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟یہ حرام ہے۔”(مزید آگے چل کر فرماتے ہیں) ”تو اب جنّ غیب سے نِرے جاہل ہیں ان سے آئِندہ کی بات پوچھنی عَقْلاً حَماقت اور شرعاً حرام اور اُن کی غیب دانی کا اِعتِقاد ہو تو کُفْر۔”(فتاویٰ افریقہ،ص۱۷۷)

عامِل اور سائِل دونوں مُتَوجہ ہوں

اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ اسی ”فتاویٰ افریقہ” کے سوال نمبر ۱۰۲ کے جواب کے دوران فرماتے ہیں،”غیب کا علم یقینی بے وَساطَتِ رسول علیہ السلام کسی کو ملنے کا اعتقاد (یعنی عقیدہ رکھنا)کُفْرہے۔”
اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے ،

عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ

ترجمہ کنزالایمان :غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مُسَلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(الجن:۲۶،۲۷)
مُفَسِّرینِ کِرام فرماتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مخصوص رسولوں کو علمِ غیبِ خاص سے نوازتا ہے ۔ اَولیائے کرام رحمہم اللہ کو جو علمِ غیب ہوتا ہے وہ وانبِیاء علیہم السلام ہی کی وَساطَت (یعنی وَسیلہ) اور فیض سے ہوتا ہے ۔(روح البیان،پ۲۹،الجن :۲۶،۲۷،ج۱۰،ص۲۰۱)
اَلْحاصِل کسی غیب کے معاملے میں علمِ یقینی اللہ عَزَّوَجَل کے بتانے سے نبی علیہ السلام کو ہوتا ہے اور نبی علیہ السلام کے فیض سے وَلی کو ۔
(امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ لکھتے ہیں) رہے عامِل صاحِبان تو ان کا یہ کہنا کہ ”جادو” ہے یا فُلاں نے کروایا ہے یا”آسیب”ہے یا اسی طرح کے دیگر معاملات کی معلومات کے ذرائع ان کے پاس عَملیات ہیں یا جنّات اور قرآن و حدیث کی رُو سے اسطرح کے ذرائع سے غیب کی یقینی خبر مل ہی نہیں سکتی ،لہٰذا عامِل صاحِبان کو چاہے کہ جواب دینے میں مُحتاط جُملے اِستعمال کریں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔

خَوفناک جَادو گر اور خُونخُوار چُڑیل

سائل صاحِبان بھی عامل صاحبان کی باتوں پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ فرمالیا کریں۔ آج کل اگر”مریض” کسی عامِل سے رُجوع کرتا ہے تو عُمُوماً عامِل صاحب یہی جواب دیتے ہیں کہ آپ پرکسی نے ”جادو” کروادیا ہے۔ یہ سُن کر بے چارہ مریض پریشان ہوکرسُوال کرتاہے کس نے جادو کروایا ہے؟ تو جواب ملتاہے ”قریبی رشتہ دار نے” مریض یہ سُن کر عام طور پر ”بدگُمانی” کے گُناہ میں مبتَلا ہوجاتاہے اور اپنے کئی رشتہ داروں پر شک کرنے لگتا ہے اور اس طرح خاندانی ”مسائل” کھڑے ہوجاتے ہیں بعض عامِل رِشتے دار کے نام کا صِرْف پہلا حَرْف بتادیتے ہیں مثلاً ”ق” بتادیا، اب لیجئے جناب اتِّفاق سے ”مریض” کے چچا جان کا نام قاسِم ہو اور اُس غریب نے اُس پر لاکھ اِحسانات کئے ہوں مگر وہ اُس کو ”خوفناک جادوگر”ہی نظر آئیں گے ۔چچا جان اگرچہ بڑی مَحبَّت سے ”مریض” کے گھر پر کھانا بھیجیں گے مگر وہ اُس حلال اور سُتھرے کھانے کو نہ خود کھائیں گے نہ کسی کو گھر میں کھانے دیں گے، بلکہ بے دردی سے اسے پھینک دیا جائے گا کیونکہ انہیں یہی وَہم ہوگا کہ اس کھانے میں ”جادو” ہے۔ بعض عامِل اس سے بھی دو قدم آگے ہوتے ہیں اور وہ صاف صاف نام ہی بتادیتے ہیں۔ اب اتفاق سے وہ نام آپ کی سگی خالہ کا ہو اور وہ بے چاری آپ کو اپنی اولاد کی طرح چاہتی ہو لیکن کھیل خَتْم ! اب وہ خالہ آپ کو ”خونخوار چُڑیل” نظرآئے گی اور آپ اس بے چاری کی جان کے دشمن بن جائیں گے اور خالہ جان کو اپنا جُرم تک معلوم نہیں ہوگا۔ بَہَرحال”اَلْعَاقِلُ تَکْفِیْہِ الْاِشَارَۃُ” یعنی عقلمند کیلئے اشارہ کافی ہے ۔اپنے ایمان کی حفاظت کیجئے۔ عامِل صاحِبان کو چاہے کہ وہ کسی کا نام یا اشارہ ظاہر نہ فرمائیں اور سائل کو بھی چاہے کہ وہ بھی عاملوں کی باتوں میں آکر ہر گز یہ نہ کہہ دیا کریں کہ میرے تایا نے جادو کروایا ہے اور ہماری بھابھی نے جادوکردیا ہے اور ہمارے بھائی پر قبضہ جمالیا ہے وغیرہ ۔( امیرِ اَہلسنّت دامَتَ بَرَکاتُہُمُ العالیہ فرماتے ہیں) چونکہ مجھ کو دنیا بھر سے خطوط آتے ہیں اور بے شمار لوگوں سے واسِطہ پڑتا ہے تو اکثر یہی فریا دہوتی ہے کہ فُلاں نے جادو کردیا ہے اِسطرح ایسا تاثر قائم ہوتا ہے کہ آج کے مُعاشرے میں ہر فرد گویا”جادوگر ”بن گیا ہے۔ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہo
میری بات کاکوئی یہ مطلب نہ لے کہ میں ”جادو”کے وُجود کا انکار کررہا ہوں۔ایسا نہیں ہے”جادو” کا وُجُود قرآن سے ثابِت ہے ۔چنانچہ ارشادِ باری عَزَّوَجَلَّ ہے:

وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحْرَ ٭

ترجمہ کنزالایمان :ہاں شیطٰن کافِر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں۔(البقرہ :۱۰۲)

سَچّے دِل سے تَوبہ کر لیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
( امیرِ اَہلسنّت دامَتَ بَرَکاتُہُمُ العالیہ مزید لکھتے ہیں) میں صرف اس بات کی تَفْہِیْم کررہاہوں کہ عَملیات کے ذریعہ چُونکہ علمِ غیبِ قَطْعی حاصِل نہیں ہوتا لہٰذا خُدا ترس عامِل اپنی رَوِش تبدیل فرمائیں اور عام عامِلوں کی باتوں پر بھروسہ کرکے مسلمان بدگُمانی کے گناہ میں مُبتلا نہ ہوں ۔قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ

ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو!بہت گُمانوں سے بچو بے شک کوئی گُمان گناہ ہوجاتاہے۔(الحجرات: ۱۲)
حدیثِ پاک میں ہے،”بدگُمانی سے بچو کہ بدگُمانی بدترین جھوٹ ہے”۔

(صحیح البخاری،کتاب النکاح ،باب لایخطب علی خطبۃ اخیہ ،الحدیث ۵۱۴۳)

ایک اور جگہ روایت ہے،جب دل میں بَد گُمانی پیدا ہو تو اسے صحیح خیال نہ کرو۔
(المعجم الکبیر،الحدیث ۳۲۲۷،ج۳،ص۲۲۸)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ سے اس طرح کی خطائیں سرزد ہوگئیں ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کر لیجئے اور جِن جِن عزیزوں کے بارے میں بدگُمانی ہے اُس بدگُمانی کو دل سے جھٹک دیجئے اور ہر مسلمان کو اپنے سے اچّھا تصوُّر کیجئے۔(ماخوذاز” جنات کی حکایات”)

دعا:

اللہ عَزَّوَجَلَّ نیک جِنّات پر اپنا کرم فرمائے اور شریر جِنّات و شیاطین سے ہمیں مَحفوظ رکھے۔

( اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top