Education

قیمت سے زیادہ مت خرچ کرو معلوماتی تحریر ۔۔۔۔ ضرور پڑھئیے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

فرینکلن اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ ۷ سال کی عمر میں میں نے بہت دنوں میں کچھ پیسے جمع کیے۔ ایک لڑکے کو سیٹی بجاتے دیکھا، جو مجھے بہت پسند آئی۔ وہ تمام پیسے دے کر میں نے سیٹی اس سے خریدلی اور خوشی کے مارے پھولا نہ سمایا۔ گھر آ کرمعلوم ہوا کہ میں نے اس پر اصل قیمت سے چوگنے دام خرچ کیے ہیں، جن سے کئی اور کھلونے خرید سکتا تھا۔ میں رنج کے مارے رونے لگ گیا، اور میرا یہ افسوس اس خوشی سے کہیں زیادہ تھا۔ لیکن اس چھوٹے سے واقعہ نے میرے دل پر ایک دیرپا اثر قائم کیا۔ یعنی کئی دفعہ جب مجھے کسی غیر ضروری چیز خریدنے کی ترغیب ہوتی، تو میں اپنے آپ سے کہتا ’’سیٹی کے

لیے قیمت سے زیادہ مت خرچ کرو۔‘‘۔اور یوں اپنا روپیہ بچا لیتا۔ جب میں بڑا ہو کر عملی دنیا میں داخل ہوا،تو مجھے معلوم ہوا کہ دنیا ایسے بیوقوفوں سے بھری پڑی ہے، جو سیٹی کی قیمت سے زیادہ اس پر خرچ کرتے ہیں۔ جب میں کسی طالب شہرت کو دیکھتا کہ محض حصولِ شہرت کی غرض سے وہ ملکی معاملات میں شوروغل مچاتا اور اپنے کاروبار میں تغافل کر کے مالی نقصان اٹھاتا ہے تو میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ ’’سیٹی کے لیے زیادہ قیمت خرچ کرتا ہے۔‘‘ اگر میں نے کوئی ایسا آدمی دیکھا جو نفیس لباس، نفیس سامان اور کردفر پر

مست تھا اور ان چیزوں کے لیے اس نے قرض لیا تھا، اور انجام کا رجیل خانہ میں بھیجا گیا، تو میں خیال کرتا ’’افسوس اس شخص نے کتنی زیادہ قیمت سیٹی کے لیے دی ہے۔‘‘ الغرض میں نے نتیجہ نکالا کہ دنیا میں انسانی تکالیف کے بڑے حصے کا سبب یہ ہے کہ لوگ معاملہ کی قیمت لگانے میں غلطی کرتے اور سیٹی کے لیے مناسب سے بہت زیادہ قیمت دیتے ہیں.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top