Education

مجھے اسلام سے محبت ہے ضرور پڑھیں اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

نفرت کرتی ہوں میں ملاؤں کے دین سے ۔۔۔جاہل ، اُجڈ ،گنوار ۔۔۔۔۔۔۔۔بد تہذیب ۔۔
یہ انسانوں کی بستی میں چلتا ہوا دو پیروں والا جانور جسے مولوی کہتے ہیں ۔۔۔۔زمین اس جانور سے پاک کیوں نہیں ہو جاتی ؟مولویوں کے خلاف لکھی ہوئی اپنی مزید یاداشتیں میں خود بھی نہ پڑھ سکی ۔
آج برسوں پرانی ڈائری نکالی تو میرے آنسو چھلک پڑے ۔۔۔
ڈائری پر گرے میرے یہ آنسو اب ایک نئی عبارت تحریر کررہے تھے ’’مولوی اسلام ہی نہیں انسانیت کا بھی محافظ ہے ‘‘
آپ سوچ رہے ہیں کہ میں کون ہوں ؟۔۔یہ تضاد کیا ہے ؟ ۔۔۔۔اگر تبدیلی ہے تو کیوں ہے؟
بتاتی ہوں ٹھہر جائیے !
میں ایک این جی او سے وابستہ ہوں جوایڈز کے خلاف کام کرتی ہے۔۔۔۔۔میں نے برسوں اس کے ساتھ کام کیا ہم جگہ جگہ جاتے لوگوں کو ایڈز کے متعلق آگاہ کرتے خواتین اور بالخصوص سیکس ورکرز کو احتیاطی تدابیر اور کنڈوم کے استعمال کا مشورہ بھی دیتے ۔۔۔۔
میں نے لوگوں کو سسکتے ایڑیاں رگڑتے مرتے دیکھا تھا ۔۔۔۔میں اور میری جیسی روشن خیال ،لبرل لڑکیاں اس مہم میں ساتھ ہوتیں ۔۔۔میں بعض چھوٹے بچوں کو ایڈز کا شکار دیکھتی تو اور زیادہ افسوس ہوتا ۔۔۔۔۔۔جب ایڈز کی آگاہی پر فلمیں بنائی جاتیں تو میں بہت خوش ہو تی ۔۔۔۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے تضاد و تبدیلی کا اس سے کیا تعلق ؟
صبر کیجیے بتا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔میں نے انہی دنوں ایک لیکچر سُنا ’’ حیا‘‘ پر ۔۔۔۔۔اسلام ’’حیا، پاکیزگی ‘‘ کا کیا حسین درس دیتا ہے ۔۔۔
وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً بنی اسرائیل ۳۲
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے
مقرر کی گفتگو بڑی دلنشین تھی ۔۔۔۔وہ لوگوں کی طبیعت اور ان کی نفسیات کے مطابق بڑی خوبصورت گفتگو کررہے تھے ۔
میں تقابل کررہی تھی ۔۔۔۔
انسدادِ ایڈ ز پر بننے والی فلموں اور قرآن کی اس آفاقی تعلیم پر ۔۔۔۔۔۔
انسدادِ ایڈز کے لیے ہونے والے ورکشاپس اور قرآن کے درسِ حیا پر ۔۔۔۔۔
انسدادِ ایڈز کے لیے قرآن کی فکری تربیت اور ہمارے این جی اوز کا کردار ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔۔انسدادِ ایڈز پر بننے والی فلمیں ہی ایڈز کے فروغ کا ذریعہ ہیں ۔۔۔۔یہ ایڈز سے آگاہی نہیں بلکہ جنسی جذبات کو بر انگیختہ کرنے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔۔۔
ہم لوگوں کو محفوظ گناہ کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں جب کہ اسلام اس گناہ سے دور بہت دور لے جانا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔
ہماری این جی اوز ورکشاپ میں محفوظ گناہ کے لیے ادویات اور کنڈوم کو فروغ دینے کی بات کرتی ہیں یعنی گویا وہ ایک طریقے سے کمپنی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ کرتی تھی ہمارے ذریعے
اُف میرے خدایا اور جو منہ بھر بھر کر میں اور میری ٹیم مولویوں کو گالیاں دیتی اور مولویوں کے خلاف جو نفرت کا درس ان این جی اوز میں دیا جاتا تھا اب سمجھ آئی وہ تو اس دکھی انسانیت کا محافظ تھا ۔۔۔۔۔یہ تو اس سرمایہ دار کی کوکھ سے جنم لیتی ہوس دولت کا بدترین دشمن تھا ۔۔۔۔اپنے دشمن کو کون درست کہتا ہے ؟
اپنے دشمن کو وہ ذلیل و رسوا کرتے رہے اور مجھ جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ انسانیت کے نام پر ان کے دجل و فریب کا شکار ہو گئی ۔۔۔۔
جیسے جیسے میں قرآن کریم کا مطالعہ کرتی چلی گئی مجھے لگا انسانیت کی بقا کے لیے اسلام سے بہتر کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔
آپ سے یہی درخواست قرآن نے جو مخلوط اجتماعات ، اور بے حیائی پر پاپندی لگائی ۔۔۔حجاب پر زور دیا ۔۔۔۔محرم و نامحرم کی حدود کا تعین کیا ۔۔۔۔حیاء وپاکیزگی کا درس دیا بس ایڈز جیسے مرض کا یہ ہی واحد علاج ہے باقی سب سرمایہ دارانہ نظام کی مارکیٹنگ ہے کیونکہ اگر بے حجابی نہ ہو تو میک اپ کا سامان کیونکر فروخت ہو گا ۔۔۔۔۔ایڈز کی بیماری کی دوا کیسے فروخت ہو گی ؟ اور پاکیزگی ہو گئی تو کنڈوم کا صنعت تو کنڈم ہو جائے گی نا!!!!!!!
لہذا مولویوں سے دور رکھو تاکہ قرآن نہ سیکھ سکیں ۔۔۔۔تاکہ پاکیزگی اختیار نہ کر سکیں ۔۔۔۔۔اور انسدادِ ایڈز کے جھنڈے تلے فروغِ ایڈز کا دھندہ چلتا رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گندہ ہے پر دھندہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اعتراف ہے ۔۔۔۔یا رسول اللہ ﷺ آپ کا دین سچا ہے ۔۔۔۔۔
مجھے اسلام سے محبت ہے
اسلام نے مجھے روشنی کی کرن دکھائی
تم نے مجھے حیا سکھائی
تم نے مجھے ان مہلک بیماریوں سے بچایا
مجھے اسلام سے محبت ہے
یقینا ً آپ نہیں چاہتے آپ کے بچے اس مہلک مرض کا شکار ہوں اس لیےاپنے گھرکے ماحول کو پاکیزہ رکھیے ۔۔۔۔مخلوط اجتماعات اس مرض کے ابتدائی جوہڑ ثابت ہوتے ہیں
انسدادِ ایڈز کا فارمولا صرف اسلام کے پاس ہے ۔۔۔۔۔۔آؤ کہ ہم اسلام کے دامن ِ پناہ میں آجائیں۔۔۔آج انسانیت کی بقا اسلام میں ہے آؤ کہ اپنی نسلوں کو اس مہلک بیماری سے بچا لو اور اس کا علاج صرف اسلام کی تعلیمات ِ عفت و عصمت میں ہے ۔۔۔۔۔۔ایڈز کا علاج صرف اور صرف اسلام کی عطا کردہ پاکیزگی اور حیاء میں ہے ۔

دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top