Education

مشن اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

اسکی میٹھی میٹھی با تو ں میں جا دو تھا اسکا د ھیمہ لہجا سہر ا نگیز تھا اسے سنتے تھے تو دل چا ہتا تھا سنتے ہی جا ئیں چہر ے پر نو را نیت اسقدر تھی کہ ہم د یکھتے ہی رہ جا تے تھے با تو ں با توں میں وہ جو اسلام کی تبلیغ کر تی تھی وہ با تیں ہما رے دل میں اتر جا تیں تھیں اسکا علم سمندر کی ما نند و سیع تھا جب اسکے خیا لات مو تیوں کی طرح منہ سے جھڑتے تو ہم پر ایک سکوت طا ری ہو جا تا تھا اور ہم پکا ر ا ٹھتیں تھیں ..

.واللہ کیا علم نوازا ہے تو نے ….کیا طرز بیان ہے …اور خوب ادب و سلیقہ ہے …. اس دن بھی ہم کلا سز سے فا رغ ہو کر اسکا ہو کر اسکا لیکچر سننے آئیں تھیں اس نے ہمیں سر زمین پا کستان کے حوا لے سے ایک عمدہ لیکچر د یا …جسمیں اسنے تا یا تھا کہ پا کستان اسلام کا قلعہ ہے یہ وہ واحد ملک ہے جو نظر یہ کی بنیاد پر بنا ہے اس ملک کے لیئے جتنی قر با نیا ں دی گئیں ہیں وہ را ئیگا ں نہیں گئیں پا کستان کا وجود اس با ت کا گواہ ہے اور ہمیں ا پنے ملک کے کو نے کو نے میں اسلام کا پر چم لہرا نا ہے

آج ہم یہاں پر ا کٹھے مو جود ہیں کسی قسم کا ہما رے خیا لات میں اختلاف نہیں ہے کو ئی ابہام نہیں ہے کو ئی تضاد نہیں ہے بس ایک کمیو نیکیشن گیپ ہے جس کی وجہ سے ہم اسٹو ڈنٹ ا کٹھے نہیں ہو پا ر ہے مدر سے سے نکلنے والا مولو ی یا ملا نی کہلا نے لگتا ہے اور کا لج یو نیور سٹیو ں سے نکلنے وا لے ما ڈرن کہلا ئے جا نے لگتے ہیں دو نو ں طبقے آ پس میں گھل مل جا ئیں اور ایک دو سرے کے خیا لا ت سے آ گا ہی حا صل کر یں تو دو نو ں کی خا میاں دور ہو جا ئیں گیں وہ بو لتی جا ر ہی تھی اور ہم سنتے جا ر ہے تھے یہ کہتے کہتے اسکی آ نکھو ں میں نمی اتر آ ئی تھی کہ کا ش ہمیں یہا ں چھپ کر نہ آ نا پڑتا ہمیں اپنے ملک میں اللہ کا پیغا م پھیلا نے کی آزا دی ہو تی اس کا لج کی ا نتظا میہ شا ئد سیکو لر ذ ہنیت کی حا مل ہے جس و جہ سے وہ ہمیں اسطر ح سے دیکھ کر د ہشت گرد قرار نہ دے دے ا گر ہم پکڑی گئیں تو پھر بھی و عدہ کرو جو چند با تیں تم لو گو ں نے سیکھیں ہیں ان پر عمل کرو گی اور ہما رے لیئے د عا اور کو شش کرو گی کہ ہم جلد ر ہا ہو کر وا پس تمہارے د ر میان آ جا ئیں ….ہم نے و عدہ کیا کہ ایسا ہی ہو گا …لیکچر ختم ہو گیا تھا اور وہ جا چکی تھیں ہمیں آج وہ کچھ بے بس سی نظر آ ئیں تھیں ہما رے پو چھنے پر ا نھو ں نے بتا یا تھا کہ کا لج کی ا نتظا میہ ہم پر شک کر رہی ہے کہ ہم د ہشت گردی کی تعلیم پھیلا رہی ہیں اس و جہ سے شا ئد ہمیں قید کی ہوا بھی کھا نی پڑے ہمیں بہت ا فسوس ہوا جب عا ئشہ اور اسکی دو ستیں ہمیں ا گلے دن تبلیغ کر نے نہ آ ئیں ہما را دل بہت اداس ہو ا اور ہم اپنی کا لج کی پر نسپل کے پا س آئیں ما جرا بیا ن کیا اور ا نھیں تبلیغ کر نے کی ا جا زت د ینے کا کہا ….م

گر میڈ م صبا کا غصہ عروج پر تھا اسنے ہمیں سختی سے منع کر د یا … ا گلے دن ہمیں پتہ چلا کہ عا ئشہ کے گروپ کے خلا ف صرف شک کی بنیا د پر ایف آئی آر کٹ چکی ہے ہمیں دلی صد مہ ہوا اور سو چا کہ ہم کیا کر سکتیں ہیں ….ہم بیٹھیں ہو ئیں تھیں کہ ہم میں سے ایک دو ست اقرائ نے کہا کہ د یکھو وہ ایک مبلگہ ہیں اور اسلا م کی تبلیغ کے سلسلے میں یہا ں آ تیں تھیں ہمیں ان کے مشن میں انکا سا تھ د ینا چا ہیئے اقراء رباب اور ثمینہ بھی با اثر گھرا نوں سے تعلق ر کھتیں تھیں ا نھو ں نے منصو بہ بنا یا کہ ہر حال میں انکے مشن میں انکی مدد کر یں گیں ان تینو ں نے سار ی صو ر تحال ا پنے گھر آ کر بتا ئی تو گھر والو ں نے بھی تعا ون کر نے کا فیصلہ کر لیا تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ عا ئشہ کا گرو پ مختلف جگہو ں پر در س و تدر یس کا کا م کر ر ہا ہے اور اس مشن میں ان کے سا تھ چند ایک لڑ کیا ں اور ہیں ٰیہ چند گھرا نے مل کر اللہ کے پیغا م کو عا م کر نے کی کو شش کر ر ہے ہیں عا ئشہ کے گرو پ کی حقیقت معلو م کر نے کے بعد اقراء ر باب اور ثمینہ کے گھر وا لو ں نے ا نھیں ضما نت پر ر ہا کروا دیا اب دوسرا مر حلہ اس مشن کو جا ری ر کھنا تھا اس مشن کو جا ری ر کھنے کے لیئے اقراء ر با ب اور ثمینہ کے گھر وا لے بھی اس گرو پ میں شا مل ہو گئے اب ان کی تعداد مز یدبڑ ھ گئی تھی مگر کا لج وا لے ا نھیں کسی صورت بھی ا جا زت نہیں دے رہے تھے کہ وہ یہا ں آ کر تبلیغ کر یں لہذا ا نھیں دوسرا طر یقہ ا ختیار کر نا پڑا اب عا ئشہ کے گروپ نے با قا ئدہ کا لج میں ا یڈ میشن لے لیا تھا اور کچھ عر صے تک فر ی پر یڈ میں و ہا ں تبلیغ کر تیں رہیں یہا ں تک کہ پورا کا لج انکے طر یقہ کار ا خلاق اور کردار سے بہت متا ثر ہوا اب عا ئشہ کا گروپ ایک گرو پ نہیں ر ہا تھا بلکہ پو ری جما عت بن چکا تھا اب سارا دارو مدار عا ئشہ کے ہا تھ میں تھا وہ چا ہتی تو اپنے سا تھ ہو نے وا لی ز یا دتی کا بد لہ لے سکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیو نکہ اسکا مقصد بد لہ لینا نہیں تھا بلکہ ا پنے مشن کو جا ری ر کھنا تھا دو سال میں تقر یبا پورا کا لج ہی انکا اسیر ہو چکا تھا پڑھا ئی میں تو وہ عا م لڑ کیو ں سے ز یا دہ لا ئق فا ئق اور ذہین و فطین تھیں جیسے ہی انکی تعداد میں ا ضا فہ ہوا تو وہ با قا ئدہ ا جا زت لے کر مختلف کا لجز میں تبلیغ کر نے لگیں اقراء ر با ب اور ثمینہ نے بتا یا تھا کہ ہمیں با رہ سا ل ہو گئے ا سکو لو ں اور کا لجز میں پڑ ھتے ہو ئے لیکن کسی نے بھی ہمیں اس قسم کی تعلیم نہ دی تھی …ہمیں پہلی با ر پتہ چلا تھا کہ لا الہ ا لا للہ کا مظلب کیا ہے اور پا کستان ایک اسلا می نظر یئے کی بنیا د پر بنا ہے یا پا کستا ن کا مطلب لا الہ الا للہ ہے جب ہم عا ئشہ کے گرو پ میں شا مل ہو ئیں اب ہم بھی مز ید تعلیم و ہیں سے حا صل کر نے کو تر جیح د یں گیں جہا ں سے عا ئشہ نے تعلیم حا صل کی ہے تا کہ ہم ا پنے مشن کو ہمیشہ جا ری ر کھ سکیں …

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top