Education

موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے ہوئے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا . پھر اللہ تعالٰی نے ان پر ہلکی سی اونگھ ڈالی ، پیالہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا اور پانی بہہ گیا .

موسیٰ علیہ السلام کی چیخ نکل گئی اور وہ گھبرا گئے . پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” اے موسی ! میں آنکھ کی ایک جھپک بھی سو جاؤں تو یہ آسمان زمین پر دھڑام سے گر پڑے گا جیسے تیرا پیالہ زمین پر گر پڑا .” اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اِشارہ ہے .

.” یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سمانون اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائے تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا ، وہ حلیم و غفور ہے . (فاطر . 41) .موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا : اے میرے پروردگار ! تو نے

مخلوق کی تخلیق کیوں کی جبکہ ان سے تجھے کوئی ضرورت نہیں پڑتی ؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” میں نے ان کی تخلیق اس لیے فرمائی ہے تاکہ یہ مجھے پہچانیں ، مجھ سے اپنی مرادیں مانگیں اور میں ان کی مرادیں پوری کروں ،

اور میری نافرمانی کے بعد مغفرت و بخشش کی درخواست لے کر میری خدمت میں حاضر ہوں اور میں ان کے لیے مغفرت و بخشش کا پروانہ جاری کروں .”موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا میرے رب ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا

کی ہے جو تیری ہی جستجو میں رہتی ہے ؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” ہاں مومن بندے کا دل جو میرے لیے خالص ہے .”موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا : یہ کیسے اے پروردگار ؟اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا :”جب مومن بندہ مجھے نہیں بھولتا تو اس کا دل میری یاد سے لبریز رہتا ہے اور میری عظمت اس پر محیط ہوتی ہے اور مجھے جو یاد کرتا ہے میں اس کا ساتھی بن جاتا ہوں …

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top