Education

میراث کا حقدار اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

یک تاجر کا انتقال ہو گیا اس نے بہت سی دولت اپنے پیچھے چھوڑی اس کا ایک ہی لڑکا تھا جو اس کا وارث تھا مگر وہ مدت سے مفقودالخبر تھا اور اس کا کوئی پتہ نہ تھا کہ وہ کہاں ہے اور اسی وجہ سے کسی کی شکل و صورت بھی یاد نہ رہی تھی۔

کچھ مدت کے بعد تین لڑکوں نے دعوٰی کیا کہ وہی مرحوم تاجر کے بیٹے ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک کا یہ دعوٰی تھا کہ تاجر کا لڑکا میں ہوں۔ یہ تینوں قاضی کے پاس آئے اور اپنا دعوٰی پیش کیا قاضی نے تاجر کی ایک تصویر منگوائی اورکہا جو لڑکا اس تصویر پر بندوق سے ٹھیک نشانہ لگائے گا وہی وارث ہوگا،تین میں سے دو لڑکے تو نشانہ لگانے کو تیار ہو گئے

مگر تیسرا پریشان ہو گیا اور چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بولا کہ نا ممکن ہے کہ میں اپنے باپ کی تصویر کو نشانہ بناؤں مجھے پروا نہیں کچھ ملے یا نہ ملے مگر میں ایسا نہیں کروں گا۔قاضی نے یہ سن کر فیصلہ دے دیا کہ تاجر کا حقیقی بیٹا یہی ہے اور یہی میراث کا حقدار ہے۔۔۔مسلمان ہونے کے مدعی تو سب ہیں مگر جو لوگ اسلام کو اپنا تحتہ مشق نہیں بناتے اور اس پر الحاد و زندقہ کے تیر نہیں برساتے اصل میں وہی سچے مسلمان اور جنت کے جائز وارث ہیں

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top