Education

میلاد یا فیسٹول؟ تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی ضرور پڑھیں اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

میلاد یا فیسٹول؟ ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

دنیا بھر میں تخریب و تعمیر کے لیے اذہان کسی ایک سمت میں کام نہیں کرتے وہ تسلسل سے کئی پلان ترتیب دیتے ہیں
ان کی یہ منصوبہ بندی جب فکری میدانوں میں گھمسان کا رن ڈالتی ہے تو اڑنے والی گردفریقین کے چہرے آلودہ کر دیتی ہے ۔۔۔۔جب یہ گھمسان کے رن ڈالنے والے عالمی وڈیرے مسلمانوں کو آپس میں خونخوار وں کی طرح لڑاتے ہیں تو فریقین میں شکست وفتح جہاںبھی ہو ان عالمی وڈیروں کے چہروں پر مسکراہٹ ہوتی ہے ۔

’’میلاد النبی ﷺ اور فکر ِ یہود‘‘ کا آپ یقینا مطالعہ کر چکے ہوں گے یقینا ً فکر یہود دم توڑ گئی لیکن سوال یہ ہے کیا اسی فکر نے آپ کی نئی نسل کے اذہان پر شب خون نہیں مارا ؟
فکرِ یہود نے جہاں ایک گروہ کو اس معاملے میں دوسرے گروہ کے مقابل کھڑا کیا تو دوسری جانب اس کی حکمتِ عملی کیا رہی ؟ یہ سوال بھی کچھ کم اہم نہیں ۔
عصر ِ حا ضر میں رائج میلاد النبی ﷺ کا طریقہ کار کس حد تک درست ہے ؟
بتائیے نا ! میرے دوستو! جس طرح آپ نے اسلاف کی روایات سے ہٹ کر میلاد منانا شروع کیا ہے آپ کو معلوم ہے کہ اس سے تو آپ سیکولر ازم کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔۔۔۔

چونکیے نہیں !!!!!!سوچیے
آپ سوال کریں گے وہ کیسے ؟
گلی کے کونے پر ایکو ساؤنڈ پر پوری آواز کے ساتھ نعتیں چلانا کہ گھر میں موجود افراد کو قریب جا کر بھی چیخ کر بات کرنا پڑے ۔
مریض اذیت کا شکار۔۔۔۔ لوگوں کا آرام و سکون محلے کے چند بے نمازی و بے شرع لونڈے میلاد النبی ﷺ کے نام پر برباد کر دیں ۔
کیا یہ افراد آپ کے اس طرزِ عمل سے خوش ہوں گے یا نالاں ہوں گے ؟
یہ سب کچھ انہیں دین کے قریب کرے گا یا دور؟
اس دور میں جب ساری باطل قوتیں مل کر عام آدمی کو دینِ اسلام کے قریب نہیں آنے دے رہی ہیں آپ کا یہ طرزِ عمل مسلمانوں کو بھی سیکولر ازم کی جھولی میں ڈال دے گا ۔۔۔۔۔ عوام کالانعام ان خرافات کو علماء کے کھاتے میں ڈال دے گی۔۔۔۔آپ تو میلاد منا بھی نہیں رہے تھے آپ تو میلاد کے نام پر فیسٹیول منار ہے تھے ۔۔۔۔۔

شاندار چراغاں بہت اچھی بات ہے ضرور کیجیے مگر اس چراغاں کو دیکھنے مرد وزن کا ہجوم نامحرم کے نامحرم سے ٹکراتے جسم ۔۔۔۔۔
یہ سب تعلیمات ِ مصطفےٰ ﷺ کے خلاف ہے جسے ہم میلاد النبی ﷺ کے نام پر منا رہے ہیں ۔۔۔۔۔
میلادا لنبی ﷺ کے نام پر کیا یہ ہی سب کچھ ہمارے بزرگوں نے سکھایا تھا ؟
یہ کیا کھیل کھیلا دشمن نے تمہارے ساتھ؟۔۔۔۔۔تمہیں اندازہ ہے تم دین کےنام پر دین دشمنی کررہے ہو ؟
کوئی شک نہیں

نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع لاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں
امام مالک کیا خوب میلاد مناتے تھے اورروز مناتے تھے مسجد نبوی ﷺمیں امام الحدیث کی مسند اور اس پر سفید چاندنی معطر فضا میں درس حدیث شروع ہوتا شرکاء محفل ادب کے ساتھ بیٹھے درس ِ حدیث سُنتے امام کو بچھو سولہ دفعہ ڈنک مارتا ہے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جا تا ہے مگر درسِ حدیث ادبِ رسول ﷺ میں چھوڑتے نہیں ہیں ۔

آپ بھی میلاد منائیے ’’دورہ سیرت النبی ﷺ ‘‘ کا انعقاد کیجیے
میلاد منائیے جیسے صحابہ کرام نے منایا قیصر و کسریٰ کے دروازوں پر دستک دے کر کہا ایمان لےآؤ حضور ﷺ آ گئے ہیں ۔۔۔۔۔
دنیا بھر کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دو ۔۔۔۔۔اسلام کے پیغام کو اپنے کردار سے دنیا کے سامنے پیش کرو یہ بھی میلادا لنبی ﷺ ہے ۔۔۔۔۔رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کو اپنا کر تبلیغ ِ اسلام کے چراغ روشن کرو کہ یہ بھی میلاد النبی ﷺ ہے ۔
منائیے میلاد جیسے آئمہ مذاہب نے منایا علم دین کی لازوال خدمت کر کے ۔۔۔۔

علم کو فروغ دو ۔۔۔۔کتب کی اشاعت کرو ۔۔۔۔لائبریریز کا قیام عمل میں لاؤ ۔۔۔۔۔تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھو ۔۔۔۔۔
میلاد منائیے مجاہدین اسلام کی طرح ۔۔۔۔۔اہلِ علم کی طرح ۔۔۔۔ باطل قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ۔۔۔۔سینہ سپر ہو کر میلاد منائیے ۔۔۔۔۔۔۔
حق کہہ کر میلاد منائیے ۔۔۔۔۔حق کو قبول کر کے میلاد منائیے ۔۔۔

میلاد منائیے ضرور منائیے مگر نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دور اور منافی ہو کر نہیں ۔۔۔۔۔
فلاح و بہبود کا کام کرکے میلاد منائیے ۔۔۔۔۔صفائی نصف ایمان ہے اپنے علاقے محلے کو صاف رکھ کر میلاد منائیے ۔۔۔۔دکھی انسانیت کے کام آ کرمیلاد منائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
میلاد منائیے ضرور منائیے لیکن لوگوں کو ایذاء دے کر نہیں کیوں کہ کسی مسلمان کو ایذا پہنچانے والے کے لیے سخت وعید ہے ۔۔۔۔۔
خدارا !!!! ہوش کے ناخن لو ۔۔۔۔ترجیحات کا تعین کرو۔۔۔۔میلاد مناؤ ضرور مناؤ ۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کلمہ بھی نبی آخر الزماں ﷺ کا پڑھے اور میلاد کی مخالفت بھی کرے ؟
ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے میلاد النبی ﷺ منائیے تاکہ حقیقی معنی میں میلاد النبی ﷺ کے ثمرات ہمیں مل سکیں ۔

لیکن ایک مرتبہ اپنے طرزِ عمل پر نگاہ کر لو کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے ؟ آپ ﷺ کی تعلیم تو یہ ہے ۔
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذاء نہ پائیں (کتاب الایمان بخاری شریف )

بچپن میں یہ شعر سُنا کرتا تھا
مناؤ جشنِ بہاراں مگر اس احتیاط کے ساتھ
کسی چراغ کی لو سے کسی کا گھر نہ جلے

دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top