Education

نگدستی کے اَسباب اور ان کا حل اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

شيطٰن لاکھ سستی دلائے اس مختصرآرٹیکل کا اوّل تا آخِر مطالعہ فرمالیں

دُرود شَریف کی فضیلت

عاشقِ اعلیٰ حضرت ،امیرِ اَہلسنّت ، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نقْل فرماتے ہیں کہ جو مجھ پر شبِ جُمُعَہ اور جُمُعَہ کے روز سو بار دُرُود شریف پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا۔ (تفسیر درِ منثور ،ج ۶،ص ۶۰۴،دارالفکر بیروت)

صَلُّو اعَلَی الْحَبِيْب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد

تنگدستی کے اَسباب اور ان کا حل

اْلحَمْدُﷲ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کا ہر کام اﷲ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبيب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رِضا کیلئے ہونا چاہیے ، مگر آہ!ہماری بے عَمَلی ! شاید اسی وجہ سے آج ہمیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے،کوئی قرضدارہے تو کوئی گھریلوناچاقیوں کا شکار ، کوئی تنگدست ہے توکوئی بے رُوزگار،کوئی اَولاد کا طلبگارہے توکوئی نافرمان اَولاد کی وجہ سے بیزار، الغَرَض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گِرِ فتار ہے۔ان میں سر فہرست تنگ دستی اور رزق میں بے برکتی کا مسئلہ ہے شاید ہی کوئی گھرانا اس پریشانی سے محفوظ نظر آئے۔تنگ دستی کا سبب عظیم خود ہماری بے عملی ہے جس کو سورۂ شوریٰ میں اس طرح بیان کیا گیاہے:

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ وَ یَعْفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾

ترجمہ کنزالایمان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی۔ وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو مُعاف کردیتا ہے۔(پ ۲۵،الشُّوریٰ آیت ۳۰)

اس لئے ہمیں چاہے کہ اعمال ِ بد سے توبہ کر کے نیک اعمال میں مشغول ہوجائیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سورۂ اعراف میں ارشاد فرماتا ہے ۔

اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾

(ترجمۂ قرآن کنز الایمان) بیشک اللہ کی رَحمت نیکوں سے قریب ہے.(پ۸،الاعراف :۵۶)
ناگفتہ بہ حالات

افسوس ! آج کا مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے مشکل ترین دُنیوی ذرائع استعمال کرنے کو تو تیار ہے مگر اﷲعَزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے رَسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے عطا کر دہ روزی میں بَرَکت کے آسان ذرائع کی طرف اسکی توجہ نہیں۔ آج کل بیرُوزگاری و تنگدستی کے گمبھیر مسائل نے لوگوں کو بے حال کردیا ہے۔ شایدہی کوئی گھرایسا ہو جو تنگدستی کا شکار نہ ہو ۔

یاد رکھئے!رِزْق میں بَرَکت کے طالب کیلئے ضَروری ہے کہ وہ پہلے رزْق ميں بے بَرَکتی کے اسباب سے آگاہی حاصل کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرے، تاکہ رزْق میں بَرَکت کے ذرائع حاصل ہونے پر کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
اس سلسلے میں احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں تنگدستی کے اسباب اور آخِر میں ان کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بغور مطالَعَہ فرمائیں اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں اسکا نفاذ کرکے رِزْق میں بَرَکت کے اسباب کیجئے۔

مَدَنی پھول

امیر ِاَہلسنّت دامَتْ بَرَکا تُھُمُ العالِیہ فرماتے ہیں کہ رِزْق میں بَرَکت کا صرف یہ معنیٰ نہ سمجھیں کہ دولت کا انبار لگ جائے بلکہ کم رِزْق میں گزارہ ہوجانا اور جو مل جائے اُس پرقَناعَت کی سعادت پانا بھی بہت بڑی بَرَکت ہے۔

تنگدستی کی وجوہات

امیر ِاَہلسنّت دامَتْ بَرَکا تُھُمُ العالِیہ نے ایک بار فرمایا، آج کل رِزْق کی بے قدری اور بے حرمتی سے کون سا گھر خالی ہے، بنگلے میں رہنے واے اَرَبْ پَتِی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والا مزدورتک اس بے احتیاطی کا شکار نظر آتا ہے، شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کاشوربا ،چاول اوران کے ا جْزا بہا کر معاذاﷲ عَزَّوَجَلَّ نالی کی نذر کردیئے جاتے ہیں،ان سے ہم سب واقف ہیں، کاش رِزْق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظرہوتی۔

اُمُّ الْمومِنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا فرماتی ہیں، تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنے مکانِ عالیشان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، اس کولے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا، عائشہ (رضی اﷲعنہا) اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے لوٹ کر نہیں آئی۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ،باب النھی عن القاء الطعام،الحدیث۳۳۵۳،ج۴،ص۴۹،دار المعرفہ بیروت)

تجارت میں قَسَم سے بَرَکت زائل ہوجاتی ہے

آج کل کئی دکاندار روزی میں بندِش ختْم کروانے کیلئے تعویذات،عملیات اور دعا کے ذرائع تواپنا تے ہیں،مگر روزی میں بَرَکت کے زائل ہونے کا ایک بڑاسبب خریدوفروخت میں بے احتیاطی، اسکی طرف توجہ نہیں کرتے ۔
حدیثِ پاک میں ہے کہ پیارے مَدَنی آقا سرکا ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، کہ بَیْع (یعنی تجارت) میں قَسَم کی کثرت سے پرہیز کرو کہ یہ اگرچہ مال کو بِکوادیتی ہے مگر بَرَکت کو مٹادیتی ہے۔

(صحیح مسلم ،کتاب المسافات والمزارعۃ،باب النھی عن الخلف ،الحدیث ۱۶۰۷،ص۸۶۸،دار ابن حزم بیروت)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیں جب سچی قَسَم کی کثرت کا یہ حال ہے تو جھوٹی قَسَموں اور رِزْق میں حرام کی آمیزش کا کتنا وَبال ہوگا۔
اسلیئے اکثر احادیث ِمبارَکہ میں جہاں تجارت کا ذکْر آتاہے، ساتھ ہی ساتھ جھوٹ بولنے اور جھوٹی قَسَم کھانے کی ممانَعَت بھی آتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر تاجر اپنے مال میں بَرَکت دیکھنا چاہتا ہے تو سچی قَسَم کھانے سے بھی پرہیز کرے۔

راشن میں بے بَرَکتی

آج کل یہ شکوہ بھی عام ہے کہ پہلے جتناراشن مہینے بھر چلتا تھا۔ اب ۱۵ دن میں ہی خَتمْ ہوجاتا ہے۔کاش کہ ہم اس پر بھی غور کرلیتے کہ کھانا کھاتے وقت ابتداء میں بسْمِ اﷲشَرِیْف پڑھ لیتے ہیں یا نہیں؟

شیطان کی شرکت

کھانے یا پینے سے پہلےبِسْمِ اﷲشَرِیْف پڑھنا سنت ہے۔ حضرت سیّدنا حُذَیفہ رضی اﷲعنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس کھانے پربِسْمِ اﷲ نہ پڑھی جائے شیطٰن اُس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب آداب الطعام ،الحدیث۲۰۱۷،ص۱۱۱۶،دارابن حزم بیروت)

اسلئے کھانے سے پہلے بِسْمِ اﷲ شَرِیْف نہ پڑھنے سے کھانے کی بَرَکت زائل ہوجاتی ہے۔ اگر ایک بھی شخص بِغیر بِسْمِ اﷲ شَرِیْف پڑھے کھانے میں شامل ہوجائے تو بھی کھانے سے بَرَکت زائل ہوجاتی ہے۔ حضرت سیدناابوایوب انصاری (رضی اﷲتعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں ہم سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضرتھے۔کھانا پیش کیا گیا، ابتداء میں اتنی بَرَکت ہم نے کسی کھانے میں نہیں دیکھی،مگر آخِرمیں بڑی بے بَرَکتی دیکھی۔ ہم نے عرْض کی، یارَسُوْلَ اﷲعَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ایسا کیوں ہوا؟ ارشاد فرمایا، ہم سب نے کھانا کھاتے وقت بِسْمِ اﷲ پڑھی تھی۔ پھر ایک شخص بِغیربِسْمِ اﷲپڑھے کھانے کو بیٹھ گیا، اس کے ساتھ شیطٰن نے کھانا کھالیا۔

(شرح السنہ،کتاب الاطعمۃ،باب التسمیۃ علی الابحل،الحدیث۲۸۱۸،ج۶،ص۶۱،دا ر الکتب لعلمیۃ)

عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں،ناخنوں کا بڑھاہوا ہونا (بھی)تنگی رِزْق کا سبب ہے۔(چاليس دن سے زائد ناخن بڑھانامکروہ تحريمی ہے)

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہۃ،الباب التاسع عشر،ج۵،ص۳۵۸،مطبوعہ کوئٹہ)

تنگدستی کے ”44”اسباب

قبلہ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”فیضانِ سنّت ” کے باب ”آدابِ طعام ”میں ص88تا 90پر تحریر فرماتے ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح روزی میں بَرَکت کی وجوہات ہیں اِسی طرح روزی میں تنگی کے بھی اسباب ہیں اگر ان سے بچا جائے تو اِنْ شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ روزی میں بَرَکت ہی بَرَکت دیکھیں گے۔ آپ کی معلومات کے لئے تنگدستی کے 44اَسباب عرض کرتا ہوں۔

(۱)بِغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانا، (۲)ننگے سر کھانا، (۳) اندھیرے میں کھانا کھانا،(۴)دروازے پر بیٹھ کر کھانا،(۵)میت کے قریب بیٹھ کر کھانا،(۶) جِنابَت (يعنی جماع یا احتلام کے بعد غسل سے قبل)کھانا کھانا، (۷) چارپائی پر بِغیر دستر خوان بچھائے کھانا(۸)نکلے ہوئے کھانے میں دیرکرنا ،(۹)چار پائی پر خود سرہانے بیٹھنا اور کھانا پائینتی (یعنی جس طرف پاؤں کئے جاتے ہیں اس حصے ) کی جانب رکھنا (۱۰) دانتوں سے روٹی کُتَرنا، (برگر وغیرہ کھانے والے بھی احتیاط فرمائیں)(۱۱)چینی یا مِٹّی کے ٹوٹے ہوئے برتن استعمال میں رکھنا خواہ اِس میں پانی پینا(برتن یا کپ کے ٹوٹے ہوئے حصّے کی طرف سے پانی، چائے وغیرہ پینا مکروہ ہے، مِٹّی کے دراڑوالے یا ایسے برتن جن کے اندرونی حصّہ سے تھوڑی سی بھی مِٹّی اُکھڑی ہوئی ہو اُس میں کھانا نہ کھائيے کہ مَیل کچیل اور جراثیم پیٹ میں جاکر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں)(۱۲)کھائے ہوئے برتن صاف نہ کرنا،(۱۳)جس برتن میں کھانا کھایا اُسی میں ہاتھ دھونا،(۱۴)خِلال کرتے وقت جو ریشہ و ذرّات وغیرہ دانتوں سے نکلے اسے پھر منہ میں رکھ لینا،(۱۵)کھانے پینے کے برتن کُھلے چھوڑ دینا، (کھانے پینے کے برتن بسم اللہ کہہ کر ڈھانک دینے چاہیں کہ بلائیں اُترتی ہیں اور خراب کردیتی ہیں پھر وہ کھانا اور مُشروب بیماریاں لاتا ہے) (۱۶)روٹی کو خوار رکھنا کہ بے ادَبی ہو اور پاؤں میں آئے۔

(ملخص از: سنی بہشتی زیور ص ۵۹۵ تا۶۰۱)

حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہان ُالدّین زَرنُوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تنگدستی کے جو اَسباب بیان فرمائے ہیں اُن میں یہ بھی ہیں۔(۱۷)زیادہ سونے کی عادت( اس سے جہالت بھی پیدا ہوتی ہے)(۱۸)ننگے سونا(۱۹)بے حیائی کے ساتھ پیشاب کرنا(لوگوں کے سامنے عام راستوں پر بلا تکلُّف پیشاب کرنے والے غور فرمائیں) (۲۰)دستر خوان پر گرے ہوئے دانے اور کھانے کے ذرّے وغیرہ اُٹھانے میں سُستی کرنا (۲۱)پیاز اور لہسن کے چھلکے جلانا،(۲۲)گھر میں کپڑے سے جھاڑو نکالنا(۲۳)رات کو جھاڑو دینا(۲۴)کُوڑا گھر ہی میں چھوڑدینا(۲۵)مَشائخ کے آگے چلنا(۲۶)والِدَین کو ان کے نام سے پُکارنا (۲۷)ہاتھوں کو گارے یا مِٹّی سے دھونا۔ (۲۸)دروازے کے ایک حصّے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہونا، (۲۹)بیتُ الخَلا میں وُضو کرنا (۳۰)بدن ہی پر کپڑا وغیرہ سی لینا، (۳۱)چہرہ لباس سے خشک کرلینا(۳۲)گھر میں مکڑی کے جالے لگے رہنے دینا(۳۳)نَماز میں سُستی کرنا (۳۴)نَمازِ فَجر کے بعد مسجِد سے جلدی نکل جانا(۳۵)صبح سویرے بازار جانا(۳۶)دیر گئے بازار سے آنا(۳۷)اپنی اولادکو ”کوسنیں” (یعنی بددعائیں) دینا(اکثر عورتیں بات بات پر اپنے بچوں کو بد دعائیں دیتی ہیں اور پھر تنگدستی کے رونے بھی روتی ہیں) (۳۸)گناہ کرنا خُصُوصاً جھوٹ بولنا (۳۹)چراغ کو پھونک مار کر بُجھا دینا(۴۰)ٹُوٹی ہوئی کنگھی استِعمال کرنا(۴۱)ماں باپ کیلئے دعائے خیر نہ کرنا(۴۲)عِمامہ بیٹھ کر باندھنا اور(۴۳)پاجامہ یا شلوار کھڑے کھڑے پہننا(۴۴)نیک اعمال میں ٹال مٹول (ٹال-م َ۔ٹول)کرنا۔

(تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّمِ طَرِیْقُ التَّعَلِّمِ ۷۳ تا ۷۶ بابُ المدینہ کراچی)

خاص بات

رِزْق میں بَرَکت کے طالب کو چاہیے کہ وہ مذکورہ بے بَرَکتی کے اسباب پر نظر رکھتے ہوئے ان سے نَجات کی ہرممکن صورت میں کوشش کرے يہ بھی معلوم ہوا کہ کثرتِ گناہ کے سبب رِزْق میں بَرَکت ختْم ہو جاتی ہے، لہذا گناہوں سے ہرصورت بچنے کی کوشش کرے کہ گناہ، کثیر آفات وبَلِیَّات کے نُزول کا سبب بھی ہوتے ہیں۔

لمحہ فکریہ

امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکا تُھُمُ العالِیہ فرماتے ہیں کہ کوئی اپنے کردار سے ظاہر کرے کہ میں نمازیں بھی قضا کروں اوراس کی نُحوست کے اثرات سے بھی مَحفوظ رہوں،کھاتے پیتے وقت بِسْمِ اﷲشَرِیْف نہ پڑھ کر شیطٰن کوبھی شامل رکھوں اوررِزْق میں بَرَکت کی خواہش بھی کروں۔خرید وفروخت کے وقت حلال و حرام کی تمیز بھی نہ رکھوں اوررز ق میں کشادگی کا طالب بھی رہوں تو آپ خود فیصلہ فرمائیں!یہ کس طرح ممکن ہے کہ آگ میں ہاتھ ڈالنے والے کاہاتھ نہ جلے۔

وسوسۂ شیطانی کی کاٹ

ہو سکتا ہے کسی کو شیطٰن یہ وَسوَسہ ڈالے کہ، فُلاں بے نمازی، حرام کمانے والااور سنتوں کا تارِک، جودِن رات اﷲ عَزَّوَجَلَّ اوراسکے پیارے رَسُوْل صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ناراضگی والے کاموں میں مشغول رہتا ہے، مگر اس کے رِزْق میں بے بَرَکتی کے بجائے، اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میرے پیارے اسلامی بھائی! یہ شیطٰن کا خطرناک وار ہے! اس نظریہ سے سوچیں گے تو فی زمانہ ہرجگہ دنيوی ترقی میں بظاہر کفارِبداَطوار آگے آگے نظر آتے ہیں۔

یاد رکھیں،کسی کی بد عقیدگی وبداعمالیوں کے باوُجود دُنْیَوِی نعمتوں کا حُصول اسکے لئے باعث فضیلت نہیں،لہٰذا مسلمان کو شیطانی وسوسوں میں پڑنے کے بجائے اپنے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں ہی حل کرنے چاہیے۔

توجہ فرمائیں

ان اسلامی بھائیوں کیلئے جو آج تنگدستی کا شکار نہیں (دن رات دکانیں چل رہی ہیں ، لاکھوں کا کاروبار ہے )مذکورہ بالااسباب ان کیلئے بھی باعث ِتشویش ہیں۔ اگر وہ بھی اپنی ذات میں اِن اَسباب کو پاتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ بلا تاخیر ان سے نَجات کی صورت کرکے اپنی روزی کے تحفظ کا سامان کریں۔

تنگدستی سے نَجات

رِزْق میں بَرَکت کا حُصول اتنا مشکل نہیں بشرطِیکہ حقیقی ذرائع سے اس کیلئے کوشش ہو ۔ جیسا کہ حضرت عبد اﷲ ابن عباس(رضی اﷲعنہما)سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھانے سے پہلے اور بعد میں وُضُو کرنا محتاجی کو دور کرتا ہے اور یہ مرسلین علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے۔

(المعجم الاوسط،الحدیث۷۱۶۶،ج۵،ص۲۳۱،دار الفکر عمان)

خیر وبَرَکت کاحُصول

ایک اور حدیث ِمبارَکہ میں ہے کہ حضرتِ اَنَس رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،جو یہ پسند کرے کہ اﷲ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر زیادہ کرے تو جب کھانا حاضر کیا جائے، وُضُو کرے اور جب اٹھا یا جائے اس وقت بھی وُضُو کرے یعنی ہاتھ منہ دھوئے۔

(سنن ابن ماجہ،کتاب الاطعمۃ،باب الوضوء عندالطعام ،الحدیث۳۲۶۰،ج۴،ص۹،دار المعرفہ بیروت)

کھانے کے وُضُو کا طریقہ

کھانا کھانے سے پہلے اور بعد دونوں ہاتھ پہنچوں تک دھونا سنّت ہے، اگر کھانے کیلئے کسی نے منہ نہیں دھویا تو یہ نہیں کہیں گے کہ اس نے سنّت ترک کردی۔

(الفتاوی الھندیہ،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادی عشر،ج۵، ص۳۳۷، مطبوعہ کوئٹہ)
امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکا تُہُمُ العَا لِیہ فرماتے ہیں کہ بدقسمتی سے آج کھانے کا وُضُو کرکے سنت کے مطابق بيٹھ کر کھانا اور آخِر ميں برتن چاٹ کر پانی سے دھوکر پينے والی مبارَک سنتيں مَتروک نظر آتی ہيں۔ کاش ! ان ميٹھی سنتوں کو زندہ کرنے کے عزْم مُصَمَّم کے ساتھ تحريک شروع ہو۔

عیش وعشرت میں وُسْعَت

سیدُنا امام محمدغزّالی رحمۃاﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں روٹی کے ٹکڑے اورذرّوں کو چن لیں کہ حدیثِ پاک میں ہے جو شخص اس طرح کرتا ہے اس کے عیش و عشرت میں وُسْعَت کی جاتی ہے، اور اس کے بچے صحیح و سلامت اور بے عیب ہونگے اور وہ ٹکڑے حوروں کا مَہر ہوں گے ۔

(کیمیائے سعادت،اصل اول آداب الطعام،باب اماپس از طعام،ج۱،ص۳۷۴،انتشارات گنجینہ تہران)

مل کر کھانے میں بَرَکت ہے

حضرت امیر المؤمنین سیدُناعمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اکٹھے کھاؤ، الگ الگ نہ کھاؤ کہ بَرَکت جماعَت کے ساتھ ہے۔

(سنن ابن ماجہ ،کتاب الاطعمۃ،باب الاجتماع علی الطعام،الحدیث۳۲۸۷ ،ج۴،ص۲۱، دارالمعرفہ بیروت)
فی زمانہ اَلْمِیّہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کا مسلمان سخت گرمی میں رُوزگار کی تلاش میں مارا مارا توپھرتا ہے، مگر بدقسمتی سے رِزْق میں بَرَکت کے ان آسان اور یقینی حل کو اپنانے کیلئے تیار نہیں ۔ کاش! کہ آج مسلمان اَحکام ِاسلام پر صحیح معنوں میں کاربند ہوجائے توبےرُوزگاری کا مُعاملہ، جو آج بینَ الاقوامی مَسْئَلہ بن چکا ہے اس پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے ،اور یہ حل صرف موجودہ مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے غیر مسلم بھی اگر اسلام کی دولت سے مالا مال ہوکر حقیقی معنوں میں سنتوں پر کاربند ہوجائیں تو اپنے مسائل کو بآسانی حل کرسکتے ہیں۔

تنگدستی سے نَجات کے 20 مَدَنی حل

(۱) مشائخِ کِرام فرماتے ہیں، کہ دوچیزیں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں مفلسی اور چاشت کی نماز ،(یعنی جو کوئی چاشت کی نماز کا پابند ہوگا، ان شآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّ کبھی مفلس نہ ہوگا۔)
حضرت شفیق بَلْخِی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،ہم نے پانچ چیزوں کی خواہش کی تو وہ ہم کو پانچ چیزوں میں دستیاب ہوئیں۔ (اس میں سے ایک یہ بھی ہے)کہ جب ہم نے روزی میں بَرَکت طلب کی تو ہم کو نمازِچاشت پڑھنے میں مُیَسَّر ہوئی ۔ (یعنی رِزْق میں بَرَکت پائی) (ملخص از فیضانِ سنت باب فضائلِ نوافل ص ۱۰۱۱)

(۲) اَیّامِ بَیض یعنی ہر مہینے کی ۱۳،۱۴ اور ۱۵ کو روزے رکھنا۔” فتوح الاوراد” میں منقول ہے کہ تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جو کوئی اَیّامِ بَیض کے روزے رکھے ،اس کے رِزْق میں وسْعَتْ ہوگی۔ دنیاوی آفتوں سے مَحفوظ رہے گا اور (اِنْ شآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّ) دونوں جہاں میں بَرَکتوں سے مالا مال ہوگا۔

(۳) سورۂ واقعہ کا ہمیشہ بالخُصوص بعدِ مغرب پابندی سے پڑھنا ۔ (۴) مَردوں کوسنّتِ فجر اپنے گھر میں پڑھ کر، فرْض نماز کے لیے مسجد میں جانا۔( بعض روایات میں آیاہے جس شخص نے فجر کی سنتیں اپنے گھر میں پڑھیں۔ اﷲ عَزَّوَجَلَّ ا س کا رِزْق کُشادہ کرتا ہے اور اسکا اَہل و عِیا ل اور رشتہ داروں سے جھگڑا کم ہوجاتا ہے اور اِنْ شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا خاتِمہ ایمان پر ہوگا)۔ (۵) نمازِ پنجگانہ کے لیے اذان کا جواب دینا اور اس کا احترام بجالانا، کہ لیٹا ہوا بیٹھ جائے اور اَورادووظائف بلکہ تلاوتِ قرآن بھی مَوقوف کردے،سَرپَر (عمامہ شریف)ٹوپی (اور اسلامی بہنیں)دوپٹا وغیرہ رکھ لے،ہرگز ہرگز دنیا کی کوئی بات نہ کرے کہ(معاذ اللہ)برے خاتِمے کا اَندیشہ ہے۔ (۶) دینی معلومات یعنی سنتیں سیکھنے سکھانے میں مصروف رہنا۔ (۷)دوسروں تک علمِ دین پہنچانا اگرچہ قرآن کی ایک آیت یادین کا ایک مسئلہ کہ دوسروں کو تم سے جو خیر پہنچے وہ تمہارے لیے مبارَک ہے۔(دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکرمدنی کاموں میں مشغولیت بالخصوص مدنی انعامات سے معطر معطر مدنی قافلے میں سفراسکا ایک بہترين ذريعہ ہے ۔)اس ضمن میں کسی نے ایک سچا واقعہ سنایا کہ ایک مزدور نے دعوتِ اسلامی کے تین دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سفر کیا ، واپسی پر سیٹھ نے بتایا کہ گودام کی صفائی کے دوران جو گندم نکلی اسے بیچ کر رقم مزدوروں میں تقسیم کی گئی ، پانچ سو روپے تمہارا حصہ بنا ہے ۔ مزدور حیرت زدہ رہ گیا کہ چھٹی نہ کرنے کی صور ت میں شاید صرف تین سو روپے کماتا ،مگرالحمدللہ عَزَّوَجَل ّ مَدَنی قافلے میں سفر کی بَرَکت سے پانچ سو روپے ملے ۔ (۸) نمازتَہَجُّد پڑھتے رہنا، (۹) توبہ کرتے رہنااورفجْر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان ستّرباراِسْتِغْفار کرنا، (۱۰) گھر میں آیَۃُ الکُرْسی اور سورۂ اِخْلاص پڑھنا، (۱۱)ہر نماز کے بعدتسبیح فاطِمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پڑھنا،(يعنی ۳۳ بار سبحان اﷲ، ۳۳بار الحمدﷲ اور ۳۴ بار اﷲاکبر) (۱۲) قرآن ِ مجیداور(عُلَماءِ اَہلسنّت کی)کتابیں دینی مدرسوں کے لیے وقْف کرنا( مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل شادی، غمی کی تقریبات، اجتماعات،اَعراس اور جلوسِ میلاد وغیرہ میں تقسیم کر نے کی ترکیب اورگاہکوں کو بانیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر کچھ رسائل رکھنے کا معمول بنانے کے ساتھ اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلہ کے ہر گھر میں وقفہ وقفہ سے بدل بدل کر سنتوں بھرے رسائل پہنچا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کی مَدَنی کوشش بھی رزق میں بَرَکت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ )

(۱۳)والدین کی خدمت میں مصروف رہنا، (۱۴)دن بھر ميں کم ازکم ايک بار سورۃ المُزَمِّل اور سورۂ نباء کی تلاوت کرنا، (۱۵)سورۃالملک بعد عشاء پڑھ کر سونا، (۱۶) شبِ جُمُعَہ میں سورۂ کہف پڑھنا، (۱۷)گھر میں سرْکہ رکھنا، (۱۸) اِسی طرح روایت میں ہے کہ اتوار کے دن (جو ناخن ) ترشوائے فاقہ نکلے گااور تَوَنگَری(خوش حالی) آئے گی۔(فیضانِ سنت جدیدص ۵۴۹) (۱۹)عاشورہ(یعنی دس مُحَرَّمُ الحرام) میں مسکینوں کو کھانا کھلانا کہ روایت کے مطابق آج کے روز جو چیز دوسروں کو کھلائی پلائی جاتی ہے سال بھر تک اس میں بَرَکت رہتی ہے ۔(اسی لیے مسلمانوں میں کھچڑے کا عمل جاری ہے)، (۲۰) بکثرت دُرود شریف پڑھنا ۔ (ملخص از سنی بہشتی زیور صفحہ نمبر ۶۰۹)

حاجت مَندغَنی ہوگیا

ایک نیک آدمی تھا، اس نے غَلَبہ شوق کے ساتھ پانچ سو باردُرُود شریف کا روزانہ وِرْد شروع کردیا۔ اس کی بَرَکت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کو غنی کردیا اور ایسی جگہ سے اسکو رِزْق عطا فرمایا کہ اسے پتا بھی نہ چل سکا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ مفلس اور حاجت مند تھا۔ ( ملخص از فیضان سنت ص ۱۵۱)

امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ فرماتے ہیں :اگر کوئی شخص مذکورہ تعداد میں دُرُودِ پاک کا وِرد کرے اور مذکورہ تنگدستی کے اسباب سے بچتے ہوئے اس سے نَجات کے حل بھی اپنائے ،مگر پھر بھی اس کا فَقْر (یعنی تنگدستی و محتاجی) دور نہ ہو تو یہ اس کی نیت کا فُتُور (یعنی فساد) ہے کہ اس کے باطن میں خرابی کی وجہ سے کام نہیں بن سکا۔ دَرْاَصْل دُرُودِ پاک پڑھنے یا مذکورہ اسباب سے بچنے اورنَجات کے حل اپنانے میں نیت اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہوتو ان شآ ء اللہ عَزَّوَجلَّ محتاجی ضَرور دور ہوگی ۔

مُحتاجی کسے کہتے ہیں؟

یاد رکھیئے ! محتاجی صرف مال کی کمی کانام نہیں ہے بلکہ بسا اوقات مال کی کثرت کے باوُجود بھی انسان محتاجی کا شکوہ کرتا ہے اور یہ مذموم فِعْل ہے ۔ اِنْ شآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّ مذکورہ اعمالِ صالحہ کی بَرَکات سے قناعت کی دولت نصیب ہوگی اور قناعت (یعنی جو مل جائے اس پر راضی رہنا) ہی اصْل میں غَنَا (یعنی دولت مندی) ہے اور دنیاوی مال کا حریص(یعنی لالچی) ہی حقیقت میں محتاج ہے ۔ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، قناعت وہ خزانہ ہے جو کہ ختم ہونے والا نہیں ہے اور دنیوی مال سے یقینا افضل ہے ،کیونکہ دنیوی مال فانی بھی ہے اوروبال بھی ، کہ قیامت میں حساب دینا پڑے گا۔ (ملخص از فیضانِ سنت ص۱۵۲)

دعائے عطار( دامَتْ بَرَکا تُھُمُ العا لِیہ) اے ہمارے مہربان اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دُرُودِ پاک کی بَرَکت سے مالِ دنیا کی مَحَبَّت سے نَجات عطافرماکر قناعت کی لازوال نعمت نصیب فرما۔(اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْا مِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلّم)
روزی میں بَرَکت کا بہترین نسخہ

حضرت سیدُنا سَہَلْ بن سَعَد رضی اﷲعنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ اَقْدَس شفیعِ روز ِمَحْشَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضر ہوکر اپنی مفلسی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، جب تم گھر میں داخل ہوتوگھر والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی نہ ہوتو مجھ پر سلام عرض کرو اور ایک بار قل ھواﷲشریف پڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا پھر اﷲ تعالیٰ نے اس کو اتنا مالا مال کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کی بھی خدمت کی۔

(الجامع لاحکام القر آن،للقرطبی،ج۲۰،ص۲۳۱،مطبوعہ پشاور )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم بھی اگر اپنے مسائل اللہ عَزَّوَجَلَّ ا ور اسکے پیارے رَسُوْل صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے فرمان کے مطابق حل کرنے کی سعی کريں تو اِنْ شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا اور آخِرت کی بے شماربھلائیاں حاصل کرنے میں ضَرورکامیاب ہونگے ۔

تنگدستی کا علاج

زبردست مُحَدِث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد کو خلیفۂ بغداد مامون رشید نے اپنے ہاں مدعو کیا، طَعام کے آخِر میں کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِثِ موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے۔ مامون نے حیران ہوکر کہا، اے شیخ، کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا، کیوں نہیں! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے، ”جو شخص دسترخوان کے نیچے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائے گا وہ تنگدستی سے بے خوف ہوجائے گا”۔

(اتحاف السادۃ المتقین،الباب الاول،ج۵،ص۵۹۷،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

میں اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کررہا ہوں۔ یہ سُن کر مامون بے حد مُتَأثِّر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینا ررومال میں باندھ کر لایا۔مامون نے اس کو حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد کی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کردیا۔ حضرتِ سیِّدناہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد نے فرمایا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ حدیثِ مبارَکہ پر عمل کی ہاتھوں ہاتھ بَرَکت ظاہر ہوگئی۔ (ثَمَراتُ الْاَوراق ج ۱ ص ۸)
احتیاطِ امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ

امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکا تُہُمُ العا لِیہ کوعُموماً کھانا کھا کر چائے ، شربت وغیرہ پینے کے بعد برتن میں پانی ڈال کر اچھی طرح ہِلا جُلا کرپیتے دیکھا گیا ہے تا کہ رِزْق کا کوئی ذرہ بھی ضائع نہ ہو ، ۱۴۲۳ ھ میں سفرِ چل مدینہ کے دوران آپ دامَتْ بَرَکا تُہُمُ العالِیہ کو دیکھا گیاکہ گرم پانی کے کَپ میں Tea packڈال کر چائے کی پتی حل فرمائی اور دودھ، چینی ڈالنے سے پہلے Tea packکو اچھی طر ح نِچوڑ کر نکالا (جب کہ عُموماً لوگ بغیر نچوڑے پھینک دیتے ہیں،اور کوئی نچوڑتے بھی ہیں تو چینی ،دودھ حل کرنے کے بعد۔) آپ دامَتْ بَرَکا تُہُمُ العا لِیہ نے جب چائے نوش فرمالی تو عرض کی گئی ، حضور !اس میں کیا حکمت ہے ؟ارشاد فرمایا ،میں نے محسوس کیا کہ دودھ اور چینی ڈالنے کے بعد اگر Tea pack نچوڑا جائے تودودھ اور چینی کے کچھ اجزاء Tea packمیں رہ جائیں گے ، اس لئے میں نے احتیا طاً پہلے نِچوڑ لیا ،تاکہ کوئی کارآمد جُز ضائع نہ ہونے پائے۔ (سُبْحان اللہ عَزَّوَجلَّ) واقعی امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکا تُہُمُ العا لِیہ کی مَدَنی احتیاطیں دیکھ کر دورِ اسلاف کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

ہیں شریعَت و طریقت کی حسیں تصویر جو
زُہدو تقویٰ کے نظارے حضرتِ عطار ہیں

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top