Education

وہی تھیلی بھیج دی اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

مضان شریف کا مہینہ آنے والا تھا۔ حضرت واقدیؒ کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ کو فکر لاحق ہوئی کہ رمضان کا مہینہ کیسے گزرے گا۔ آپ نے اپنے علوی دوست کی طرف رقعہ لکھا کہ رمضان شریف کا مہینہ آنے والا ہے اور میرے پاس خرچ کے لئے کچھ نہیں۔

مجھے قرض حسنہ کےطور پر ایک ہزار درہم بھئجئے۔ چنانچہ اس علوی نے ایک ہزار درہم کی تھیلی بھیج دی۔تھوڑی دیرے کے بعد حضرت واقدی کے ایک دوست کا رقعہ حضرت واقدی کی طرف گیا۔ کہ رمضان المبارک کے مہینہ کے لئے مجھے ایک ہزار درہم کی ضرورت ہے۔

مجھے ایک ہزار درہم بطور قرض بھیجے۔ حضرت واقدیؒ نے وہی تھیلی بھیج دی۔دوسرے دن وہی علوی دوست جن سے واقدیؒ نے قرض لیا تھا اور وہ دوسرےدوست جنھہوں نے واقدیؒ سے قرض لیا تھا۔ دونوں حضرت واقدی کے گھر آئے۔

اور علوی کہنے لگے کہ رمضان المبارک کا مہینہ آ رہا ہے اور میرے پاس ان ہزار درہموں کے سوا کچھ نہ تھا مگر جب آپ کا رقعہ آیا تو میں نے یہ ہزار درہم آپ کو بھیج دئے۔ اور اپنی ضرورت کے لئے اپنے دوست کو رقعہ لکھا کہ مجھے ایک ہزار درہم بھیج دیجئے اس نے وہی تھیلی جو میں نے آپ کو بھیجی تھی۔ مجھے بھیج دی۔

تو پتہ چلا کہ آپ نے مجھے سے قرض مانگا۔ میں نے اس اپنے دوست سے قرض مانگا، اور اس دوست نے آپ سے مانگا اور جو تھیلی میں نے آپ کو بھیجی تھی وہی تھیلی مجھے بھیج دی۔ پھر ان تینوں نے آپس میں اتفاق کر کے اس رقم کے تین حصے کئے اور اسی رات واقدیؒ کو حضورکی زیارت نصیب ہوئی اور فرمایا کل تمھیں بہت کچھ مل جائے گا۔

چنانچہ دوسرے روز امیر یحیٰی برمکی نے واقدی کو بلا کر پوچھا میں نے رات خواب میں تمھیں پریشان دیکھا ہے۔کیا بات ہے؟ واقدیؒ نے سارا قصہ سنایا۔ تو یحیٰی برمکی نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا۔ کہ تم تینوں میں سے کون زیادہ سخی ہے۔ تم تینوں ہی سخی اور واجب احترام ہو۔

پھر اس نےتیس ہزار درہم واقدیؒ کو اور بیس بیس ہزار ان دونوں کو دئیے اور واقدیؒ کو قاضی بھی مقرر کر دیا.سچے مسلمان سخی اور ایثار پیشہ ہوتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کرنےکی خاطر اپنی ضرورت کو ترک کر دیتے ہیں۔

لیکنآج ہمارے معاشرے کا عجیب حال ہے کہ صاحبِ استطاعت لوگوں کے دروازے پر جب کوئی ضرورت مند چلا جائے تو ہمیشہ ناکام و نادم ہو کر لوٹتا ہے، ضرورت بھی پوری نہیں ہوتی اور اس غریب کی عزت کا ڈھونڈرا بھی وہ صاحب استطاعت پورے محلے میں کرتا ہے کہ فلاں مجھے سے پیسے مانگنے آیا تھا۔

لیکن خوف خدا رکھنے والے مسلمان کے پاس کچھ بھی نہ ہو لیکن پھر بھی اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پورا کرنے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے اپنے مسلمان بھائی کیضرورت کو پورا کیا تو اللہ اس کی ضرورت کو پورا فرمائے گا“،

ایک اور جگہ میرے حضور صلیاللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی اللہ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ “

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top