Education

وہ حقیقی خادم اعلٰی گورنر جو قلی بن کر لوگوں کا سامان اٹھاکر گھروں میں پہنچا دیتے تھے،اسلام کی ایک ایسی جلیل القدر شخصیت جن کے بارے جان کر آپ کو سرکاری عہدوں اور عوامی خدمت کے اصل مقصد کی سمجھ آجائے گی

ایک مومن جب بھی کسی عہدے پر متمکن ہوتاہے وہ خود کو عوام کا خادم ہی سمجھتا ہے.انکی خدمت کا دعویٰ زبانی کلامی نہیں کرتا بلکہ عملاً بھی اسکی مثال قائم کرتا ہے.

اسلام کی تربیت کا مقصد بھی یہی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اپنی امارت اور عہدے کی بنا پر ہر طرح کے تکبر اور عاجزی سے محروم نہیں ہونا چاہئے.اسکی ایک عظیم مثال رسول اللہﷺ کے پیارے صحابی حضرت سلمان فارسیؓ نے قائم کرکے دکھائی تھی.حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں آپؓ کو مدائن کا گورنر بنایا گیا تو آپؓ اپنی سادہ وضع کے مطابق ہی گزربسر کرتے اور عام لوگوں کے ساتھ گھل مل کر شہر کا دورہ کرتے،لوگوں کے مسائل سنتے اور ان کی مدد فرماتے . حضرت ثابت بنائیؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سلمان فارسیؓ مدائن کے گورنر تھے تو اہل شام سے تعلق رکھنے والے بنو تیم قبیلے کا ایک آدمی مدائن آیا. اس کے پاس انجیر کا ڈھیر تھا. حضرت سلمانؓ نے اس وقت چوغہ زیب تن کر رکھا تھا. وہ آدمی حضرت سلمانؓ کو جانتا نہیں تھا، چنانچہ اس نے حضرت سلمانؓ کو قلی سمجھا اور کہا: ادھر آو اور انجیر کا یہ گٹھا اٹھاو. چنانچہ حضرت سلمانؓ نے وہ گٹھا اٹھا لیا. دوسرے لوگوں نے آپؓ کو دیکھا تو وہ اس شخص سے کہنے لگے’’ ارے! یہ تو مدائن کے گورنر ہیں‘‘ اس آدمی نے پریشان ہو کر کہا’’ مجھے معاف کر دیجئے! گستاخی ہو گئی. میں آپ کو جانتا نہیں تھا‘‘ حضرت سلمان فارسیؓ نے فرمایا: ’’اب یہ سامان اس وقت تک نیچے نہیں اتاروں گا جب تک تو اپنی منزل مقصود تک نہ پہنچ جائے. میں اس معاملے میں (ثواب کی ) نیت کر چکا ہوں، لہٰذا میں تیرے گھر پہنچنے سے پہلے اسے نہیں رکھوں گا. ‘‘حضرت سلمان فارسیؓ حضرت علیؓ کے دور خلافت تک اس عہدے پر قائم رہے لیکن آپؓ نے پیرانہ سالی کے باوجود اپنے معمولات خدمت ترک نہیں کئے تھے…

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top