Education

وہ وقت جب کرد عیسائیوں نے اسلام قبول کرنے کیلئے غوث اعظم ؒ سے مردہ کو زندہ کرنے کا معجزہ طلب کر لیا

حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ میں نقل کیا گیا ہے کہ نائب مصطفے تاجداربغداد پیر لاثانی، قطب ربانی محبوب سبحانی سیدنا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ اپنے چند مریدین کے ساتھ عراق کے کردستان علاقہ میں تشریف لے گئے. یہ پوری بستی کئی لاکھ افراد پر مشتمل تھی اور ان کا مذہب عیسائیت تھا .

طبیعت کے لحاظ سے بہت سخت قوم تھی .اسلام کا پیغام آنے کے باوجود سینکڑوں برس گزر جانے کے بعد اس قوم کے لوگ عیسائیت پر قائم تھے. آپ نے ان کے مرکز میں پہنچ کر ان کے بڑے بڑے سرداران قبائل کو دین اسلام کی دعوت دی.

آپ کی اس دعوت اسلام پر ان کاایک پادری سامنے آیا اور وہ اس قوم کا بہت بڑا عالم مانا جاتا تھا . وہ کچھ عرصہ بغداد شریف اور مصر میں بھی رہ چکا تھا .اس نے مسلمان علمائے کرام سے کچھ حدیثیں بھی سن رکھی تھی .

آپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگاکہ کیا آپ کےنبی(صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم) کا یہ فرمان ہے: میر ی امت کے علماء(ولی ) کا درجہ بنی اسرائیل کے نبیوں جیسا ہو گا. آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کیا تم کو اس میں کوئی شک ہے؟ وہ پادری کہنے لگا:حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے .

ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دیا تھا کہ وہ ٹھوکر سے مردہ کو زندہ کردیتے تھے. آپ کے نبی (صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم)کی حدیث کی رو سے آپ امت محمدیؐ کے علمائے کرام (ولیوں)میں سے ہیں. لہٰذا بنی اسرائیل کے پیغمبروں کی طرح ہوئے . وہ تو ٹھوکر سے مردہ زندہ کردیتے تھے تو ہم تو جب جانیں کہ آپ بھی مردہ کو زندہ کرکے دکھائیں.

آپ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ ہمارے آقا سرور کائنات (صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم) کی امت کے علمائے ربانیین یعنی اولیا ء اللہ کی شان یہی ہے .یہ تو کوئی مشکل بات نہیں . تم کون سے مردے کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو؟ چنانچہ قریب ہی ایک قبرستان کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اس مردہ کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں . آپ اس قبر کے قریب تشریف لے گئے اور

آپ نے اس قبر کو ٹھوکر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا : قم باذن اللہ . “اللہ کے حکم سے اٹھ”! قبر شق ہوگئی اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلا اور نکلتے ہیسلام کیا اور پوچھا کیا قیامت ہوگئی ؟ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ابھی قیامت نہیں ہوئی بلکہ تمہیں اٹھایا گیا ہے . تم اپنے بارے میں بتاؤ.

اس نے کہا : میں حضرت دانیال علیہ السلام کا امتی ہوں اور میں ان کے ماننےوالوں میں سے تھا . میراحال اچھا ہےاور اس دین اسلا م ہی برحق ہے اور فلاح و کامرانی اورنجات کا دارومداراسی دین کو قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے میں ہے.سرکارغوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب تم واپس جاؤ، تمہیں قیامت میں پھر اٹھایا جائے گا.

یہ عظیم کرامت دیکھ کر وہاں موجود تمام کردوں نے اور اس عالم نے اسلام قبول کرلیا اور اس طرح کرد قبائل نوراسلام سے منور ہوگئے. پھریہ لوگ اسلامی لشکر میں شامل ہوگئے .صلاح الدین ایوبیؒ کا تعلق بھی اسی کرد قوم سے تھا، ان کے والد بھی اسی دوران اپنی برادری کے ساتھ مسلمان ہوکر حضور غوث الاعظم سے بیعت ہوئے تھے اور بعد میں ملک شام کے زنگی سلاطین کے بہت بڑے فوجی جرنیل بنے.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top