Education

پُر اَسرار بھکاری ایمان افروز واقعہ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

یطان لاکھ روکے مگر یہ آرٹیکل مکمَّل پڑھ لیجئے اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ پڑھ کر آپ ہکّے بکّے رَہ جائیں گے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:اے لوگو ! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگاجس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُودشریف پڑھے ہوں گے ۔ (فردوسُ الاخبار ج۵ص۳۷۵ حدیث ۸۲۱۰ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ایک صاحِب کا بیان ہے:مدینۃُ الاوْلیاء ملتان شریف میں حضرتِ سَیِّدُنا غوث بہاؤ الحقِّ وَالدِّین زکریا مُلتانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کے مزارِ پُر اَنوار پر سلام عرض کرنے کے لئے میں حاضِر ہوا، فاتِحہ کے بعد جب لوٹنے لگا تو ایک شخص پر میری نظر پڑی جو مشغولِ دُعا تھا۔ میں ٹھِٹھک کر وَہیں کھڑارہ گیا۔ دراز قد، مگر بدن نہایت ہی کمزور اور چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی تھی۔ چَونک کر کھڑے ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے گلے میں پانی کا ایک ڈَول لٹکا ہوا تھا جس میں اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں ڈَ بَو رکھی تھیں، اُس کے چِہرے کو بَغور دیکھا تو کچھ آشنائی کی بُو آئی۔ میں اس کے فارِغ ہونے کا انتِظار کرنے لگا، جب اُس نے دعا ختم کی تو میں نے اُس کو سلام کیا، اُس نے سلام کا جواب دے کر میری طر ف بَغور دیکھا اور مجھے پہچان لیا۔ لمحہ بھر کے لئے اُس کے سُوکھے ہونٹو ں پرپِھیکی سی مُسکُراہٹ آئی اور فورًا ختم ہوگئی پھر حسبِ سابِق وہ اُداس ہوگیا۔ میں نے اُس سے گلے میں پانی کا ڈَول لٹکانے اور اُس میں دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں ڈَبَو ئے رکھنے کا سبب دریافت کیا۔ اِس پر اُس نے ایک آہ ِسَرد، دلِ پُر دَرد سے کھینچنے کے بعد کہنا شُروع کیا:

میری ایک چھوٹی سی پرچُون کی دُوکان ہے۔ ایک بار میرے پاس آکر ایک بِھکاری نے دستِ سُوال دراز کیا، میں نے ایک سِکَّہ نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیا، وہ دُعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔پھر دُو سرے دن بھی آیا اور اِسی طر ح سِکَّہ لے کر چلتا بنا۔ اب وہ روز روز آنے لگا اور میں بھی کچھ نہ کچھ اُس کو دینے لگا۔ کبھی کبھی وہ میری دُ کان پر تھوڑی دیر بیٹھ بھی جاتا اور اپنے دُکھ بھرے اَفسانے مجھے سُناتا۔ اُس کی داستا نِ غم نِشان سُن کر مجھے اُس پر بڑا تَر س آتا، ےيو ں مجھے اُس سے کافی ہمدردی ہوگئی اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھاک یارانہ قائم ہوگیا۔ دِن گُزرتے رہے۔ ایک بار خِلافِ معمول وہ کئی روز تک نظر نہ آیا مجھے اُس کی فِکر لاحِق ہوئی کہ ہو نہ ہو وہ بے چارہ بیمار ہوگیا ہے ورنہ اتنے ناغے تو اُس نے آج تک نہیں کئے میں نے اُس کا مکان تو دیکھا نہیں تھا البتّہ اتنا ضَرور معلوم تھا کہ وہ شہر کے باہَر ویرانے میں ایک جَھونپڑی میں تنہا رَہتا ہے۔ خیر میں تلاش کرتا ہوا بِالآخِر اُس کی جَھونپڑی تک پہنچ ہی گیا۔ جب اند ر داخِل ہوا تو دیکھاکہ ہر طر ف پُرانے چِیتھڑے بکھرے پڑے ہیں، ایک طرف چند ٹُوٹے پُھوٹے بر تن رکھے ہیں، اَلغَرَ ض دَر و دِیوار غُربت واِفلاس کے افسانے سُنا رہے تھے۔ ایک طر ف وہ ایک ٹُو ٹی ہوئی چار پائی پر لیٹا کَراہ رہا تھا، وہ سخت بیمار تھا اور ایسا لگتا تھا کہ اب جانْبَر(جاں۔بَر) نہ ہوسکے گا۔ میں سلام کر کے اُس کی چارپائی کے پاس کھڑا ہوگیا۔ اُس نے آنکھیں کھولیں اور میری طر ف دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی، اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا، میں بیٹھ گیا۔ بَمُشکِل تمام اُس نے لَب کھولے اور مَدہم آواز میں بولا: بھائی! مجھے مُعاف کردو کہ میں نے تم سے بَہُت دھوکہ کیا ہے۔ میں نے حیرت سے کہا: وہ کیا؟ کہنے لگا: میں نے تم کو اپنے دُکھ دَرد کے جتنے بھی اَفسانے سُنائے وہ سب کے سب مَن گھڑت تھے اور اِسی طر ح گھڑھی ہوئی داستانیں سُنا سُنا کر میں لوگوں سے بھیک مانگتا رہا ہوں۔ اَب چُونکہ بچنے کی بَظاہِر کوئی اُمِّید نظر نہیں آتی اِس لیے تمہارے سامنے حقائِق کا اِنکِشاف کئے دیتا ہُوں:

”میں مُتَوَسِّطُ الْحَال گھرانے میں پَیدا ہوا، شادی بھی کی، بچّے بھی ہوئے۔ میں کام چَور ہوگیا اور مُجھے بھیک مانگنے کی لَت پڑ گئی۔ میر ی بیوی کو میرے اِس پَیشے سے سَخْت نفرت تھی۔ اس سلسلے میں اکثر ہماری لڑائی ٹھنی رہتی۔ رَفتہ رَفتہ بچّے جوان ہوئے میں نے اُن کو اعلیٰ دَرَجے کی تعلیم دِلوائی تھی۔ اُن کو بڑی بڑی مُلازَمتیں مِل گئیں۔ اب وہ بھی مُجھ پر خفا ہونے لگے۔ اُن کا پَیہَم اِصرار تھا کہ میں بھیک مانگنا چھوڑ دُوں لیکن میں عا دت سے مجبور تھا، مجھے دولت سے بے حد پیار تھا اوربِغیر محنت کے آتی ہوئی دولت کو میں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ آخرِ کار ہمارا اِختِلاف بڑھتا گیا اور میں نے بیوی بچّوں کو خیر باد کہہ کر اِس ویرانے میں جَھونپڑی باندھ لی۔” اتنا کہنے کے بعد اُس نے چیتھڑوں کے ایک ڈَھیر کی طرف جو جھونپڑی کے ایک کونے میں تھا اِشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے چِیتھڑے ہٹاؤ اس کے نیچے تمہیں چار بور یاں نظر آئیں گی اُن میں سے ایک بو ری کا مُنہ کھول دو۔ چُنانچِہ میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے جُونہی بوری کا مُنہ کھولا تو میری آنکھیں پَھٹی کی پَھٹی رَہ گئیں اِس پُوری بوری میں نوٹو ں کی گَڈّیاں تِہ درتِہ رکھی ہوئی تھیں اور یہ ایک اچھّی خاصی رقم تھی۔ اب وہ بِھکاری مجھے بڑا پُر اَسرارلگ رہا تھا۔ کہنے لگا:یہ چاروں بوریاں اِسی طر ح نوٹو ں سے بھری ہوئی ہیں۔ میرے بھائی! دیکھو میں نے تم پر اعتِماد کر کے اپنا سارا راز فاش کر دیا ہے اب تم کو میری وصیَّت پر عمل کرنا ہو گا، کرو گے نا! میں نے حامی بھر لی تو کہا: دیکھو! میں نے اس دولت سے بڑاپیار کیا ہے، اِسی کی خاطِر اپنا بھرا گھر اُجاڑا،نہ کبھی اچھّا کھایا، نہ عُمدہ لباس پہنا، بس اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہا۔۔۔۔ پھر تھوڑا رُک کر کہا، ذرا نوٹو ں کی چند گڈِّیا ں تو اُٹھا کر لاؤ کہ انہیں تھوڑا پیار کرلوں!! میں نے بوری میں سے چند گڈِّیاں نکال کر اس کی طر ف بڑھادیں، اُس کی آنکھوں میں ایک دَم چمک آگئی او راس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہیں لے لیا اور اپنے سینے پر رکھ دیا اور باری باری چومنے لگا، ہر ایک گڈِّی کو چومتا اور آنکھوں سے لگا تا جاتا اور کہتا جاتا کہ میری وصیّت خاص وصیّت ہے اور اس کو تمہیں پُورا کرنا ہی پڑے گا اور وہ یہ ہے کہ میری زِندَگی بھر کی پُونجی یعنی چاروں نوٹوں کی بوریوں کو تمہیں کسی طرح بھی میرے ساتھ دَفن کرنا ہوگا۔ میں نے وعدہ کرلیا۔ وہ نہایت حسرت کے ساتھ نوٹوں کو چوم رہا تھا کہ اچانک اس کے حَلق سے ایک خوفناک چیخ نکل کر فَضا کی پہنائیوں میں گُم ہوگئی،میں خوف کے مارے تَھرتَھر کانپنے لگا، اُس کا نوٹو ں والا ہاتھ چار پائی کے نیچے کی طر ف لٹک گیا،نوٹ ہاتھ سے گِر پڑے۔ اور سَر دُوسری طرف ڈَھلَک گیا اور اُس کی رُو ح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔

میں نے جلدہی اپنے آپ پر قابو پالیا اور اس کے سینے وغیرہ سے اور نیچے سے بھی نوٹ اکٹھے کر کے اس بوری میں واپس ڈال دیئے۔ بوری کا مُنہ اچھّی طرح بند کر کے چاروں بوریاں حسبِ سابِق چیتھڑوں میں چُھپا دِیں۔ پھر چند آدمیوں کو ساتھ لے کر اس کی تکفین کی اور کسی بھی حِیلے سے بڑی سی قَبْر کُھدوا کر حسب ِوصیَّت وہ چاروں بوریاں اُس کے ساتھ ہی دَفْن کردیں۔
کچھ عَرصے بعد مجھے کاروبار میں خَسارہ شروع ہوگیا اور نوبت یہاں تک آگئی کہ میں اچھّا خاصا مَقروض ہوگیا۔ قرض خواہوں کے تقاضوں نے میرے ناک میں دم کردیا، ادائے قرض کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی۔ایک دن اچانک مجھے اپنا وُہی پُرانا یار پُر اَسرار بھکاری یادآگیا۔ اور مجھے اپنی نادانی پر رَہ رَہ کر افسوس ہونے لگا کہ میں نے اُس کی وصیَّت پر عمل کر کے اتنی ساری رقم اس کے ساتھ کیوں دَفن کردی۔ یقینامرنے کے بعد اُسے قَبْر میں اس کے مال نے کوئی نَفع نہ دینا تھا، اگر میں اُس مال کو رکھ لیتا تو آج ضَرور مالدار ہوتا۔ مزید شیطان نے مجھے مشورے دینے شروع کیے کہ اب بھی کیا گیا ہے۔ وہاں قَبْر میں اب بھی وہ دولت سلامت ہوگی۔ میں نے کسی پر ابھی تک یہ راز ظاہِر کیا ہی نہیں ہے، حِیلہ کر کے میں نے تو بوریاں دَفن کی ہیں، وہ اب بھی قَبْر میں موجود ہوں گی۔ شیطان کے اِس مشورے نے مجھ میں کچھ ڈھارس پیدا کی اورمیں نے عزْ م کرلیا کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے میں وہ نوٹوں کی بوریاں ضَرور حاصِل کر کے رہوں گا۔
ایک رات کُدال وغیرہ لے کر میں قَبْرِستان پہنچ ہی گیا۔ میں اب اُس کی قَبْر کے پاس کھڑا تھا، ہر طرف ہولناک سنّاٹا اور خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی، میرا دل کسی نامعلوم خوف کے سبب زور زور سے دَھڑک رہا تھا اور میں پسینے میں شرابُور ہورہا تھا۔ آخرِ کار ساری ہمّت جَمْعْْ کر کے میں نے اُس کی قَبْر پر کُدال چلا ہی دی۔ دو۲ تین ۳ کُدال چلانے کے بعد میرا خوف تقریباً جاتا رہا، تھوڑی دیر کی محنت کے بعد میں اُس میں ایک مُناسِب سا شِگاف کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اب بس ہاتھ اندر بڑھانے ہی کی دیر تھی لیکن پھر میری ہمّت جواب دینے لگی، خوف و دَہشت کے سبب میرا سارا وُجود تَھرتَھر کانپنے لگا ،طرح طرح کے ڈراؤنے خیالات نے مجھ پر غَلَبہ پانا شُروع کیا، ضمیربھی چِلّا چِلّا کر کہہ رہا تھا کہ لَوٹ چلو اور مالِ حرام سے اپنی عاقِبت کو برباد مَت کرو لیکن بِالآخِر حِرص و طمع غالِب آئی اور مالدار ہوجانے کے سُنہرے خواب نے ایک بار پھر ڈھارس بندھائی کہ اب تھوڑی سی ہمّت کرلو منزلِ مُراد ہاتھ میں ہے۔ آہ! دولت کے نشے نے مجھے انجام سے بالکل غافِل کردیا اور میں نے اپنا سیدھا ہاتھ قَبْر کے شِگاف میں داخل کردیا! ابھی بوری ٹَٹَول ہی رہا تھا کہ میرے ہاتھ میں اَنگارا آگیا۔ دَرْد وکَرْب سے میرے مُنہ سے ایک زوردار چیخ نکل گئی اور قبرِستان کے بھیانک سنّاٹے میں گم ہوگئی، میں نے ایک دَم اپنا ہاتھ قَبْر سے باہَر نکالا اور سرپر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ میرا ہاتھ بُری طرح جُھلَس چکا تھا اور مجھے سخت جَلن ہورہی تھی، میں نے خوب رو رو کر بارگاہِ خُداوندی عزوجلَّ میں توبہ کی میرے ہاتھ کی جلن نہ گئی۔ اب تک بے شُمار ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج بھی کراچکا ہوں لیکن ہاتھ کی جلن نہیں جاتی۔ ہاں اُنگلیاں پانی میں ڈَبونے سے کچھ آرام ملتا ہے۔ اسی لیے ہر وَقت اپنا دایاں ہاتھ پانی میں رکھتا ہوں۔
اُس شخص کی یہ رِقّت انگیز داستان سُن کر میرا دل ایک دم دُنیا سے اُچاٹ ہوگیا۔ دنیاکی دولت سے مجھے نفرت ہوگئی اور بے ساختہ قرآن عظیم کی یہ آیات مجھے یاد آگئیں:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ (1)

اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾ (پ۳۰، التکاثر ۱،۲)

(1) ترجَمۂ کنزالایمان: اللہ (عزوجل ) کے نام سے شُروع جو نہایت مہربان رحم والا۔ تمہیں غافِل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟مال کی مَحبت نے کس قدر تباہی مچا ئی۔ بھکاری اپنے مالِ حرام کو چُومتے چُومتے مرااور اُس کا دوست اس مالِ حرام کو حاصل کرنے گیا تواِس مصیبت میں پڑا۔اﷲ عزوجل اُس پُراسرار بھکاری اور اُس کے دوست کے گناہوں کو معاف فرمائے اور ان دونوں کی بے حساب مغفِرت کرے اور یہ دعائیں ہم گنہگاروں کے حق میں بھی قبول فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نُمونے مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

دولت سے دوا مل سکتی ہے شفا نہیں

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے لیے ان کی لرزہ خیز داستان میں عبرت کے بیشمار مَدَنی پھول ہیں۔ ہر وقت مال ودولت کی حِرص وطمع میں رَچے بسے رہنے والوں کے لیے، جمعِ مال کی ہوَس میں حلال وحرام کی تمیزاُٹھا دینے والوں کیلئے، کاروباری مشغولیات کے سبَب نَماز کی جماعت بلکہ مَعاذَاللہ عزوجل نَماز ہی برباد کردینے والوں کے لیے اور زندَگی کاسُکون صِرف اورصِرف مال ودولت میں تلاش کرنے والوں کے لیے عِبرت ہی عِبرت ہے۔ یاد رکھئے!دولت سے دوا تو خریدی جاسکتی ہے،شِفا نہیں خریدی جاسکتی۔ دولت سے دوست تو مل سکتے ہیں مگر وفا نہیں مِل سکتی۔ دولت سببِ ہلاکت تو ہوسکتی ہے مگر اسکے ذَرِیعے موت نہیں ٹالی جاسکتی۔ دولت سے شُہرت توحاصِل ہوسکتی ہے مگر عزّت حاصِل نہیں ہوسکتی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!” پُراسرار بھکاری” کی لرزہ خیز داستان میں پیشہ وَر بھکاریوں کیلئے بھی عبرت کے مَدَنی پھول ہیں۔ یاد رکھئے! بطورِ پیشہ بھیک مانگنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے، جو بِلا اجازت شَرعی سُوال کرتا ہے وہ جہنَّم کی آگ اپنے لئے طلب کرتا ہے اور اِس طرح جتنی رقم زِیادہ حاصِل کر یگا اُتنا ہی نار (یعنی آگ) کا زیادہ حقدار ہو گا ۔ اِس ضِمن میں چار احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرمایئے۔ چار فرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:

(۱) جو شخص لوگوں سے سُوال کرے، حالانکہ نہ اُسے فاقہ پہنچا، نہ اتنے بال بچّے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قِیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اُس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا۔” (شعب الایمان ج۳ ص ۲۷۴ حدیث ۳۵۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

(۲) ” جو شخص بغیر حاجت سُوال کرتا ہے ، گویا وہ انگارا کھاتا ہے (المعجم الکبیر، ج۴ ص۱۵ حدیث ۳۵۰۶ دار احیاء التراث العربی بیروت)

(۳) ” جو مال بڑھانے کے لیے سُوال کرتا ہے، وہ انگارے کا سُوال کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم کا سُوال کرے (صحیح مسلم ص ۵۱۸، حدیث ۱۰۴۱ دار ابن حزم بیروت)

(۴) جو شخص لوگوں سے سُوال کرے، اس لیے کہ اپنے مال کو بڑھائے تو وہ جہنَّم کا گرم پتّھر ہے، اب اسے اختیار ہے، چاہے تھوڑا مانگے یا زِیادہ طلب کرے۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج۵ ص ۱۶۶ حدیث ۳۳۸۲دارالکتب العلمیۃبیروت)

(۲)قَبر کے شُعلے اور دُھوئیں (1)

وہ پانچوں وقت پابندی سے نماز پڑھتے تھے، مالدارہونے کے ساتھ ساتھ بڑے سخی دل بھی تھے،دل کھول کر غریبوں اور بیواؤں کی اِمداد کیا کرتے، کئی یتیم بچّوں کی شادیاں بھی کروادیں، حج بھی کیا ہوا تھا۔ 1973 ؁ کی ایک صُبح اُن کا اِنتِقال ہوگیا۔ بے حد ملنسار اور بااَخلاق ہونے کے سبب اہلِ محلہ مرحوم سے بَہُت مُتأَ ثِّر تھے لہٰذا سوگواروں کا تانتا بندھ گیا۔ ان کے جنازے میں بھی لوگوں کا کافی ازدحام تھا۔ سب لوگ قبرِستان آئے۔ قَبْر کھود کر تیاّر کرلی گئی۔ جُوں ہی میِّت قَبْر میں اُتارنے کے لئے لائے کہ غَضَب ہوگیا! یکایک قَبْر خود بخود بند ہوگئی!!سارے لوگ حیران رہ گئے، دو بارہ زمین کھودی گئی۔ جب میِّت اُتارنے لگے تو پھرقَبْر خود بخود بند ہوگئی! سارے لوگ حیران و پریشان تھے، ایک آدھ بار مزیدایسا ہی ہوا، آخِرِ کار چوتھی بارتدفین میں کامیاب ہوہی گئے۔ فاتِحہ پڑھ کر سب لَوٹے اورابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ ایسا محسوس ہوا جیسے زمین زور زورسے ہِل رہی ہے! لوگوں نے بے ساختہ پیچھے مُڑکر دیکھا تو ایک ہوش اُڑادینے والا منظر تھا۔ آہ! قبر میں دراڑیں پڑ چُکی تھیں، اس میں سے آگ کے شعلے اور دھوئیں اُٹھ رہے تھے اورقَبْر کے اندر سے چیخ و پُکار کی آواز بالکل صاف سُنائی دے رہی تھی۔ یہ لرزہ خیر منظر دیکھ کر سب کے اَوسان خطا ہوگئے اور جس سے جس طرح بن پڑا بھاگ کھڑا ہوا۔ لوگ حیرت زدہ اوربے حد پریشان تھے کہ بظاہِر نیک، سخی اور بااَخلاق انسان کی آخِر ایسی کون سی خطا تھی جس کے سبب یہ اِس قَدَر ہولناک عذابِ قَبْر میں مبتَلا ہوگیا۔ تحقیق کرنے پر اس کے حالات کچھ یُوں سامنے آئے: ”مرحوم بچپن ہی سے بَہُت ذہین تھا، ماں باپ نے اعلیٰ تعلیم دلوائی، جب خوب پڑھ لِکھ لیا تو کسی طرح بھی سِفارِش یا رِشوت کے زور پر ایک سرکاری مَحکمہ میں مُلازمت اختِیار کرلی۔ رِشوت کی لَت پڑگئی۔ رِشوت کی دولت سے پلاٹ بھی خریدا اور اچّھا خاصا بینک بیلنس بھی بنایا۔ اِسی سے حج بھی ادا کیا اور ساری سخاوت بھی اِسی مالِ حرام سے کیا کرتا تھا۔” ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی پناہ کے طلبگار ہیں۔

حُسنِ ظاہر پر اگر تُوجائے گا عالَمِ فانی سے دھوکہ کھائے گا
یہ مُنَقَّش سانپ ہے ڈس جائے گا کر نہ غفلت یاد رکھ پچھتائے گا
ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے
کرلے جو کرنا ہے آخِر موت ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟مالِ حرام حاصِل کرنے والے کا کس قَدَرلرزہ خیز انجام ہوا۔ یادرکھئے !بحکم حدیث، رشوت دینے والا اوررشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ج۱ ص۵۵۰ حدیث ۲۰۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
حرام مال کی خیرات نا مقبول ہے

حرام مال سے کئے جانے والے نیک کام بھی قَبول نہیں کیے جاتے، کیونکہ اللہ عزوجل پاک ہے اور پاک مال ہی کوقَبول فرماتاہے۔چُنانچِہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلْب و سینہ، فیض گنجینہ، باعثِ نُزُول سکینہ، صاحبِ مُعَطّر پسینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کافرمانِ عبرت نشان ہے: جوشَخص حرام مال کماتا ہے اور پھر صدَقہ کرتا ہے اُس سے قَبول نہیں کیا جائے گا اور اُس سے خَرچ کریگا تو اِس کے لیے اُس میں بَرَکت نہ ہوگی اور اسے اپنے پیچھے چھوڑ ے گا تو یہ اس کے لیے دوزخ کا زادِ راہ ہوگا۔ (شرح السنۃ للبغوی ج۴ ص۲۰۵،۲۰۶ حدیث ۲۰۲۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

لُقمۂ حرام کی تباہ کاریاں

منقول ہے: بنی آدم کے پیٹ میں جب حَرام کا لقمہ پڑا ،تو زمین و آسمان کا ہر فرشتہ اُس پر لعنت کریگا ،جب تک کہ وہ لقمہ اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں مریگا تو اس کا ٹھکانہ جہنَّم ہو گا۔ ( مکاشَفَۃُ القُلُوب ،ص ۱۰ دارالکتب العلیمیۃ بیروت)

(۳)ٹیڑھی قَبْر

۲۷ جُمادِی الاوّل ۱۴۱۱ ؁ھ کو ایک پولیس افسر کا جنازہ راولپنڈی رتہ امرال قبرِستان میں لایاگیا ،جب اسے قَبْر میں اُتاراجانے لگا تو یکایک قَبْرٹیڑھی ہوگئی! پہلے پہل تو لوگوں نے اسے گورکَن کا قُصور قرار دیا۔ دوسری جگہ قَبْر کھودی گئی، جب میِّت کو اُتارنے لگے تو قَبْر ایک بار پھر ٹیڑھی ہوگئی!! اب لوگوں میں خوف وہِراس پھیلنے لگا۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا۔ قَبْر حیرت انگیز حد تک اِس قَدَر ٹیڑھی ہوجاتی کہ تدفین ممکِن نہ رہتی۔بِالآخِر شُرَکائے جنازہ نے مِل جُل کر مرحوم کیلئے دعائے مغفِرت کی اورپانچویں قَبْر میں ہر حال میں تدفین کا فیصلہ کیا گیا۔ چُنانچِہ پانچویں بار قَبْر ٹیڑھی ہونے کے باوُجُود زبردستی پھنسا کر میّت کو اُتاردیا گیا۔ ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی پناہ کے طلبگار ہیں۔

اَجَل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا اِسی سے سکندر سا فاتِح بھی ہارا
ہراک لے کے کیا کیا نہ حسرت سِدھارا پڑا رہ گیا سب یُونہی ٹھاٹھ سارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پولیس افسر کے اِس لرزہ خیز واقِعہ میں عبرت ہی عبرت ہے۔اللہ عزوجل بہتر جانے اُس پولیس افسر کے کیا کیا گناہ تھے جس کی وجہ سے اُس کو لوگوں کیلئے سامانِ عبرت بنا دیا گیا! جس کوعُہدہ و منصب اور اِقتِدار کی خواہِش ہو وہ یہ روایت غور سے مُلا حَظہ کرے:

جہنّم میں پَھینکا جائے گا

حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲ ابنِ عبّاس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ، اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالی شان ہے: جو شخص دس افراد کا حاکم بنا پھر ان کے درمِیان فیصلے کرتا رہا ،لوگوں نے اس کے فیصلے پسند کئے ہوں یا ناپسند۔قِیامت کے دن اُسے اِس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اُس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے۔ اب اگر (دنیا میں)اللہ عزوجل کے نازِل فرمائے ہوئے اَحکام کے مطابِق فیصلہ کیا ہو گا اور رشو ت بھی نہ لی ہوگی اور نہ ہی ظُلم کیا ہوگاتو اﷲ تعالیٰ اس کو آزاد فرمادے گا اور اگراللہ عزوجل کے نازِل فَرمُودہ اَحکام کےخلاف فیصلہ کیا ہو گا، رشوت بھی لی ہو گی اور نا انصافی کی ہو گی تو اس کا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ باندھا جائے گاپھر اسے جہنَّم میں پھینک دیا جائے گا تو یہ جہنَّم کی تِہ تک پانچ سو سال میں بھی نہ پہنچ سکے گا۔

(المستدرک للحاکم ج۵ ص۱۴۰ حدیث ۷۱۵۱ دار المعرفۃ بیروت )

(۴)مُردہ اُٹھ بیٹھا

جوہر آباد (ٹنڈوآدم) کے ایک کپڑے کے تاجِر کی لرزہ خیز داستان سنئے اور کانپئے:اخباری اِطّلاع کے مطابِق قبرِسْتان میں ایک جنازہ لایا گیا۔ امام صاحِب نے جُوں ہی نمازِ جنازہ کی نیَّت باندھی مُردہ اُٹھ کر بیٹھ گیا! لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ امام صاحِب نے بھی نیَّت توڑ دی اورکچھ لوگوں کی مدد سے اس کو پھرلٹا دیا۔ تین مرتبہ مُردہ اُٹھ کر بیٹھا۔ امام صاحِب نے مرحوم کے رشتہ داروں سے پوچھا :کیا مرنے والا سود خور تھا؟ انہوں نے اِثبات (یعنی تصدیقاً ہاں) میں جواب دیا۔ اِس پرامام صاحِب نے نَمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا! لوگوں نے جب لاش قَبْر میں رکھی تو قَبْر زمین کے اندر دھنس گئی۔ اس پر لوگوں نے لاش کو مِٹّی وغیرہ سے دباکر بِغیر فاتِحہ ہی گھر کی راہ لی۔ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی پناہ کے طلبگار ہیں۔ ؎

سُود و رِشوت میں نحوست ہے بڑی
اور دوزخ میں سزا ہوگی کڑی

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top