Education

کیا عورت اپنے شوہر کو طلاق دے سکتی ہے ایک اہم سوال کا مدلل جواب ملا خط کیجئے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا نکاح نامے میں طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردینے سے وہ اپنے شوہر کوطلاق دے سکتی ہے؟جی ہاں ایسی صورت میں “أمرك بيدك” کے حکم کی روسے وہ طلاق کا حق استعمال کر کے ایسے برے شوہر سے نجات حاصل کر سکتی ہے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:۔

“إذا قال لامرأته: أمرك بيدك أو استفلحي بأمرك أو وهبها لأهلها فقبلوها فهي واحدة بائنة”اگر آدمی اپنی بیوی سے کہے تیرا اختیار تیرےہاتھ میں ہے، یا تم اپنے معاملے میں کامیاب ہو جاؤ یا وہ اس(حق)کو اس بیوی کے گھر والوں کے حوالے کر دے پھر وہ اسے قبول کر لیں تو یہ ایک (طلاق )بائن (نکاح کو ختم کر دینے والی)ہے.(المعجم الکبیر للطبرانی9/379ح9627وسندہ حسن)ابو الحلال العقیلی رحمۃ اللہ علیہ (ثقہ)سے روایت ہے کہ وہ (سیدنا ) عثمان( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس وفد میں آئے تو کہا:ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اس کا اختیار دے دیا ہے؟

انھوں نے فرمایا:”فامرها بيدها”پس اس عورت کا اختیار اس عورت کے ہی پاس ہے.(مصنف ابن ابی شیبہ565ح1807وسند صحیح سنن سعید بن منصور 372ح 1615)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو اس کا اختیار دے دیا تو انھوں نے فرمایا:وہ عورت جو فیصلہ کرے گی وہی فیصلہ ہے پھر اگر وہ دونوں ایک دوسرے کا انکار کریں تو مرد کو قسم دی جائے گی.(مصنف ابن ابی شیبہ نسخہ محمد عوامہ 9/58ح18388وسند صحیح نیز دیکھئے سنن سعید بن منصور 1/373ح1620وسندہ صحیح)یہاں پر چونکہ یہ اختیار نکاح نامے پر شوہر کے دستخطوں اور گواہوں کے ساتھ لکھا ہوا ہے لہٰذا یہاں کسی قسم کے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے کہ وہ عورت جو فیصلہ کرے گی وہی فیصلہ نافذ ہو گا.(دیکھئے سنن الترمذی 1178باب ماجاء فی المرک بیدک )ان آثار کو مد نظر رکھ کر یہی فیصلہ ہے کہ مذکورہ عورت (س)اگر اپنے آپ کو تین طہروں میں تین دفعہ طلاق دے گی تو طلاق نافذ ہو جائے گی اورس اور ف کے درمیان جدائی واقع ہو جائے گی.۔

صورت مسئولہ میں س کا شوہر ف پورا حق مہر ادا کرنے اور شروط پورا کرنے کا پابند ہو گا.چند مزید فوائد حسب مطالبہ پیش خدمت ہیں.1.جو عورت اپنے شوہر سے خلع لے لے تو یہ فسخ ہوتا ہے.(دیکھئے کتاب الام للا مام الشافعی ج5ص114ماہنامہ الحدیث حضرو:67ص9)لہٰذا اگر وہ دونوں بعد میں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو یہ جائز ہے.فسخ کا مطلب ہے کہ نکاح (بغیر طلاق کے) ٹوٹ گیا.2.جو عورت اپنے شوہر سے خلع لے تو اس کی عدت ایک مہینہ ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے.(دیکھئے سنن الترمذی 1185م الحدیث حضرو 68ص8.7)3.ماں اپنی اولاد(بچے یا بچیوں )کی زیادہ حقدار ہےبشرطیکہ وہ دوسرا نکاح نہ کرے.جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“أنت أحق به ما لم تنكحي”“تو اس بچے کی زیادہ حقدار ہے جب تک تو دوسرا نکاح نہ کرے.”(سنن ابی داؤد 2276 مستدرک الحاکم 2/207 وصححہ الحاکم دوافقہ الذہبی وھو حدیث حسن مسند احمد2/182،203)بعض حالتوں میں بچوں کو اختیار بھی دیا جا سکتا ہے کہ اگر ماں کے ساتھ رہنا چاہیں تو رہیں اور اگر باپ کے ساتھ رہنا چاہیں تو رہیں.(دیکھئے سنن ابی داؤد 2277وسندہ صحیح سنن الترمذی 1357وقال حسن صحیح)۔

4.اگر لڑکے یا لڑکی کی طرف سے ایک دوسرے کو دھوکا دیا گیا ہو اور دھوکے کی شادی کی گئی ہو تو حرام فعل اور ایسا کرنے والا گناہ گار ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“من غشنا فليس منا”“اور جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سےنہیں.”(صحیح مسلم 101283)5. نکاح کے وقت فریقین جو شرائط طے کریں ان کا پورا کرنا ضروری ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“إن أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج”“تمام شرطوں میں وہ شرطیں سب سے زیادہ پوری کی جانے کے لائق ہیں جن کے ذریعے سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے
یعنی نکاح کی شرطیں ضرور پوری کرنی ہوں گی.”(صحیح بخاری 5151مترجم مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ج6ص556)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داماد ابو العاص بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو فرمایا:“حدّثني فصدقني، ووعدني فوفى لي”“اس نے میرے ساتھ باتیں کیں تو سچ کہا اور وعدہ کیا تو اسے پورا کیا.”(صحیح بخاری 3729)وما علینا الا البلاغ

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top