Education

گنھگار کی نماز جنازہ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

ایک آدمی جو گناہوں میں مُنْہَمِک رہتا تھا، مر گیا، وہ بصرہ کے قریب رہتا تھا مگر جب وہ مرا تو اس کی عورت نے ایسا کوئی آدمی نہ پایا جو جنازہ اٹھانے میں اس کا ہاتھ بٹاتا کیونکہ اس کے ہمسائے اس کے کثرتِ گناہ کے سبب کنارہ کش ہوگئے۔چنانچہ اس نے دو مزدور اُجرت پرلئے اور وہ اسے جنازہ گاہ میں لے گئے مگر کسی نے اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی اور وہ اسے صَحرا میں دفن کرنے کیلئے لے گئے۔اس علاقے کے نزدیک پہاڑ میں ایک بہت بڑا زاہد رہتا تھا، عورت جب اپنے شوہر کا جنازہ اٹھوا کر لے گئی تو زاہد کو منتظر پایا چنانچہ زاہد نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا ارادہ کیا تو شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ زاہد پہاڑ سے اترا ہے تاکہ فلاں شخص کی نمازِ جنازہ پڑھائے چنانچہ شہر کے سب لوگ وہاں روانہ ہوگئے اور انہوں نے زاہد کی اِقتدا میں اسکی نمازِ جنازہ پڑھی۔لوگوں کوزاہد کے اس فعل سے سخت حیرت ہوئی، زاہد نے کہا کہ مجھ سے خواب میں کہا گیا ہے

کہ فلاں جگہ جاؤ، وہاں تمہیں ایک جنازہ نظر آئے گا جس کے ساتھ صرف ایک عورت ہوگی، تم اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھو کیونکہ وہ مَغْفُور ہے، یہ بات سن کر لوگوں کے تعجب میں اور اضافہ ہوا۔زاہد نے عورت سے اس مرد کے حالات دریافت کئے اور اس کی بخشش کے اسباب کی تحقیق کرنا چاہی تو عورت نے کہا جیسا کہ مشہور ہے اس کا سارا دن شراب خانے میں گزرتا اور شراب میں مست رہتے گزرتا تھا۔

زاہد نے کہا کہ کیا تم اس کی کسی نیک عادت کوبھی جانتی ہو؟ عورت نے کہا: ہاں تین چیزیں جانتی ہوں ، جب وہ صبح کے وقت مَدہوشی سے اِفاقہ پاتا تو کپڑے تبدیل کرتا، وُضو کرتا اور صبح کی نماز جماعت سے پڑھا کرتا تھا پھر شراب خانہ میں جاتا اور بدکاریوں میں مشغول رہتا۔
دوسرے یہ کہ اس کے گھر میں ہمیشہ ایک یا دو یتیم رہا کرتے تھے، ان سے وہ اولاد سے بھی زیادہ مہربانی سے پیش آیا کرتا تھا۔۔

تیسرے یہ کہ جب وہ رات کی تاریکی میں نشہ کی مَدہوشی سے اِفاقہ پاتا تو روتا اور کہتا: اے ربِّ کریم! جہنم کے کونوں میں سے کونسے کونے کو میرے اس خبیث نفس سے تو پُر کرے گا؟ زاہد یہ سنتے ہی لوٹ گیا اور اس کی بخشش کا راز کھل گیا۔(المكاشفة الكبري للامام الغزالي)نصیحت:جنازے، دیکھنے والوں کے لئے سامانِ عبرت ہوتے ہیں ، اس میں عقلمندوں کے لئے یاد دِہانی اور تَنْبِیہ ہوتی ہے مگر غافل اس سے غافل ہی ہوتے ہیں ، ان کا مشاہدہ ان کے دلوں کی سختی کو زیادہ کرتا ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے جنازے دیکھتے رہیں گے اور یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں بھی ایک دن لامحالہ اسی طرح اٹھایا جائے گا۔

یا وہ اس پر غور و فکر کریں لیکن وہ قرب کے باوجود غوروفکر نہیں کرتے اور نہ ہی یہ سوچتے ہیں کہ آج جو لوگ جنازوں پر اٹھائے جارہے ہیں یہ بھی ان کی طرح گنتی و شمار میں لگے رہتے تھے مگر ان کے سب حساب باطل ہوگئے ہیں اور عنقریب ان کی میعاد ختم ہوگی لہٰذا کوئی بندہ جنازے کو نہ دیکھے مگر خود کو اسی حالت میں دیکھے کیونکہ عنقریب وہ بھی اسی طرح اٹھا کر لیجایا جائے گا، وہ اٹھ گیا، یہ کل یا پرسوں اس دنیا سے اٹھ جائے.

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top