Education

ہاتھوں کے اندر تصاویر، ویڈیوز دیکھنا ممکن اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

ویسے تو یہ بات شاید آپ کو سائنس فکشن لگے مگر مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی آنے کی امید بھی روشن ہوگئی ہے، جس کی مدد سے آپ کے ہاتھوں کے اندر بھی تصاویر، اینیمیشن اور فلمیں وغیرہ ریکارڈ اور پلے کی جاسکیں گی.جی ہاں ایک امریکی یونیورسٹی نے اس حیرت انگیز ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا ہے.

ہارورڈ یونیورسٹی کے وائیس انسٹیٹیوٹ فار بائیولوجیکلی انسپائرڈ انجینئرنگ کے ماہرین نے زندہ خلیات میں ایک تصویر اور مختصر فلم کو اَپ لوڈ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا.اس تحقیقی ٹیم نے پہلے مالیکیولر ریکارڈر تیار کیا جس کے لیے جین ایڈیٹنگ سسٹم کرسپر کو استعمال کیا گیا.اس کا مقصد ڈیٹا کو زندہ خلیات کے جینوم میں ریکارڈ کرنا تھا جس تک بعد میں رسائی حاصل کی جاسکے، جبکہ اس سے امراض کے خلاف لڑنے اور حیاتیات کو زیادہ گہرائی میں سمجھنے میں مدد مل سکے.اس ناممکن نظر آنے والے ہدف کو ممکن دکھانے کے لیے ٹیم نے کامیابی سے ایک انسان کی تصویر اور گھڑ سواری کی ایک مختصر فلم یا جی آئی ایف کو ڈی این اے کے بیکٹریا سیلز میں اِن کوڈ کرنے کا تجربہ کیا.اس کا مطلب یہ نہیں کہ بہت جلد آپ اپنے پسندیدہ ڈرامے یا فلمیں اپنے ہاتھوں میں دیکھ سکیں گے تام مستقبل میں ایسا بالکل ممکن ہے.درحقیقت تحقیقی ٹیم زندہ خلیات کو حیاتیاتی طور پر طیاروں میں پائے جانے والے بلیک باکس جیسا بنانے کی خواہشمند ہے جس میں ہر طرح کا اہم ڈیٹا ریکارڈ ہوتا ہے.اس کا کہنا تھا کہ ہم ایسا حیاتیاتی میموری سسٹم چاہتے ہیں جو بہت چھوٹا اور آج کی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو، جس کے ذریعے مستقبل میں متعدد ایونٹس کو ٹریک کیا جاسکے.ٹیم کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو امراض کے بارے میں جاننے یا علاج کے لیے استعمال کیا جاسکے گا.اور ہاں اس ٹیکنالوجی سے انسانی بائیولوجی کے سب سے بڑے معمے کو بھی حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ دماغ کس طرح کام کرتا ہے…

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top