educationa

باحیا نوجوان اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

گر آپ حیا کی بَرَکتیں لوٹنا چاہتے ہیں تو یہآرٹیکل اوّل تا آخر پورا پڑھ لیجئے۔

شَفاعت کی بِشارت

حضرتِ سَیِّدُنا ابو دَرْداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ میٹھے میٹھے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”جو شَخص صُبح و شام مجھ پر دس دس بار دُرُود شریف پڑھے گا بروزِ قِیامت میری شَفَاعت اُسے پَہُنچ کر رہے گی۔” (اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ج۱ ص۲۶۱حدیث ۲۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بَصرہ میں ایک بُزُرگ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ”مِسکی” کے نام سے مشہُور تھے۔ ”مُشک” کو عَرَبی میں ”مِسْک” کہتے ہیں۔ لہٰذا مِسکی کے معنیٰ ہوئے ”مُشکبار” یعنی مُشک کی خوشبُو میں بَسا ہوا۔ وہ بُزُرگ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ہر وَقْت مُشکبار و خوشبودار رہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس راستے سے گُزر جاتے وہ راستہ بھی مَہَک اُٹھتا! جب داخِلِ مسجِد ہوتے تو اُن کی خوشبُو سے لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ حضرتِ مِسکی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ تشریف لے آئے ہیں۔ کسی نے عرض کی، حُضُور! آپ کو خوشبو پر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہوگی؟ فرمایا: ”میں نے کبھی خوشبو خریدی، نہ لگائی۔ میرا واقِعہ بڑا عجیب و غریب ہے:

میں بغدادِ مُعَلّٰی کے ایک خوشحا ل گھرانے میں پیدا ہوا۔ جس طرح اُمَراء اپنی اولاد کو تعلیم دِلواتے ہیں میری بھی اسی طرح تعلیم ہوئی۔ میں بَہُت خوبصورت اور با حیا تھا۔ میرے والِد صاحِب سے کسی نے کہا: ”اسے بازار میں بٹھاؤ تاکہ یہ لوگوں سے گھُل مِل جائے اور اس کی حیا کچھ کم ہو۔” چُنانچِہ مجھے ایک بَزّاز (یعنی کپڑا بیچنے والے) کی دکان پر بٹھادیا گیا۔ ایک روز ایک بُڑھیا نے کچھ قیمتی کپڑے نکلوائے، پھر بَزّاز (یعنی کپڑے والے) سے کہا: ”میرے ساتھ کِسی کو بھیج دو تاکہ جو پسَند ہوں انہیں لینے کے بعد قیمت اور بقیّہ کپڑے واپَس لائے۔” بَزّاز (بَزْ۔زَاز) نے مجھے اس کے ساتھ بھیج دیا۔ بُڑھیا مجھے ایک عظیمُ الشّان مَحَل میں لے گئی اور آراستہ کمرے میں بھیج دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک زیوارت سے آراستہ خوش لباس جوان لڑکی تَخْت پر بچھے ہوئے مُنَقَّش (مُ۔ نَقْ۔ قَشْ ) قالین پر بیٹھی ہے، تخت و فرش سب کے سب زَرِّیں ہیں اور اس قَدَر نفیس کہ ایسے میں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔

مجھے دیکھتے ہی اُس لڑکی پر شیطان غالِب آیا اور وہ ایک دم میری طرف لپکی اور چھیڑ خانی کرتے ہوئے ”منہ کالا” کروانے کے دَر پَے ہوئی۔ میں نے گھبرا کر کہا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر!” مگر اُس پر شیطان پوری طرح مُسَلَّط تھا۔ جب میں نے اُس کی ضِد دیکھی تو گناہ سے بچنے کی ایک تجویز سوچ لی اور اُس سے کہا: مجھے اِستِنجاء خانے جانا ہے۔ اُس نے آواز دی تو چاروں طرف سے لَونڈیاں آگئیں، اُس نے کہا: ”اپنے آقا کو بیتُ الْخَلاء میں لے جاؤ۔” میں جب وہاں گیا تو بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہیں آئی، مجھے اس عورت کے ساتھ ”منہ کالا” کرتے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے حَیا آ رہی تھی اور مجھ پر عذابِ جہنَّم کے خوف کا غَلَبہ تھا۔ چُنانچِہ ایک ہی راستہ نظر آیا اور وہ یہ کہ میں نے اِستِنجا خانے کی نَجاست سے اپنے ہاتھ منہ وغیرہ سان لئے اور خوب آنکھیں نکال کر اُس کنیز کو ڈرایا جو باہَر رومال اور پانی لئے کھڑی تھِی، میں جب دیوانوں کی طرح چیختا ہوا اس کی طرف لپکا تو وہ ڈر کر بھاگی اور اس نے پاگل، پاگل کا شور مچا دیا۔ سب لونڈیاں اکٹّھی ہوگئیں اور انہوں نے ملکر مجھے ایک ٹاٹ میں لپیٹا اور اٹھا کر ایک باغ میں ڈال دیا۔ میں نے جب یقین کرلیا کہ سب جاچکی ہیں تو اٹھ کر اپنے کپڑے اور بدن کو دھو کر پاک کر لیا اور اپنے گھر چلا گیا مگر کسی کو یہ بات نہیں بتائی۔ اُسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے: ”تم کو حضرت سیِّدُنا یوسُف علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیا ہی خوب مُناسَبَت ہے” اور کہتا ہے کہ کیا تم مجھے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو اُنہوں نے کہا: میں جِبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوں۔ اس کے بعد اُنہوں نے میرے منہ اور جِسْم پر اپنا ہاتھ پَھیر دیا۔ اُسی وَقْت سے میرے جِسْم سے مُشک کی بہترین خوشبو آنے لگی۔ یہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارَک کی خوشبو ہے۔
(رَوْضُ الرَّیاحِین ص۳۳۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حیاء کسے کہتے ہیں؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے دیکھا! با حیا نوجوان،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خَشِیَّت(خَ۔ شِیْ۔ یَت) اور گناہوں سے نفرت کی بَرَکت سے معصیَت سے اپنی حفاظت میں کامیاب ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ گناہوں سے بچنے میں حیاء بَہُت ہی مُؤَثِّرہے۔ حیاء کے معنیٰ ہیں ـــ”عیب لگائے جانے کے خوف سے جَھینپنا۔” اس سے مُراد ”وہ وَصْف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جواللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔” لوگوں سے شرما کر کسی ایسے کام سے رُک جانا جو ان کے نزدیک اچّھانہ ہو ”مخلوق سے حياء” کہلاتا ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ عام لوگوں سے حیا ء کرنا دنیاوی برائیوں سے بچائے گا اور عُلَماء وَ صُلَحاء سے حیا کرنا دینی بُرائیوں سے باز رکھے گا۔ مگر حَیاء کے اچھّا ہونے کے لئے ضَروری ہے کہ مخلوق سے شرمانے میں خالق عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو اور نہ کسی کے حُقُوق کی ادائیگی میں وہ حیا رُکاوٹ بن رہی ہو۔ ”اللہ تعالیٰ سے حیاء ” یہ ہے کہ اُس کی ہَیبت و جلال اور اس کا خوف دل میں بٹھائے اور ہر اُس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضی کا اندیشہ ہو۔ حضرتِ سیِّدُنا شَہابُ الدّین سُہروردی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عظمت و جلال کی تعظیم کے لئے روح کو جُھکانا حیاء ہے۔” اور اِسی قَبِیل (قِسم) سے حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاء ہے جیسا کہ وارِد ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے اپنے پَروں سے خود کو چُھپائے ہوئے ہیں۔ (مرقَاۃُ الْمَفَاتِيْح ج۸ ص۸۰۲ ،تحت الحدیث ۵۰۷۱ دارُالفِکْر بیروت)

سب سے بڑا باحیاء اُمّتی

حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حیاء بھی اِسی قسم سے ہے، جیسا کہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے: ”میں بند کمرے میں غُسل کرتا ہوں تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کی وجہ سے سِمَٹ جاتا ہوں۔ (اَیْضاً) ”ابنِ عساکِر” نے حضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے رِوایت کیا کہ آقائے دو جہاں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ”حیا ایمان سے ہے اور عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میری اُمّت میں سب سے بڑھ کر حیا کرنے والے ہیں۔” (اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِی ص۲۳۵حدیث ۳۸۶۹دار الکتب العلمیۃ بیروت)

یا الٰہی! دے ہمیں بھی دولتِ شرم و حیا حضرتِ عثماں غنی با حیا کے واسِطے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حیاء کی2 قِسمیں:

فَقیہ ابواللَّيث سَمَرقَندی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حیاء کی دو قسمیں ہیں:(1) لوگوں کے مُعامَلہ میں حیاء (2)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مُعامَلہ میں حیاء۔ لوگوں کے مُعامَلے میں حیاء کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تُو اپنی نَظَر کو حرام کردہ اشیاء سے بچا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے مُعامَلے میں حیاء کرنے سے مُراد یہ ہے کہ تو اُس کی نعمت کو پہچان اور اُس کی نافرمانی کرنے سے حیاء کر۔ (تنْبِیہُ الغَافِلِین ص۲۵۸ پشاور)

فِطری اور شَرْعی حیاء

فِطری و شَرْعی (شَر۔عی) اعتِبار سے بھی حَياء کی تقسیم کی گئی ہے۔ فِطری حیاء وہ ہے جسےاللہ تعالیٰ نے ہر جان میں پیدا فرمایا ہے اور یہ پیدائشی طور پر ہر شَخْص میں ہوتی ہے اور شَرْعی حیاء یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں پر غور کر کے نادِم و شرمندہ ہو اور اِس شرمندَگی اوراللہ تعالیٰ کے خوف کی بِناء پر آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی کوشِش کرے۔ عُلَماء (عُ۔ لَ۔ مائ) فرما تے ہیں کہ ”حیاء ایک ایسا خُلق ہے جو بُرے کام چھوڑنے پر اُبھارے اور حق دار کے حق میں کمی کرنے سے روکے۔”
(مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِيْح ج۸ ص۸۰۰ ،تحت الحدیث ۵۰۷۰)
حیاء میں تمام اسلامی اَحکام پوشیدہ ہیں

حیاء کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا خُلق ہے جس پر اسلام کا مَدَار ہے اور اس کی تَوجِیہ(یعنی وجہ)یہ ہے کہ انسان کے اَفعال دو طرح کے ہیں (۱) جن سے حیا کرتا ہے (۲) جن سے حیا نہیں کرتا۔ پہلی قسم حرام و مکروہ کو شامل ہے اور ان کا ترک مَشرُوع (یعنی موافِقِ شَرع) ہے۔ دوسری قسم واجِب، مُستحب اور مُباح کو شامل ہے، ان میں سے پہلے دو کا کرنا مَشرُوع اور تیسرے کا کرنا جائز ہے۔ یوں یہ حدیثِ مُبارَکہ ”جب تو حیا نہ کرے تو جو چاہے کر۔” ان پانچوں اَحکام کو شامل ہے۔ (مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِيْح ج۸ ص۸۰۲ ،تَحْتَ الْحَدِیث ۵۰۷۱)

حیاء کے اَحکام

حیاء کبھی فرض و واجِب ہوتی ہے جیسے کسی حرام و ناجائز کام سے حَیاء کرنا کبھی مُستَحب جیسے مکروہِ تنزیہی سے بچنے میں حياء، اور کبھی مُباح (یعنی کرنا نہ کرنا یکساں) جیسے کسی مُباحِ شَرْعی کے کرنے سے حیاء۔ (نزھۃ القاری ج۱ ص۳۳۴)

حیاء کا ماحول سے تعلُّق

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حیاء کی نَشوونُما میں ماحول اور تربیَّت کا بَہُت عمل دَخْل ہے۔ حیادار ماحول مُیَسَّر آنے کی صورت میں حیاء کو خوب نِکھار ملتا ہے جبکہ بے حیاء لوگوں کی صحبت قلب و نگاہ کی پاکیزگی سَلْب کر کے بے شرم (بے۔شرْ۔مْ) کر دیتی ہے اور بندہ بے شمار غیر اَخلاقی اور ناجائز کاموں میں مُبتَلا ہو جاتا ہے اس لئے کہ حیاء ہی تو تھی جو برائیوں اور گناھوں سے روکتی تھی۔ جب حیاء ہی نہ رہی تو اب بُرائی سے کون روکے؟ بَہُت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدنامی کے خوف سے شرما کر بُرائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی و بدنامی کی پرواہ نہیں ہوتی ایسے بے حیا لوگ ہر گناہ کر گزرتے، اَخلاقیات کی حُدُود توڑ کر بداَخلاقی کے میدان میں اُتر آتے اور انسانيت سے گِرے ہوئے کام کرنے

میں بھی نَنگ و عار محسوس نہیں کرتے۔

خُلْقِ اِسلام

اسلام میں حیاء کو بَہُت اَہَمِّیَّت (اَھَمْ۔ مِیْ۔ یَتْ) دی گئی ہے۔ چُنانچِہ حدیث شریف میں ہے: ”بے شک ہر دین کا ایک خُلْق ہے اور اسلام کا خُلق حیاء ہے۔” (سُنَن ابن ماجہ ج۴ ص۴۶۰ حدیث ۴۱۸۱ دارُالمَعْرِفۃ بيروت) یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت ہوتی ہے جو دیگر خصلتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خصلت حیاء ہے۔ اسلئے کہ حیاء ایک ایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچھّائیوں کی تکمیل، ایمان کی مضبوطی کا باعِث اور اسکی عَلامات میں سے ہے۔ چُنانچِہ

ایمان کی عَلامت

حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ رسولُ اﷲ عَزَّوَجَلَّ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے ستّرسے زائد شُعْبے (عَلامات) ہیں اور حیاء ایمان کا ایک شُعبہ ہے۔”

(صحِیح مُسلِم ص۳۹ حدیث ۳۵ دار ابن حزم بيروت)

حیاء ایمان سے ہے

ایک اور حدیث شریف میں ہے: ”حیاء ایمان سے ہے۔” (مُسْنَدُ ابی یعلیٰ ج۶ ص۲۹۱حدیث ۷۴۶۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت) یعنی جس طرح ایمان، مومِن کو کُفر کے اِرتکِاب سے روکتا ہے اِسی طرح حیاء باحیا کو نافرمانیوں سے بچاتی ہے۔ یوں مَجازاً اسے ”ایمان سے” فرمایا گیا۔ جس کی مزید وضَاحت و تائید حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی اِس روایت سے ہوتی ہے: ”بے شک حیاء اور ایمان دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔” (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم ج۱ ص۱۷۶حدیث ۶۶ دار المعرفۃ بیروت)

کثرتِ حیاء سے مَنع مت کرو

حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک انصار ی کو ملاحَظہ فرمایا: جو اپنے بھائی کوشَرم وحیاء کیمُتَعَلِّق نصیحت کر رہے تھے( یعنی کثرتِ حَیاء سے مَنْع کر رہے تھے) تو فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، بے شک حَیاء ایمان سے ہے۔”

(سُنَنُ اَ بِی دَاو،د ج۴ ص۳۳۱ حديث ۴۷۹۵ دار احياء التراث العربی بیروت)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا حیاء جتنی زیادہ ہو اُتنی اہی چّھی ہے ۔ مگر افسوس کہ اب بعض لوگ ”حیاء” کا مذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں اور شرمیلے اسلامی بھائی پر ہنستے ہوئے کہتے ہیں یہ تو لڑکی کی طرح شرماتا ہے! یاد رکھئے حیاء میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ چُنانچِہ

حیاء خیر ہی خیر ہے

حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حُصَیْن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہکے مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ”حیاء صرف خیر (یعنی بھلائی) ہی لاتی ہے۔” (صحِیح مُسلِم ص۴۰حدیث ۳۷)
وَسوَسہ: یہاں یہ وَسوَسہ آسکتا ہے کہ بعض اوقات حياء انسان کو حق بات کہنے، شرعی حُکْم در یافت کرنے، نیکی کی دعوت دینے، اور انفِرادی کوشِش کرنے، وغيرہ مَدَنی کاموں سے روک کر اُسے بھلائی سے محروم کرديتی ہے تو پھر یہ صرف بھلائی تو نہ لائی!
علاجِ وَسَوسہ۔ جواب یہ ہے کہ حدیثِ پاک میں حیاء کے شرعی معنٰی (جو اِسی رسالے کے ص7 پر گزرے) مراد ہیں اور حیاءِ شَرعی کبھی بھی نیکیوں سے نہ روکے گی بلکہ ان پرمزید اُبھارے گی۔ ابو داد،د شریف میں ہے: ”حیاء سب کی سب خیر (یعنی بھلائی) ہے۔” (سُنَنُ اَ بِی دَاو،د ج۴ ص۳۳۱حديث ۴۷۹۶ )

دُولھا لڑکیوں کے جُھرمٹ میں

افسوس! صدکروڑ افسوس! جوان لڑکی اب چادر اور چار دیواری سے نکل کر مخلوط تعلیم کی نُحُوست میں گرفتار، ”بوائے فرینڈ” کے چکّر میں پھنس گئی، اسے جب تک چادر اور چار دیواری میں رہنے کی سعادت حاصل تھی وہ شرمیلی تھی اور اب بھی جو چادر و چار دیواری میں ہوگی وہ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلّ باحیا ہی ہوگی۔ افسوس! حالات بِالکل بدل چکے ہیں، اب تواکثر کَنواری لڑکیاں شادیوں میں خوب ناچتیں اور مہندی و مائیوں کی رَسموں وغیرہ میں بے باکانہ بے حيائی کے مظاہَرے کرتی ہیں، بعض قوموں میں یہ بھی رَواج ہے کہ دولہا نکاح کے بعد رُخصتی سے قبل نامَحرمات کہ جن سے پردہ ضروری ہے اُن جوان لڑکیوں کے جُھرمَٹ میں جاتا ہے اور وہ دولھا کے ساتھ کھینچا تانی و ہنسی مذاق کرتی ہیں یہ سرا سر ناجائز و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ الغرض آج کی فیشن ایبل وبے پردہ لڑکیا ں اَفعال و اَقوال ہر لحاظ سے چادرِ حیاء کو تار تار کر رہی ہیں۔

غیرت رُخصت ہو گئی

شرعی مسئَلہ (مَسْ۔ ءَ۔ لَہ) ہے کہ ”اگر نِکاح کا وکیل کَنواری لڑکی سے بوقتِ نِکاح اِجازت لے اور وہ (شرما کر) خامو ش رہے تو یہ اِذن مانا جائے گا۔ (دُرِّمُختار ج۴ ص۱۵۵، ۱۵۶ دارالمعرفۃ بیروت) معلوم ہوا کہ پہلے دور کی لڑکیاں ایسا کرتی ہوں گی جبھی تو ہمارے فُقَہائے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السّلام نے یہ مسئلہ تحریر فرمایا ۔ مگر اب تو لڑکیاں اپنے مُنہ سے ”شادی شادی” کہتیں بلکہ نامَحرموں کے سامنے بھی شادی کے تذکِرے کرتے ہوئے نہیں شرماتیں۔ آپ خود ہی بتائیے کہ وہ مُنّا یا مُنّی جو ماں باپ کے پہلو میں بیٹھ کر ٹی. وی اور وی. سی. آر وغیرہ پر فلمیں ڈِرامے، رقص و سَرود (سَ۔رَو۔د) کے حیاء سوز مناظِر اورمَردوں اور عورَتوں کے گندے گندے نخرے دیکھيں گے کیا ان میں شرم و حیاء پیدا ہوگی؟ کیا انکے بارے میں یہ اُمّید کی جاسکتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر مُعاشَرے کے باحیاء و باکردارا فراد بنيں گے!

نازُک شيشیاں

میرے آقا اعلیٰحضرت، ولیِ نِعمت، اِمامِ اَہلسُنّت، عظیمُ البَرَکت، عظيمُ المَرْتَبَت، پروانہِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِيعَت، پيرِ طريقت، باعِثِ خَيْر و بَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَليہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ”لڑکیوں کو سورہ یوسُف کی تفسیر مت پڑھاؤ بلکہ انہیں سورہ نورکی تفسیر پڑھاؤ کہ سورہ یوسف میں ایک نِسوانی (یعنی عورت کے) مَکْر کا ذِکر ہے کہ نازُک شیشیاں ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جائیں گی۔” (فتاوٰی رضويہ ج۲۴،ص۴۵۵مُلَخَّصاً )

لڑکی کو پہلے ہی سے سنبھالئے……..

سورہ یوسُف کی تفسیر تک پڑھنے کی جن کو مُمانَعت ہے صد کروڑ افسوس آج کل وہی لڑکیاں رومانی ناول، غیر اخلاقی افسانے اور عِشقیہ و فِسقیہ مضامین خوب پڑھتی ہیں اور بعض تو لکھتی بھی ہونگی، بیہودہ غزلیں اور گانے سنتی اور گاتی ہیں۔ ٹی. وی، وی. سی. آر وغیرہ پر فلمیں ڈِرامے اور نہ جانے کیا کیا دیکھتی ہیں (اور جن کی حیاء بالکل رخصت ہو وہ) ان میں کام بھی کرتی ہیں۔ فلمیں ڈِرامے عِشقیہ مناظِر سے پُر ہوتے ہیں۔ ماں باپ اپنی اولاد کو پہلے سے نہیں سنبھالتے اور پھر جب کوئی لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ ”منسوب” ہو جاتی ہے تو اب ماں باپ سر پکڑ کر روتے ہیں۔ جو باپ لڑکی کو کا لج بھیجتے ہیں، فلمیں ڈرامے دیکھنے سے نہیں روکتے غالِباً ان کی یہ دُنیوی سزا ہو تی ہے، شاید بازی ہاتھ سے نکل چکی اب اُس کی خواہِش میں آپ کا رُکاوٹ ڈالنا خود کُشی یا قتل و غارتگَری کی نوبت بھی لاسکتا ہے!

مولٰینا صاحِب ! مجرِم کون ؟

مجھے مکَّہ مکرَّمہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں کسی نے ایک خانماں برباد لڑکی کا خط پڑھنے کو دیا جس میں مضمون کچھ اِس طرح تھا :ہمارے گھر میں. T.V پہلے ہی سے موجود تھا۔ ہمارے ابُّو کے ہاتھ میں کچھ پیسے آگئے تو ڈِش انٹینا بھی اُٹھا لائے۔ اب ہم ملکی فلموں کے علاوہ غیر ملکی فلمیں بھی دیکھنے لگے۔ میری اسکول کی سَہیلی نے مجھے ایک دن کہا: فُلاں ” چینل” لگاؤگی تو سیکس اپیل (SEX APPEAL) مناظِر کے مزے لوٹنے کو ملیں گے۔ ایک بار جب میں گھر میں اکیلی تھی تو وہ چینل آن کردیا ”جِنْسِیّات” کے مختلف مناظِر دیکھ کر میں جِنْسی خواہِش کے سبب آپے سے باہَر ہوگئی، بے تاب ہو کر فوراً گھر سے باہَر نکلی، اِتِّفاق سے ایک کار قریب سے گزررہی تھی جسے ایک نوجوان چلا رہا تھا، کار میں کوئی اور نہ تھا، میں نے اُس سے لِفٹ مانگی، اُس نے مجھے بٹھالیا ….. یہاں تک کہ میں نے اُس کے ساتھ ”کالا منہ” کرلیا۔ میری بَکارت ( یعنی کنوار پن ) زائل ہوگئی، میرے ماتھے پر کَلَنک کا ٹیکہ لگ گیا، میں برباد ہوگئی! مولیٰنا صاحِب ! بتائیے مجرِم کون؟” میں خود یا میرے ابُّو کہ جنہو ں نے گھر میں پہلے . T.V لاکر بسایا اور پھر ڈِش انٹینا بھی لگایا۔

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چَراغ سے

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top