educationa

خوفناک جادُوگر اور دیگر حِکایات اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ آرٹیکل مکمَّل پڑھ لیجئے، اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ا یمان تازہ ہو گا اور بعض وسوسے بھی دور ہوں گے.
دُرُود شریف کی فضیلت

اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے: تمہارے دِنوں میں سب سے افضل دن جُمُعہ ہے، اسی دن حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ پیدا ہوئے ، اِسی میں ان کی روحِ مبارکہ قبض کی گئی ، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن ہلاکت طاری ہوگی لہٰذا اس دن مجھ پر دُرُودِ پاک کی کثر ت کیاکرو کیونکہ تمہارادُرُود پا ک مجھ تک پہنچا یا جا تا ہے ۔صحا بہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے عر ض کی:”یا رسولَ اللہ فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔

صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! آپ کے وِصال کے بعد دُرُودپاک آپ تک کیسے پہنچا یا جائے گا؟” ارشا د فرمایا کہ” اللہ عزوجل نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اجسام کو کھا نا زمین پر حرام فرمایاہے ۔”

(سُنَنُ اَ بِی دَاو،د ج1ص391حدیث 1047داراحیاء التراث العربی بیروت)

تُو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مِری چشمِ عالم سے چُھپ جانے والے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(1)خوفناک جادُوگر

سلسلہ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا خواجہ خواجگان، سلطانُ الھند حضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری علیہ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کومدینہ منوَّرہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی حاضِری کے موقع پر سیِّدُ الْمُرسَلین، خَاتمُ النَّبِیّین ،جنابِ رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سےیہ بشارت ملی:

”اے مُعین الدِّین توہمارے دین کامُعِین (یعنی دین کا مددگار) ہے ، تجھے ہندوستان کی وِلایت عطا کی، اجمیر جا،تیرے وُجُود سے بے دینی دُور ہوگی اور اسلام رونق پذیرہو گا۔” (سیرالاقطاب ص124 ) چُنانچِہ سیِّدُنا سلطانُ الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدینۃ الہندا جمیر شریف تشریف لائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مساعیئ جمیلہ سے لوگ جُوق دَر جُوق حلقہ بگوشِ اسلام ہونے لگے۔ وہاں کے کافِر راجہ پرتھوی راج کو اس سے بڑی تشویش ہونے لگی۔ چُنانچِہ اس نے اپنے یہاں کے سب سے خطرناک اور خوفناک جادوگر اَجَے پال جوگی کوسرکار خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مقابلے کے لئے تیّار کیا۔ ”اَجَے پال جوگی” اپنے چَیلوں کی جماعت لے کر خواجہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچ گیا۔ مسلمانوں کا اِضطِراب دیکھ کرحُضُور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کے گرد ایک حِصار کھینچ د یا اور حکم فرمایا کہ کوئی مسلما ن اِس دائرے سے باہَر نہ نکلے۔ اُدھر جادوگروں نے جادو کے زور سے پانی، آگ اور پتھّر برسانے شروع کر دیئے مگر یہ سارے وارحِصار کے کے قریب آکر بے کار ہو جاتے ۔ اب اُنہوں نے ایسا جادو کیا کہ ہزاروں سانپ پہاڑوں سے اُتر کر خواجہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور مسلمانوں کی طرف لپکنے لگے، مگر جُوں ہی وہ حِصار کے قریب آتے مرجاتے۔ جب چیلے ناکام ہوگئے تو خود ان کا گُرُو خوفناک جادوگر اَجَے پال جوگی جادو کے ذَرِیعے طرح طرح کے شُعبدے دکھانے لگا مگر حِصار کے قریب جاتے ہی سب کچھ غائب ہوجاتا۔ جب اس کا کوئی بس نہ چلا تو وہ بپھر گیا اورغُصّے سے پَیچو تاب کھاتے ہوئے اس نے اپنا مِرگ چھالا (یعنی ہرنی کا چمڑابالوں والا ) ہوا میں اُچھالا اورکود کر اُس پرجابیٹھا اور اُڑتا ہواایکدم بلند ہوگیا۔ مسلمان گھبرا گئے کہ نہ جانے اب ا وپر سے کیا آفت برپا کریگا! میرے آقاغریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی حَرَکت پر مسکرا رہے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی نعلینِ مبارَک کو اشارہ کیا،حکم پاتے ہی وہ بھی تیزی کے ساتھ اُڑتی ہوئیں جادوگر کے تَعاقُب میں روانہ ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر پہنچ گئیں اور اس کے سر پر تڑاتڑ پڑنے لگیں! ہرضَرب میں وہ نیچے اتر رہا تھا، یہاں تک کہ عاجز ہوکر اُترا اور سرکارِ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قدموں پر گر پڑا اور سچے دل سے توبہ کی ا ور مسلمان ہوگیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کاا سلامی نام عبدا للہ رکھا ۔ (خزینۃ الاصفیاء ج1ص262) اور وہ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نظر فیض اثر سے ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوکر عبد اللہ بیابانی نام سے مشہور ہوگئے۔ (آفتابِ اجمیر)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)اُونٹ بیٹھے رہ گئے

سیِّدُنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب مدینۃُ الھند اجمیر شریف تشریف لائے تو اَوّلاً ایک پِیپل کے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ یہ جگہ وہاں کے کافِر راجہ پرتھوی راج چوہان کے اونٹوں کے لئے مخصوص تھی۔ راجہ کے کارِندوں نے آکر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر رُعب جھاڑا ا ور بے اَدَبی کے ساتھ کہا کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہ جگہ راجہ کے اونٹوں کے بیٹھنے کی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اچھا ہم لوگ جاتے ہیں تمہارے اونٹ ہی یہاں بیٹھیں۔” چُنانچِہ اُونٹوں کو وہا ں بٹھادیا گیا۔ صبح ساربان آئے اور اُونٹوں کو اُٹھانا چاہا، لیکن باوُجُود ہر طرح کی کوشش کے اُونٹ نہ اُٹھے۔ ساربان نے ڈرتے جھجکتے حضرتِ سیِّدُ نا خواجہ صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ سرا پا کرامت میں حاضِر ہوکر اَپنی گستاخی کی مُعافی مانگی۔ ہند کے بےتاج بادشاہ حضرتِ سیِّدُنا غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”جاؤ خدا عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تمہارے اُونٹ کھڑے ہوگئے۔” جب ساربان واپس ہوئے تو واقعی سب اُونٹ کھڑے ہوچکے تھے! (خواجہئ خواجگان)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

ٰاٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

(3)چھاگل میں تالاب

حُضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چند مُریدین ایک بار اجمیر شریف کے مشہور تالاب اَنا ساگر پر غسل کرنے گئے۔کافروں نے دیکھ کر شور مچا دیا کہ یہ مسلمان ہمارے تالاب کو” ناپاک” کررہے ہیں۔ چُنانچِہ وہ حضرات لَوٹ گئے اور جاکر سارا ماجرا خواجہ صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک چھاگل ( پانی رکھنے کا مٹی کا برتن) دے کر خادِم کو حکم دیا کہ اس کو تالاب سے بھر کر لے آؤ۔ خادِم نے جاکر جُوں ہی چھاگل کوپانی میں ڈالا، سارے کا سارا تالاب اُس چھاگل میں آگیا!لوگ پانی نہ ملنے پر بے قرار ہوگئے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ سراپا کرامت میں حاضِر ہو کر فریاد کرنے لگے۔چُنانچِہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خادِم کو حکم دیا کہ جاؤ اور چھاگل کا پانی واپَس تالاب میں اُنڈَیل دو۔ خادِم نے حکم کی تعمیل کی اور اَنا ساگر پھر پانی سے لبریز ہوگیا!(خواجہ خواجگان)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ہے تِری ذات عجب بحرِ حقیقت پیارے
کسی تَیر اک نے پایا نہ کَنارا تیرا

(4)عذابِ قبر سے رہائی

حضرتِ سیِّدُنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ایک مُرید کے جنازے میں تشریف لے گئے، نَمازِ جنازہ پڑھا کر اپنے دستِ مبارَک سے قَبْر میں اُتارا۔ حضرتِ سیِّدُنا بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: تدفین کے بعد تقریباً سارے لوگ چلے گئے، مگرحُضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُس کی قَبْر کے پاس تشریف فرما رہے۔ اچانک آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک دم غمگین ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زَبان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ جاری ہوا اور آپ مطمئن ہوگئے۔ میرے اِستِفسار پر فرمایا: میرے اِس مُرید پر عذاب کے فِرِشتے آپہنچے جس پر میں پریشان ہوگیا۔ اتنے میں میرے مُرشِدِ ِگرامی حضرتِ سیِّدُنا خواجہ عثمان ہَروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الغنی تشریف لائے اور فِرِشتوں سے اس کی سِفارش کرتے ہوئے فرمایا: اے فِرِشتو! یہ بندہ میرے مُرید مُعین الدّین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مُرید ہے، اس کو چھوڑ دو۔ فِرِشتے کہنے لگے: ”یہ بَہُت ہی گنہگار شخص تھا۔” ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ غیب سے آواز آئی: ”اے فِرِشتو! ہم نے عثمان ہَروَنی کے صدقے مُعینُ الدّین چشتی کے مُرید کو بَخْش دیا۔” (معینُ الاَرواح)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حِکایت سے درس ملا کہ کسی پیرِ کامل کا مُرید بن جانا چاہیئے کہ اُس کی برکت سے عذابِ قبر دُور ہونے کی امّید ہے۔

(5)مجذ وب کا جُوٹھا

حضرتِ سیِّدُنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر شریف جب پندرہ سال کی ہوئی تو والدِ گرامی کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ وراثت میں ایک باغ اور ایک پَن چکّی ملی اسی کو اپنے لئے ذریعہ معاش بنایا خود ہی باغ کی نگہبانی کرتے اور اسکے درختوں کی آبیاری فرماتے ۔ایک روز آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے باغ میں پَودوں کو پانی دے رہے تھے کہ اُس دَور کے مشہور مجذوب حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم قَندَوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ باغ میں داخِل ہوگئے۔ جُوں ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نظر اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندے پر پڑی، فوراً سارا کام چھوڑ کر دَوڑے اور سلام کرکے دست بوسی کی اور نہایت ہی اَدَب سے ایک درخت کے سائے میں بٹھایا پھر ان کی خدمت میں تازہ انگوروں کا ایک خَوشہ انتہائی عاجِزی کے ساتھ پیش کیااور دو زانوہوکر بیٹھ گئے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی کو اس نوجوان باغبان کا انداز بھا گیا، خوش ہو کربغل سے ایک کَھلی کا ٹکڑا نکالااور چبا کرخواجہ صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مُنہ میں ڈال دیا۔ کَھلی کا ٹکڑا جُوں ہی حَلق سے نیچے اُترا، خواجہ صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دل کی کیفیت یکدم بدل گئی اور دل دنیا سے اُچاٹ ہوگیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے باغ، پن چکی اور سازو سامان بیچ ڈالا ،ساری قیمت فُقَراء ومساکین میں تقسیم کردی اورحُصولِ علمِ دین کی خاطِر راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے مسافِر بن گئے۔ (مرآۃ الاسرار ص593،تاریخ فرشتہ ج2ص730) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر بے حساب کرم نَوازیاں فرمائیں اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کے پیشوا اور ہندوستان کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

خُفْتَگانِ شبِ غفلت کو جگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کا نہ سونا تیرا

(6)غیب کی خبر

ایک روز حضرتِ سیِّدُنا غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ، حضرتِ سیِّدُنا شیخ اَوحَدُ الدّین کِرمانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی اور حضرتِ سیِّدُنا شیخ شہابُ الدّین سُہروردی علیہ رَحْمَۃُ اللہِ القوی ایک جگہ تشریف فرما تھے کہ ایک لڑکا (سلطان شمسُ الدّین اَلْتَمَش) تیر و کمان لئے وہاں سے گزرا۔ اسے دیکھتے ہی حُضُور غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” یہ بچّہ دِہلی کا بادشاہ ہو کر رہے گا ۔” بالآخر یہی ہوا کہ تھوڑے ہی عرصے میں وہ دہلی کا بادشاہ بن گیا۔ (سیرُ الاَقطاب ) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

تمہارے منہ سے جو نکلی وہ بات ہو کے رہی
کہا جو دن کو کہ شب ہے تو رات ہو کے رہی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کہ شیطان کسی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کے غیب کا علم تو صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کو ہے خواجہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کیسے غیب کی خبر دیدی؟ تو عرض یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہادَۃ ہے، اس کا علمِ غیب ذاتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ سے ہے جبکہ ا نبِیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور ا ولیاءِ عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کا علمِ غیب عطائی بھی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ سے بھی نہیں۔ انہیں جب سےاللہ عَزَّوَجَلَّ نے بتایا تب سے ہے اور جتنا بتایا اُتنا ہی ہے، اِس کے بتائے بغیرایک ذرّہ کا بھی نہیں۔ ہوسکتا ہے کسی کو یہ وَسوَسہ آئے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بتادیا تو غیب، غیب ہی نہ رہا۔ اس کا جواب آگے آرہا ہے کہ قرآنِ پاک میں نبی کے علمِ غیب کو غیب ہی کہا گیاہے۔ اب رہا یہ کہ کس کو کتنا علمِ غیب ملا، یہ دینے والا جانے اور لینے والا جانے۔ علمِ غیبِ مصطفےٰ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کے بارے میں پارہ 30 سُورۃُ التّکویرآیت نمبر 24میں ارشاد ہوتا ہے :

وَ مَا ہُوَ عَلَی الْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ﴿24﴾ (پ30التکویر24)

ترجمہ کنزالایمان: اور یہ نبی (صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم) غیب بتانے میں بخیل نہیں۔

اِس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِخازن میں ہے: ”مراد یہ ہے کہ مدینے کے تاجدار صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پاس علمِ غیب آتا ہے تو تم پر اس میں بُخل نہیں فرماتے بلکہ تم کو بتاتے ہیں۔” (تفیسر خازن ج4 ص3) اِس آیت و تفسیر سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دا نائے غیوب صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم لوگوں کو علمِ غیب بتاتی ہیں اور ظاہر ہے بتائے گا وُہی جو خود بھی جانتا ہو۔

عیسٰی علیہ السلام کا علمِ غیب

حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ کے علمِ غیب کے بارے میں پارہ 3 سورہ اٰلِ عمران آیت نمبر 49میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمْ ۙ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾

ترجَمہ کنزالایمان: اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! منُدرَجہ بالا آیت میں حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صاف صاف اِعلان فرمارہے ہیں کہ تم جو کچھ کھاتے ہو وہ مجھے معلوم ہوجاتا ہے اور جو کچھ گھر میں بچاکر رکھتے ہو اس کا بھی پتا چل جاتا ہے۔ اب یہ علم غیب نہیں تو اور کیا ہے؟ جب حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی یہ شان ہے تو آقائے عیسیٰ میٹھے میٹھے مصطفےٰ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی کیا شان ہوگی؟ آپ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم سے آخر کیاچھپا رَہ سکتا ہے؟ آپ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے تواللہ عَزَّوَجَلَّ جو کہ غیبُ الغیب ہے، اُس کو بھی چشمانِ سر سے مُلاحَظہ فرما لیا۔ ؎

اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں درود (حدائق بخشش)

بَہرحال ربِّ ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ نے انبیاءِ کرام علیھم السلام کو علمِ غیب سے نوازا ہے انبِیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تو بڑی شان ہے، فَیضانِ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام بھی غیب کی خبریں بتا سکتے ہیں۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبد الحقّ محدِّثِ دِہلوی علیہ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے ”اَخبارُ الاخیار ”صَفْحَہ نمبر15میں حضورِ غوثُ الاعظم علیہ رَحمَۃُ اللہ الْاَکرم کا یہ ارشاد ِ معظَّم نقل کیا ہے: ”اگر شریعت نے میرے منہ میں لگام نہ ڈالی ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا کہ تم نے گھر میں کیا کھایا ہے اور کیا رکھا ہے، میں تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہوں کیونکہ تم میری نظر میں آر پار نظر آنے والے شیشے کی طرح ہو۔”
حضرتِ مولیٰنا رُومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:

لَوحِ محفوظ اَست پیشِ اولیاء
اَزچہ محفوظ اَست محفوظ اَز خطا

(یعنی لوحِ محفوظ اولیاء ُاللہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے پیشِ نظر ہوتا ہے جو کہ ہر خطا سے محفوظ ہوتا ہے)

(7)مُرد ہ زند ہ کرد یا !

اجمیر شریف کے حاکم نے ایک بار کسی شخص کو بے گناہ سُولی پر چڑھا دیا اور اُس کی ماں کو کہلا بھیجا کہ اپنے بیٹے کی لاش آکر لے جائے۔ مگر وہاں جانے کے بجائے اُس کی ماں روتی ہوئی خواجہئ خواجگان سرکارِ غریب نوازسیِّدُنا حسن سَنْجَری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوئی اور فریاد کی: ”آہ! میراسَہارا چھن گیا، میرا گھر اُجڑ گیا، یا غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! میرا ایک ہی بیٹا تھا اُسے حاکمِ ظالِم نے بے قُصور سُولی پر چڑھادیا ہے۔” یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جلال میں آکر اُٹھے اور فرمایا: مجھے اپنے بیٹے کی لاش پر لے چلو۔ چُنانچِہ اُس کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کی لاش پر آئے اور اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ”اے مقتول! اگر حاکمِ وقت نے تجھے بے قُصُور سُولی دی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے اُٹھ کھڑا ہو۔” فوراً لاش میں حَرَکت پیدا ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ (ماہِ اجمیر)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

ٰاٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top