educationa

زمانہ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

یک بڑے سٹور کے مالک نے صبح سویرے آکر اپنا سٹور کھولا اور ریک پر پڑی اشیاء کو ٹھیک سے ترتیب دینے لگا کہ ایک بچہ اندر آتے دیکھا۔ بچے نے ایک سوڈا کینز کا چارٹن گھسیٹا اور اس کو فون کے پاس لے گیا۔

پھر اس کے اوپر چڑھ کر فون کے بٹن دبا کر کوئی نمبر ملانے لگ گیا۔ اس نے نمبر ملا کر ایک منٹ انتظار کیا اور پھر جیسے ہی دوسری طرف سے کسی نے فون اٹھالیا تو بولنے لگا : ہیلو میڈم۔ آپ کیسی ہیں؟ میں آپ کو ایک آفر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پلیز میں جاب تلاش کر رہا ہوں، آپ مجھے اپنا لان مینٹین کرنے کے لیے رکھ لیں،میں آپ کے باغیچے کی بڑے اچھے سے دیکھ بھال کروں گا۔آگے سے عورت بولی : جی نہیں بہت شکریہ

میرا لان پہلے ہی ابھی والا مالی بہت اچھا مینٹین کر رہا ہے۔ لڑکا بولا: میڈم میں آپ کا لان پورے شہر میں سب سے بہتریں بنا دوں گا اور پیسے بھی اس سے آدھے لوں گا جس سے آپ ابھی کام لے رہی ہیں۔ عورت بولی: نہیں جی میں اپنی ابھی والے مالی سے بہت مطمئن ہوں۔

لڑکا پھر بولا: میڈم میں آپ کے پورچ کی مفت صفائی کر دوں گا اور ساری کیاریاں بھی ایک بار مفت ہموار کروں گا، آپ چانس تو دے کر دیکھیں۔ آگے سے پھر نفی میں جواب ملا تو لڑکے نے مسکراتے ہوئے ریسیور نیچے رکھ دیا۔

سٹور کا مالک ٹکٹکی باندھے اسی لڑکے کو دیکھ رہا تھا، فون بند کرتے ہی لڑکے کے پاس پہنچ گیا اور بولا : مجھے تمہاری مثبت سوچ اور کام کرنے کا جذبہ بہت پسند آیا ہے، بتاؤ میرے لیے کام کرو گے، ادھر سٹور میں؟۔۔۔لڑکا ہنسنے لگ گیا اور بولا نہیں سر، یہ لیں فون کال کا بل۔۔جن کو میں نے فون کیا تھا وہ میڈم نہیں جانتی کہ اہ میں تھا، مین ہی ان کا مالی ہوں لیکن ہر دو ہفتے بعد ان کو اسی طرح فون کر کے چیک کرتا ہوں کہ وہ میرے کام سے مطمئن ہیں کہ نہیں۔ سٹور کا ملک حیران رہ گیا کہ کوئی اتنا عقلمند اور ایماندار بھی ہو سکتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ زمانہ خراب ہے کی رٹ لگانا بہت آسان کام ہے، سب ہی کر رہے ہیں لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ زمانہ کس پر مشتمل ہے، ہم پر، ہم انسانوں پر۔ تو پھر شکایت کی کیا تک بنتی ہے اپنا فرض تو ٹھیک سے ادا کر لیں اگر باقی معاشرہ نہیں بدل سکتے، ہر کوئی صرف اپنے آپ سے مقابلہ کرنے لگے اور اس مقابلے کو بذات خود اپنے لیے اور مشکل بناتا رہے، تو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ہم ایک ترقی یافتہ قوم بنیں اور چین اور امریکہ کی طرح اپنا بھی کامیابی کا سکہ منوائیں اور باقی کم ترقی یافتہ اقوام کے لیے سہارہ بن سکیں۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top