Facebook

اجتماعی ضرورت کی خاطر کتمِ حدیث کا حکم اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

حضرت عبداللہ بن وہبؓ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت ابن عمرؓ سے فرمایا جاؤ اور لوگوں کے قاضی بن جاؤ. ان میں فیصلے کیاکرو.

حضرت ابن عمرؓ نے کہا اے امیرالمومنین! کیا آپ مجھے اس سے معاف رکھیں گے؟ حضرت عثمانؓ نے فرمایا نہیں. میں تمہیں قسم دیتاہوں.تم جا کر لوگوں کے قاضی ضرور بنو. حضرت ابن عمرؓ نے کہا آپ جلدی نہ کریں. کیا آپؓ نے رسول اللہؐ سے یہ نہیں سنا کہ جس نے اللہ کی پناہ چاہی وہ بہت بڑی پناہ میں آ گیا .

حضرت عثمانؓ نے فرمایا ہاں. حضرت ابن عمرؓ نے کہا میں قاضی بننے سے اللہ کی پناہ چاہتاہوں. حضرت عثمانؓ نے فرمایا تم قاضی کیوں نہیں بنتے ہو؟ حالانکہ تمہارے والد تو قاضی تھے. حضرت ابن عمرؓ نے کہا میں نے حضورؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قاضی بنا اور پھر نہ جاننے کی وجہ سے غلط فیصلہ کر دیاتو وہ دوزخی ہے. اورقاضی عالم ہو اور حق و انصاف

کافیصلہ کرے وہ بھی یہ چاہے گا کہ وہ اللہ کے ہاں جا کر برابر سرابر چھوٹ جائے (نہ انعام ملے اور نہ کوئی سزالگے) اب اس حدیث کے سننے کے بعد بھی میں قاضی بننے کی امید کر سکتاہوں؟اس بات پر حضرت عثمانؓ نے ان کے عذر کو قبول کر لیا اور ان سے فرمایا کہ تم کو تو معاف کر دیا لیکن تم کسی اور کو یہ بات نہ بتانا (ورنہ اگر سارے ہی انکار کرنے لگ گئے تو پھر مسلمانوں میں قاضی کون بنے گا؟ یہ اجتماعی ضرورت کیسے پوری ہو گی؟)

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top