Facebook

ایسی غلطیاں جو نمازی حضرات ضرور کرتے ہیں۔ آئیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

توحید و رسالت کی شہادت کے بعد نماز‘روزہ ‘زکوٰۃ اور حج اسلام کے چار ارکان ہیں اوران چار میں سے نماز کو خاص اہمیت حاصل ہے بایں طور کہ یومیہ بنیادوں پر پانچ نمازوں کی ادائیگی ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرضہے۔ نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں تقریباً ستر(۷۰) بار نماز قائم کرنے کا حکم آیاہے اور رسول اللہﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ مسلمان اور کافر میں بنیادی فرق نما ز کا ہے۔

دوسری طرف نماز جیسی اتنی اہم عبادت کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت سی کوتاہیاں وغلطیاں پائی جاتی ہیں‘ جن کا اصل سبب ہماری بے احتیاطی اور عدم توجہی ہے۔ ذیل میں نماز کے آداب اور پھر اس تناظر میں پائی جانے والی عمومی کوتاہیوں اور غلطیوں کی مختصراً نشان دہی کی جاتی ہے ۔

*وضو کے بعد تحیۃ الوضوء اور مسجد میں آنے کے بعد تحیۃ المسجد کے دو نفل پڑھنا بہت فضیلت کا باعث ہے‘مگر اکثرنمازی مسجد میں آنے کے بعد وقت ہونے کے باوجود یہ نوافل نہیں پڑھتے۔ ہمیں چاہیے کہ نماز باجماعت میں اگر وقت باقی ہو تو بیٹھنے اور باتیں کرنے کے بجائے ان نوافل کو ضرور اداکریں۔

*صف اول میں نماز پڑھنا اتنی فضیلت کا باعث ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں شامل ہونے کا کتنا ثواب ہے تو پھر لوگ اس کے لیے ضرور قرعہ اندازی کریں۔‘‘(صحیح البخاری)ہمیں چاہیے کہ اگر پہلی صف میں جگہ خالی ہو تو نمازیوں کا خیال کرتے ہوئے وہاں پہنچنے کو ترجیح دیں۔

*جب نماز کے لیے کھڑے ہوں تو قیام کا انداز نہ تو بہت ڈھیلا ڈھالا ہوکہ سستی کا شائبہ ہواور نہ بہت اکڑا ہواکہ غرور اور تکبر کا شائبہ ہو‘بلکہ معتدل انداز ہونا چاہیے اور دونوں پاؤں برابر ہوں یعنی آگے پیچھے نہ ہوں۔

*قیام کی حالت میں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ ہونی چاہئیں۔عموماً بہت سے نمازیوں کی انگلیوں کا رْخ قبلہ کے بجائے شمال وجنوب کی طرف ہوتاہے۔

*اقامت کے دوران ہاتھ کھلے رکھنے چاہئیں تاکہ نماز اور نماز سے پہلے کی حالت میں فرق نمایاں ہو ‘ لیکن بعض نمازی اقامت کے دوران ہی نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

*تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنے کی بہت فضیلت ہے‘لیکن بعض نمازی صفوں میں کھڑے ہو ئے ‘ صرف سستی کی بنا پر تکبیر اولیٰ چھوڑ کر اجر عظیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

*تکبیر کے وقت ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں قبلہ رخ ہونی چاہئیں‘مگر بعض نمازی تکبیر اولیٰ کے دوران اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو اپنے چہرے اورکانوں کی طرف کرتے ہیں اور بعض نمازی حضرات کی انگلیاں تو سیدھی ہونے کے بجائے مڑی ہوئی ہوتی ہیں۔

*قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں کے اوپر ہو اور دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں سے کلائی کو پکڑا جائے۔بعض نمازی دائیں ہاتھ سے بائیں بازو کی کلائی کو پکڑ لیتے ہیں اور بایاں بازوں نیچے لٹک رہا ہوتا ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔

*قیام کی حالت میں ہاتھ بندھے رہنے چاہئیں‘ اور اگر کوئی اشد ضرورت محسوس ہو‘ مثلاً کہیں خارش وغیرہ ہو تو ایک ہاتھ کا استعمال کیا جاسکتا ہے‘مگر بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔اس حوالے سے اصول یہ ہے کہ اگر کسی نمازی نے قیام کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھ اتنی دیر چھوڑے رکھے جتنی دیر میں تین بار سبحان اللہ کہا جاتا ہے تو اس کی نماز ادا نہیں ہوتی۔

*بعض لوگ نماز باجماعت میں اُس وقت شریک ہوتے ہیں جب امام رکوع کی حالت میں ہوتا ہے۔وہ جلدی سے تکبیراولیٰ کہتے ہی رکوع میں چلے جاتے ہیں اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی قیام نہیں کرتے‘حالانکہ قیام فرض ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

*رکوع میں کمر بالکل سیدھی رہنی چاہیے‘یعنی ۹۰ کا زاویہ بننا چاہیے۔بعض نمازی رکوع میں ۷۵ کازاویہ بنا رہے ہوتے ہیں تو بعض ۱۱۵کا۔یعنی اُن کی کمر مکمل سیدھی نہیں ہوتی۔بغیر عذر کے ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔

*رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونے کو ’’قومہ‘‘کہتے ہیں اور یہ واجب ہے‘لیکن بعض لوگ (خاص طور پرانفرادی نماز پڑھتے وقت)رکوع کے بعد سیدھا کھڑا نہیں ہوتے اور فوراً ہی سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ نمازی کو چاہیے کہ رکوع کے بعد مکمل طور پر سیدھے کھڑے ہوں اور پھر سجدہ کریں ۔

*سجدہ کرتے وقت پہلے ہاتھ‘پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر رکھنی چاہیے‘مگر اکثر نمازی پہلے پیشانی رکھتے ہیں اور بعد میں ناک‘ اور بعض تو ناک زمین پر لگاتے ہی نہیں ہیں۔

*سجدے کے دوران دونوں پاؤں کا زمین پر لگانا ضروری ہے ۔اگر بغیر کسی عذر کے دونوں پاؤں زمین سے اُٹھ جائیں تو نماز نہیں ہوگی۔مزید برآں سجدے کے دوران پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ ہونی چاہئیں۔

*دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنے کو (جس میں کمر مکمل سیدھی ہوجائے) ’’جلسہ‘‘کہا جاتا ہے اور یہ واجب ہے۔اگر کوئی شخص اطمینان سے جلسہ نہیں کرتا تو اس کی نماز واجب چھوڑنے کی وجہ سے نامکمل ہوگی۔

*سجدے اور قعدہ سے اُٹھتے وقت بغیرکسی مجبوری کے ہاتھوں کوزمین پر رکھ کر اُٹھنا مکروہ ہے‘البتہ اگر کوئی مجبوری ہوتو ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

*جلسہ‘قعدۂ اولیٰ اور قعدۂ اخیرہ کے دوران ہاتھوں کی اُنگلیوں کے سرے گھٹنوں پر ہونے چاہئیں تاکہ اُن کا رخ قبلہ کی جانب ہو‘مگر بعض لوگ قعدہ کی حالت میں اپنے گھٹنوں کو رکوع کی حالت کی طرح پکڑ لیتے ہیں جس سے اُن کی آدھی اُنگلیاں گھٹنوں سے نیچے ہوتی ہیں اور اس طرح انگلیوں کا رُخ قبلہ کے بجائے زمین کی طرف ہوجاتا ہے۔قعدہ کی حالت میں گھٹنوں کو پکڑنے کے بجائے ہاتھوں کو گھٹنوں کے اوپر رکھا جاتا ہے۔

*عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ نمازی جو ایک دو رکعت کے بعد امام کے ساتھ شامل ہوئے ہوتے ہیں‘امام جیسے ہی ایک طرف سلام پھیرتا ہے تو وہ فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں‘حالانکہ اس حوالے سے قاعدہ یہ ہے کہ جب امام دوسری طرف سلام پھیرے تب کھڑا ہوا جائے۔

*باجماعت نماز کے دوران امام کی اقتدا بہرصورت لازم ہے۔بعض نمازی امام کے رکوع یا سجدہ میں جانے سے پہلے رکوع ا ور سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔یہ بہت بڑی غلطی ہے اور احادیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے کہ ایسا کرنے اولے شخص کا منہ گدھے جیسا بنا دیا جائے گا۔

*بعض لوگ جمعہ کے خطبہ کے دوران باتیں کرتے رہتے ہیں‘جبکہ اس کے بارے میں اصول یہ ہے کہ خطبہ کو غور سے سنا جائے اور اگر آپ کے اردگرد کوئی شخص باتیں کررہاہو تو اس کو زبان سے منع کرنے کے بجائے اشارہ سے چپ کرانا چاہیے۔اگر دورانِ خطبہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہو تو درود پاک بھی دل میں بغیر آواز کے پڑھنا چاہیے۔اسی طرح اگر خطبہ کے دوران کسی دعا کا ذکر آئے تو اس پر آمین بھی دل میں کہنی چاہیے۔

*بعض نمازی ایسی کرسی پر نماز پڑھتے ہیں جس کے سامنے کوئی تختہ لگا ہوتا ہے اور پھر اُسی پر ماتھا ٹیکتے یعنی سجدہ کرتے ہیں۔یہ غلط ہے‘ اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

* وتر میں دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے‘مگربعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں دعائے قنوت نہیں آتی اور ہم اس کی جگہ تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ لیتے ہیں۔اس حوالے سے یاد رکھیں کہ وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے اور اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔

آخر میں تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ نماز جیسی عبادت کے بارے میں سستی کا مظاہرہ نہ کریں اور نماز کو مکمل احکام اور پورے آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اداکریں تاکہ نمازوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ ملے اور آخرت میں ہم اجر عظیم کے مستحق قرار پائیں۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top