Facebook

جِن کا غُسْلِ مَیِّت اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

شیطٰن لاکھ سستی دلائے مگر اس آرٹیکلکا اوّل تا آخِرضَرور مطالعہ فرمائیں

دُرُود شریف کی فضیلت

عاشقِ اعلیٰ حضرت ،امیرِ اَہلسنّت، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نقْل فرماتے ہیں: ”جو شخص مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنّت کا راستہ بھول گیا۔” (مجمع الزوائد، ج۱۰،ص۲۵۵ ، الحدیث ۱۷۳۰۷،دارالفکر بیروت)

صلّوا علٰی الْحبيب! صَلَّی اللہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

( 1) عطاری جنّ کا غُسْلِ مَیِّت

فیضانِ مدینہ (حیدرآباد باب الاسلام سندھ)کے خادِم نے حلفیہ کچھ اس طرح بتایا کہ میرے پاس ایک صاحب سفیدمَدَنی لباس میں ملبوس اور زلفیں سجائے تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ ہمارے والِد صاحب کا انتقال ہوگیاہے انہیں غسل دینا ہے ۔ میں ان کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوکر ایک عَلاقے میں پہنچا تو یہ دیکھ کر چونک اٹھا کہ وہاں پر کسی کی فوتگی کے نہ تو کوئی آثار تھے اور نہ ہی سوگوار افراد ۔بہرحال میں اندر پہنچا تو کمرے میں ایک جیسے حلئے کے صرف پانچ افراد تھے جنہوں نے سفید لباس پہن رکھا تھااور زلفیں سجائے ہوئے تھے اور ان کی پیشانیاں کثرتِ سجودکی علامت سے مزیّن تھیں۔ اِن پُراَسراراَفراد کو دیکھ کر نہ جانے کیوں میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی کہ کہیں میں جنّات کے درمیان تو نہیں۔جب میں نے مَیِّت کے چہرے سے چادر ہٹائی تو ایک نورانی چہرہ سامنے تھا۔یہ ضعیفُ العُمْربُزرگ تھے جن کے چہرے پر بھی سنّت کے مطابق داڑھی اورسر پر زلفیں تھیں۔ ان پانچ میں سے ایک کے ہاتھ میں امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا مرتب کردہ رسالہ ”مَدَنی وصیت نامہ”تھا۔ وہ فرمانے لگے کہ میں اپنے پیرو مرشِد کے رسالے سے غسل کی سنّتیں اور آداب بتاتا ہوں ،آپ اس کے مطابِق غسل دیں۔ان میں سے ایک صاحب دوسرے کمرے سے مَیِّت پر بطورِپردہ ڈالنے کیلئے سفید موٹا تولیا لے آئے ۔ غسل دینے کے بعد انہوں نے ایک ڈبیہ دی غالباً اس میں زعفران تھی اورکہا اس سے جسم پریا عطار المدد لکھئے ۔ پھرایک سبز کپڑا لایا گیا جس پر سنہری تاروں سے جوغالباً سونے کے تھے،یا غوث الاعظم دستگیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اوریا عطار(دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ) لکھا ہوا تھا۔
جب میں غسل سے فارِغ ہوا تو ان میں سے ایک نے میری کمر پر تھپکی دی اور کہا، بعدِ نماز ظہر نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے ممکن ہو تو ضَرور آئہے گا۔واپَسی میں بھی ان کے عَلاوہ گھر میں اور باہَراور کوئی دوسرانظر نہ آیاپھر جو صاحب مجھے لائے تھے انہوں نے گاڑی پر بٹھایا اور واپس روانہ ہوئے مگر کچھ آگے جانے کے بعد کہنے لگے:”یہاں سے آپ خود چلے جائیں۔”میں نے اطمینان کا سانس لیا کیونکہ مجھے اب گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی۔میں تشویش کے عالم میں واپس لوٹ آیا ۔بعد میں جب میں نے اس عَلاقے کی مسجِد کے ذمّہ داران سے معلوم کیا تو ان سب نے کسی بھی گھر میں میِّت ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔میں ذمّہ داران کے ہمراہ اس گھر کی تلاش میں نکلاتونہ گھر ڈھونڈ سکا نہ ہی ا ن” پُراَسرار اَفراد ” کا کوئی سُراغ مِلا۔
بعد میں اس علاقے کے کئی لوگوں سے معلومات کی گئی، عَلاقے کی مسجد کے نمازیوں تک سے پوچھا گیامگر حیرت انگیزبات یہ تھی کہ وہاں اس تاریخ اور دن میں نہ کسی کے اِنتِقال کی اطّلاع تھی اورنہ ہی اِس مسجد میں کوئی جنازہ پہنچا تھا۔جب کہ خادِم کے کہنے کے مطابق غسل مسجد کے برابر والی گلی میں ہی دیا گیا تھا۔ ان خادم اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ مجھے یوں لگتاہے جس مرحوم کو میں نے غسل دیا وہ کوئی جِنّوں کے عطاری خاندان کے ”عطاری جِنّ” تھے۔

صلّوا علٰی الْحبيب! صَلَّی اللہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

جِنّا ت کا وُجود

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ اپنے دلچسپ معلوماتی رسالے” جِنّات کی حِکایات” میں تحریر فرماتے ہیں، جِنّات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں۔ یہ انسان کی طرح عاقِل اور اَرواح و اَجسام والے ہیں ان میں توالُد و تَناسُل (یعنی اولاد پیدا ہونااور نَسْل چلنا) ہوتا ہے، کھاتے پیتے جیتے مرتے ہیں۔ ”بہارِ شریعت” میں ہے،”جِنّات کے وُجود کا انکار یا بدی کی قُوّت کا نام جِنّ یا شیطٰن رکھنا کُفْر ہے”۔جو لوگ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوُجُود جِنّات کے وُجُود کا انکار کردیتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ قرآنِ پاک میں تقریباً چھبّیس(۲۶) مَقامات پر جِنّات کا تذکرہ ہے اور ایک پوری سُورت کا نام ہی”سُورۃ الجِنّ”ہے ۔سورئہ رَحْمٰن میں ارشاد ہوتا ہے،

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾

ترجمہ کنزالایمان:اور جنّ کو پیدا فرمایاآگ کے لُو کے سے(یعنی خالص بے دھوئیں کے شعلہ سے)(الرحمٰن : ۱۵)

جِنّات کی اَقسام

حضرت علامہ عَینی رحمۃُ اللہ علیہ نے قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارَکہ اور آثا ر میں غور و فکر کرکے جِنّات کی مزید اَقسام بیان فرمائی ہیں۔
(۱)غول یا عِفْریت: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جنّ ہے ،کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ جنگلات میں رہتا ہے عُمُوماً مسافِروں کو دکھائی دیتاہے اور انہیں راستے سے بھٹکاتا ہے۔(۲) عذار:یہ مصر اور یَمَن میں پایاجاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہوجاتا ہے۔(۳)ولہان:سَمُنْدر کے اوپر جَزیروں میں رہتا ہے اس کی شَکْل ایسی ہے جیسے انسان شُتر مرغ پر سَوار ہو۔ جوانسان جَزیروں میں جاپڑتے ہیں اُنہیں کھالیتاہے۔(۴)شق:یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے سفر میں ظاہِر ہوتا ہے۔(۵)بعض جِنّات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں ایذا نہیں پہنچاتے۔(۶)بعض جِنّات کنواری لڑکیوں کو اُٹھا لے جا تے ہیں۔(۷)بعض جِنّات کتّے اور چُھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں۔
( ملخص از، رسالہ :”جِنّات کی حکایات” ص ۱۰ مَطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

(2) چُھپکلی تھی یا۔۔۔۔۔۔؟

عَرَب اَمارات میں امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کی خدمت میں رہنے والے اسلامی بھائی نے بتایا کہ ایک بار جب باورچی خانہ میں جانا ہُوا تو وہاں ایک قدآور خوفناک چھپکلی پر نظر پڑی۔ چُھپکلیاں تو بارہا دیکھنے کا موقع ملا تھا مگر ایسی خوفناک چھپکلی پہلی ہی بار دیکھی تھی۔ خیر کچھ دیر تو ہمت کرکے کام کرتا رہا مگر جب خوف زیادہ محسوس ہوا تو بارگاہِ مرشِدِی میں سارا معاملہ عرض کیا۔ غیر متوقع طور پر امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ جواب دینے کے بجائے باورچی خانہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس چھپکلی کو دیکھا اور فرمانے لگے اسے ماریئے گا مت، بلکہ اسے کسی طرح پکڑ لیں۔ پھر آپ کے بتائے ہُوئے طریقے سے اسے پکڑ لیا تو امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے فرمایا اسے کسی ویران جگہ میں چھوڑ آؤ۔آخر لے جاکر اس خوفناک چھپکلی کو جو غالباً کوئی جِنّ تھا، چھوڑ آیا۔ دوسرے دن صبح میں باورچی خانہ میں داخل ہوا تو میری نظر جیسے ہی کھڑکی پر پڑی تو میں چونک گیا کہ جس خوفناک چھپکلی کو ویرانے میں چھوڑنے کی ترکیب بنادی گئی تھی وہ کھڑکی سے جھانک رہی ہے۔ غور سے دیکھا تو یہ وہ چھپکلی نہیں تھی بلکہ اس کی طرح کی کوئی اور چھپکلی تھی۔ شاید اس کی تلاش میں آئی تھی۔ مگر اسے اندر آنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ بس سر اٹھا کر اند ر جھانک رہی تھی۔جب امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ سے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا فُلاں فُلاں تعویذ بناکر کھڑکی میں لگادیں۔ ایسا ہی کیا گیا جس کی بَرَکت سے وہ دوسری چھپکلی بھی وہاں سے غائب ہوگئی۔

(3) چُھپکلی غائب

شہزادہ عطار حاجی ابو اسید احمد عبید الرضا مدظلہ العالی نے ایک بار ارشاد فرمایا کہ میں نے ایک روز کمرے میں چھپکلی دیکھ کر اسے مارنا چاہا تو حیرت انگیز طور پر وہ غائب ہوگئی، جب کہ کمرہ پورا خالی تھا، کوئی ایسی جگہ نہیں تھی کہ اس کے پیچھے چُھپا جاسکے۔
اتنے میں امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ تشریف لے آئے میں نے ان سے سارا معاملہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا ہوسکتا ہے کوئی جِنّ ہو، لہٰذا اسے نہیں مارنا۔ میں نے دل میں ارادہ کرلیا کہ اب یہ نظر آئی تو اسے نہیں ماروں گا۔ ابھی میں نے اسے نہ مارنے کا سوچا ہی تھا کہ مجھے وہ سامنے دیوار پر نظر آگئی۔

صلّوا علٰی الْحبيب! صَلَّی اللہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

(4) خوفْناک جِنّات کی ہَلاکت

سطورِ ذیل میں پیش کیا جانے والا واقِعہ لیاقت آباد (باب المدینہ کراچی)کے ایک اسلامی بھائی نے سنایا جو خود اس ایمان افروز واقعے کے چشم دید گواہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے مراسم ایک ایسے اسلامی بھائی سے قائم ہوگئے جن کا گھرانا سرحد یا کشمیر سے تعلق رکھتا تھا۔ان لوگوں کے آپس میں جائیداد کے جھگڑوں کے باعث سخت خاندانی دشمنیاں تھیں۔ اُن کے کہنے کے مطابق اُن کے مخالف رشتے داروں نے عاملین کے ذریعے ان پر کالاجادو کرواکرکچھ غیر مسلم سرکش جنّات ان پر مسلَّط کروادئہے تھے،جو انہیں مختلف انداز سے تنگ کرتے۔ بالآخر وہ اپنا آبائی شہر چھوڑ کر لیاقت آباد میں آبسے ،مگر عملیّات کے ذریعے ہونے والے سلسلے یوں ہی جاری رہے۔ان پر سخْت مصائب آئے، بِالخُصوص سب سے چھوٹے بھائی پر غیر مسلم جنّ ظاہر ہوتا اوراذیّت دینے کے ساتھ دھمکیاں دیتا۔ المختصر یہ لوگ مختلف حادِثات کا شکار بھی ہوتے رہے جن میں مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات سے بھی دوچار ہوئے ۔ مَثَلاً ایک دن ان کے خالو فیکٹری میں کام کررہے تھے۔ ناگہانی طور پر ”تیز دھار والاآلہ” اوپر سے گرا اور ان کے خالو کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اسی طرح کسی ظاہری بیماری یا سبب کے بِغیر والدبھی اچانک انتقال کر گئے اوروالدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اسی کشمکش اور اذیّت میں 8سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ اسی دوران یہ گھرانا دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیااور تمام گھر والے امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ سے مُرید ہوکر عطاری بن گئے۔
ایک دن انکے رشتہ دار نے کسی عامل سے رابطہ کیا جس نے گھرمیں آکر جیسے ہی بھائی کے سامنے فتیلہ(یعنی دھونی کا دھاگہ) جلایاایک جنّ انتہائی غصے کے عالم میں ظاہر ہوا۔ اور غضبناک انداز میں اس عامل کو اٹھا کر اس زور سے دیوارپر ماراکہ کافی دیر وہ بیہوش رہاپھر ہوش آنے پربھاگ کھڑا ہُوا۔اب وہ جنّ دیگر اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی غرض سے خوفناک انداز میں بڑھا توگھر والے خوف کے مارے چیخنے لگے مگر بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔اچانک وہ رُکااور دروازے کی طرف چُندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اور”کسی سے” سلسلہ کلام شروع کیا۔گھر والے آنکھیں پھاڑپھاڑ کر دیکھ رہے تھے کہ یہ کس سے باتیں کر رہا ہے؟ مگر آنے والی ہستی نظر نہیں آرہی تھی۔ جنّ(جسے شاید وہ ہستی نظر آرہی تھی) بولاکون ہو تم؟ الیاس قادری(دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ) ۔۔۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔۔۔”پیر” ہو ان کے! ہاں، ہاں مجھے ان کے فُلاں رشتے دار نے بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔(شاید امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ رُوحانی طور پر ہماری مدد کیلئے تشریف لائے تھے اوراُس سے سُوالات پوچھتے جارہے تھے جس کے وہ جنّ جوابات دے رہا تھا)ہاں ان کے خالو کو میں نے قتل کیا ہے ، وغیر ہ وغیرہ۔ اِس طرح وہ سرکش جنّ اپنے سیاہ کارناموں کی رُوداد سنارہا تھا۔ ( پھرامیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ نے غالباً اُس سے اُس کا مذہب دریافت فرمایا)جس پراُس نے بتایا کہ میں غیر مسلم ہوں۔ ( پھر ایسا لگا جیسے اُسے سمجھایا جارہا ہو اوروہ خاموشی سے سنتا جارہا ہوپھر اس میں نرمی آتی گئی)امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ کی مَدَنی مٹھاس سے تربتر دعوتِ اسلام سے متاثر ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے وہ غیر مسلم جنّ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا اورکہنے لگا،مجھے اپنا مرید بھی بنالیں۔ پھر وہ امیرِ اَہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے ہاتھ پر مُرید ہوکر عطاری بن گیا اور چلے جانے کا وعدہ بھی کرلیا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یوں ہمیں اس خوفناک صورتحال سے نَجَات ملی اور بھائی کی طبیعت بھی بالکل دُرُست ہوگئی ،بہرحال وقتی طور پر گھر میں اَمْن قائم ہوگیا اور اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا۔ اگلے دن رات کے آخری پَہر ایک انتہائی خوفناک چیخ کی آواز سے سب گھر والوں کی آنکھ کھل گئی۔دیکھا تو بڑے بھائی بستر پر بیٹھے تھے اور ان کا پورا جسم بُری طرح کانپ رہا تھا۔انہوں نے انتہائی خوف کے عالم میں بتایا کہ ابھی میں نے بہت ہی بھیانک خواب دیکھا کہ خوفناک شکلوں والے جِنّات کا ایک ٹولہ بڑی تیزی کے ساتھ چلا آرہا ہے جوانتہائی غضبناک ہیں اور انتقام لینے کے ارادے سے بڑھ رہے ہیں،آگے آگے جو جِنّ چل رہا تھا وہ مُغَلَّظات بک رہا تھااور کہہ رہا تھا کہ تمہارے سارے گھر والوں کو ختْم کردوں گا۔ تمہارے الیاس قادری (دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ) کو بھی دیکھ لوں گا۔ بدھ کو عصْر کے بعد میں پہنچوں گا،تم میں سے کسی کوبھی نہیں چھوڑوں گا۔
یہ سن کر تمام اَہلِ خانہ خوفزدہ ہوگئے۔ منگل کادن جیسے تیسے گزر گیا۔ گھر والے انتہائی شش و پنج میں تھے کہ کیا کریں۔ صبح کو بڑے بھائی نے بتایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ رات خواب میں مجھے غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت ہوئی اور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، گھبراؤ مت ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ کچھ نہیں ہوگا،وہ جِنّات تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ میں خود آؤں گا۔ بڑے بھائی نے جب یہ خواب سنایا تو سارے گھر والوں کی ڈھارس بندھی ۔خوشی خوشی سارے گھر کو سجانے کے ساتھ خوشبوؤں سے بھی مَہکا دیا۔
بدھ کے روز عَصْر کی نماز کے بعد گھر میں ہم سب جمع ہوگئے۔چھوٹا بھائی بے سُدھ پڑا ہوا تھا۔ اچانک اس میں جِنّ ظاہِر ہوااوروہ اُٹھ کھڑا ہوا اور خوفناک آواز کے ساتھ مُغَلَّظات بکتا ہوا گھر میں موجود لوگوں کی طرف خطرناک ارادے سے بڑھا،ہم سب خوفزدہ تھے مگر فِرار کی راہیں مسدود تھیں، کیونکہ باہر نکلنے کے دروازے تک پہنچنے کیلئے جنّ کی طرف سے گزر ے بِغیر چارہ نہیں تھا۔ اچانک اس غضبناک جنّ کارخ بیرونی دروازے کی طرف ہوگیا اور ایسا لگا جیسا کوئی آیا ہو۔ جنّ گرجا، اچھا تم ہو الیاس قادری،تم ہی نے میرے بھائی کو مسلمان کیا ہے ؟یہ کہہ کر وہ غصّے میں بپھرکر پہلے تو دروازے کی طرف لپکامگر پھر ٹھٹھک کر رک گیااور کہنے لگا : یہ تم نے ہاتھ کیوں باندھ لئے ! کیا تمہارا غوث(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) آنے والا ہے، دیکھ لوں گا اسے بھی۔” یہ کہہ کروہ دانت پیستا ہوا جیسے ہی بُرے ارادے سے آگے بڑھا تواچانک ہوا میں اُچھلا اور بُری طرح سے زمین پر آ گرا۔ ایسا لگا جیسے اس خوفناک جنّ کو کسی نے اُٹھا کر پچھاڑ دیا ہو،اب وہ چِت پڑا تڑپ رہا تھا، اس نے اپنی آنکھوں پر اس انداز میں ہاتھ رکھے ہوئے تھے جیسے بہت تیز روشنیاں اُس پر پڑرہی ہوں۔وہ بڑا بے چین اور اذیّت میں لگ رہا تھا۔پھر وہ بُری طرح اچھلنے اور تڑپنے لگا ، ایسا مَحسوس ہوتا تھا کہ اس کے جسْم میں آگ لگی ہوئی ہو۔ سارے گھر کے افراد مل کر بارگاہِ غوثیت میں یا غَوث المدد، یا غَوث المدد کی صدائیں بُلند کر رہے تھے ۔ غیر مسلم جن کی خوفناک چیخیں بُلند ہوتی جارہی تھیں۔ جو جنّ کچھ دیر پہلے گرج رہا تھا ، اب فریادیں کر رہا تھا معافیاں مانگ رہا تھا، مجھے معاف کردو، مجھے چھوڑ دو، مجھے مت جلاؤ،میں چلاجاؤں گا،آئندہ کبھی نہیں آؤنگا،میں جل رہا ہوں مجھے چھوڑ دو۔ اس طرح وہ تڑپتا رہا اورایسا لگا جیسے بالآخِر اس سرکش غیر مسلم جنّ کوغوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جَلادیا ہو۔ چھوٹا بھائی بے سُدھ ہو کر زمین پر گر پڑا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس کے بعد سے اس گھر میں اَمْن قائم ہوگیا۔ اور چھوٹے بھائی کوبھی اس جنّ سے نَجات مل گئی اور دوبارہ اب تک ظاہر نہیں ہوا ہے۔

صلّوا علٰی الْحبيب! صَلَّی اللہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

جِنّات کے مختلِف مَذاہِب

جِنّات میں مختلِف مَذاہِب بھی ہوتے ہیں، مسلمان، ہندو، عیسائی، یَہودی ، رافِضی ہر طرح کے ہوتے ہیں، پکّے سُنّی جِنّ بھی ہوتے ہیں، بُزرگوں کی بارگاہوں میں حاضِریاں بھی دیتے ہیں۔ مُکلّف جِنّات کیلئے جَزا و سَزا بھی ہے،کافِر جِنّ ہمیشہ جہنّم میں رہیں گے۔ مسلمان جنّات جَنَّت اور دوزخ کے درمیان ایک مَقام ہے ”اَعْراف” اُس میں رہیں گے ۔
دُعا:اللہ عَزَّوَجَلَّ نیک جِنّات پر اپنا کرم فرمائے اور شریر جِنّات و شیاطین سے ہمیں مَحفوظ رکھے۔( اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )
ایمان کی حفاظت

اَلْحَمْدُﷲِ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی سب سے قیمتی چیز ایمان ہے۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے،جس کو زندگی میں سلْب ایمان کاخوف نہیں ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ( بحوالہ رسالہ برے خاتمے کے اسباب ص ۱۴) ا یمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ کسی ”مرشدِکامل ” سے مُرید ہونا بھی ہے۔
بَیْعَت کا ثُبوت: اَللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔

یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمْ ۚ

ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ۷۱)
نورُ العِرفان فی تفسیرُ القرآن میں مفسرِ شہیر مفتی احمد یا ر خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیتِ مبارَکہ کے تحت لکھتے ہیں” اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے شَرِیْعَت میں ”تقلید” کرکے ، اور طریقت میں ”بَیْعَت”کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطٰن ہوگا۔ اس آیت میں تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔”
آج کے پرفِتن دور میں پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرورہے ، مگر کامل اور ناقص پیر کا امتیاز مشکل ہے۔ یہ اَللہ عَزَّوجَلَّ کاخاص کرم ہے! کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے مَحبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی اصلاح کیلئے اپنے اولیاء کرام رَحِمَھُمُ اللہ ضَرورپیدافرماتا ہے۔ جو اپنی مومنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں کو یہ ذہن دینے کی کوشش فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔(اِنْ شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) جس کی ایک مثال قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مَدَنی ماحول ہمارے سامنے ہے۔ جس کے امیر، بانیِ دعوت اسلامی،امیرِ اَہلسنّت ابوبلال حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادری رَضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں، جن کی نگاہ ولایت نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کردیا۔
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خلیفہ قطبِ مدینہ ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پوری دنیا میں واحد خلیفہ ہیں۔(آپ کو شارح بخاری،فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃنے سلاسلِ اربعہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی خلافت و کتب و احادیث وغیرہ کی اجازت بھی عطا فرمائی، جانشین سیدی قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اسانید و اجازات سے نوازا ہے۔ دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخ سے آپ کو خلافت حاصل ہے۔)
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں مُرید کرتے ہیں،اورقادری سلسلے کی عظمت کے توکیاکہنے کہ اس کے عظیم پیشوا حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قیامت تک کے لئے (بفضل ِ خدا عزوجل)اپنے مریدوں کے توبہ پر مرنے کے ضامن ہیں ۔
(بہجۃ الاسرار،ص۱۹۱،مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
مَدَ نی مشورہ:جوکسی کا مُرید نہ ہو اُسکی خدمت میں مَدَنی مشورہ ہے! کہ اس زمانے کے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم بزرگ شیخ طریقت امیراہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذات مبارکہ کو غنیمت جانے اور بلا تاخیر ان کا مُرید ہوجائے۔ یقیناً مُرید ہونے میں نقصان کا کوئی پہلو ہی نہیں، دونوں جہاں میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ شیطانی رکاوٹ :مگریہ بات ذہن میں رہے!کہ چونکہ امیراہلِسنت مدظلہ العالی کے ذریعےحضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مُرید بننے میں ایمان کے تحفظ ،مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق، جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے جیسے عظیم منافع متوقع ہیں ۔ لہٰذا شیطان آپ کو مُرید بننے سے روکنے کی بھرپور کوشش کریگا۔
آپ کے دل میں خیال آئے گا، میں ذراماں باپ سے پوچھ لوں، دوستوں کا بھی مشورہ لے لوں، ذرا نماز کا پابندبن جاؤں،ابھی جلدی کیا ہے، ذرامُرید بننے کے قابل تو ہوجاؤں ، پھر مُرید بھی بن جاؤں گا۔میرے پیارے اسلامی بھائی!کہیں قابل بننے کے انتظار میں موت نہ آسنبھالے، لہٰذا مُرید بننے میں تاخیر نہیں کرنی چاہے۔
شَجَرہِ عطاریہ: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک بہت ہی پیارا”شجرہ شریف ”بھی مرتب فرمایا ہے۔جس میں گناہوں سے بچنے کیلئے،کام اٹک جائے تو اس وقت،اور روزی میں بَرَکت کیلئے کیا کیا پڑھنا چاہے،نیزجا دوٹونے سے حفاظت کیلئے کیا کرنا چاہے، اسی طرح کے اور بھی ”اَوراد”لکھے ہیں۔
اس شجرے کو صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں،جو امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے قادری رضوی عطاری سلسلے میں مُرید یا طالب ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ کسی اور کو پڑھنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذ ا اپنے گھر کے ایک ایک فرد بلکہ اگر ایک دن کا بچہ بھی ہو تو اسے بھیسرکار غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سلسلے میں مریدکروا کر قادری رضوی عطاری بنوادیں۔
بلکہ امّت کی خیر خواہی کے پیش نظر، جہاںآپ خود امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مُرید ہونا پسند فرمائیں وہاں انفرادی کوشش کے ذریعے اپنے عزیز واَقرباء اور اہل خانہ،دوست احباب و دیگر مسلمانوں کو بھی ترغیب دلا کر مُرید کروادیں۔

مُرید بننے کا طریقہ

بہت سے اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں، اس بات کا اظہار کرتے رہتے ہیں! کہ ہم امیرِاہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مُرید یاطالب ہونا چاہتے ہیں۔مگر طریقہ کار معلوم نہیں،تواگرآپ مُرید بننا چاہتے ہیں، تو اپنا اور جن کو مُرید یا طالب بنوانا چاہتے ہیں ان کا نام، ایک صفحے پرترتیب وار بمع ولدیت و عمر لکھ کر عالمی مرکز فیضان مد ینہ محلہ سوداگران پرانی سبزی منڈی کراچی مکتب نمبر 3کے پتے پر روانہ فرمادیں،تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں بھی سلسلہ قادِریہ رَضویہ عطّاریہ میں داخل کرلیاجائے گا۔ اس کے لئے نام لکھنے کاطریقہ بھی سمجھ لیں۔
مثلاً لڑکی ہو تو میمونہ بنتِ علی رضاعمر تقریباًتین ماہ اور لڑکا ہو تو محمد امین بن محمد موسیٰ عمر تقریباً سات سال، اپنا مکمل پتا لکھنا ہر گز نہ بھولیں(پتا انگریزی کے کیپٹل حروف میں لکھیں

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top