Facebook

دست نبویﷺ کی برکت دیکھی آپ نے؟ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

سیدہ فاطمتہ الزہراؓ نے روٹیاں لگائیں‘ نبی علیہ السلام نے بھی ایک دو بنا کر لگا دیں‘ کافی دیر کے بعد جب سب پک گئیں تو حیران ہوئیں کہ اس میں سے ایک دو پک ہی نہیں رہیں اس طرح آٹے کا آٹا موجود ہے. نبیؐ نے پوچھا بیٹا! کیا ہوا؟ عرض کیا‘ حضورﷺ! دو تین روٹیاں ایسی ہیں جو پک نہیں رہیں.

فرمایا یہ وہی روٹیاں ہوں گی جن پر تیرے والد کے ہاتھ لگ گئے اب آگ اس آٹے پر اثر نہیں کر سکتی تو نبی علیہ السلام جس چیز کو چھو لیتے تھے اس پر یوں اثرات ہو جاتے تھے.لمس نبویﷺ کی برکت سنی آپ نے ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت انسؓ کے گھر گیا‘ میں کھانا کھا رہا تھا‘ انہوں نے اپنی باندی سے کہا کہ تولیہ لاؤ‘ جب وہ تولیہ لائیں تو دیکھا کہ میلا کچیلا تھا‘

حضرت انسؓ نے اس کو غصہ کی نظر سے دیکھا اور کہا کہ جاؤ اسے صاف کر ے لاؤ‘ فرماتے ہیں کہ وہ بھاگ کر گئی اور جلتے ہوئے تنور کے اندر تولیہ پھینک دیا‘ تھوڑی دیر کے بعد اس نے وہ تولیہ باہر نکالا تو بالکل صاف ستھرا تھا‘ وہ گرم گرم تولیہ میرے پاس لائی میں نے ہاتھ تو صاف کر لئے مگر حضرت انسؓ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا‘ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ میرے گھر دعوت پر تشریف لائے تھے میں نے

یہ تولیہ محبوبﷺ کو ہاتھ مبارک صاف کرنے کے لئے دیا تھا‘ جب سے محبوبﷺ نے ہاتھ مبارک صاف کئے آگ نے اس تولیہ کو جلانا چھوڑ دیا ہے جب یہ تولیہ میلا ہو جاتا ہے تو ہم اسے تنور میں ڈال دیتے ہیں آگ میل کچیل کو کھا لیتی ہے اور ہم صاف تولیہ کو باہر نکال لیتے ہیں. سبحان اللہ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top