Facebook

سعودی عرب کے شمال میں ایک دیہات ہے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

سعودی عرب کے شمال میں ایک دیہات ہے جس کا نام’’لینہ‘‘ ہے اس گاؤں میں چند کنویں برآمد ہوئے ہیں جن کا تعلق حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور سے بتایا جاتا ہے.دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کی زمین چٹانی اور اتنی سخت ہے کہ پرانے دور میں یہاں کسی انسان کی جانب سے ایسے کنویں کھودنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا.

اسلئے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کنوؤں کو حضرت سلیمانؑ کیلئے جنات نے کھودا تھا. یہاں ایسے متعدد کنویں تھے جن میں سے اب صرف20باقی رہ گئے ہیں. بتایا جاتا ہے کہ جب حضرت سلیمانؑ نے بیت المقدس سے یمن کا سفر کیا تو یہاں ان کی فوج نے قیام کیا تھا . یہ کنویں اسی وقت پانی کیلئے یہاں کھودے گئے تھے.

سعودی عرب کی شمالی سرحد کے قریب رفاہ سے100کیلو میٹر دور جنوب میں یہ گاؤں واقع ہے جہاں اب تاریخی اہمیت کی حامل کئی باتیں سامنے آرہی ہیں.یہ گاؤں سعودی عرب میں اس وجہ سے پہلے سے مشہور ہے کہ یہاں 300 کنویں ہیں اور ان تمام کنوؤں کا پانی میٹھا ہے

لیکن آہستہ آہستہ یہ کنویں معدوم ہوتے چلے گئے اور اب یہاں صرف20کنویں باقی رہ گئے ہیں. در اصل حکومت سعودی عرب کی جانب سے ان کے تحفظ میں لا پرواہی کی وجہ سے یہ آہستہ آہستہ ختم ہوگئے تا ہم اب حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے یہاں باقی بچے کنوؤں کا تحفظ کرنا شروع کردیا ہے.

قدیم تاریخ دانوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ عراق کے صوبہ واسط سے مکہ مکرمہ کی سمت سفر کرنے پر چوتھا پڑاؤ لینہ ہے اور یہاں کے300 چشموں کا ذکر ان کے کتابوں میں ملتا ہے تا ہم لینہ میں چشمے نہیں کنویں تھے .حال ہی میں کنگ سعود یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے ان آثار قدیمہ کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے ایک سروے کیا.

انہوں نے سب سے پہلے واضح کیا کہ اس علاقہ کا پانی پینے کیلئے انتہائی موزوں ہے تا ہم ان کنوؤں کو جنات نے کھودا تھا اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا ہے. اسی سعودی عرب میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے چٹانوں کو کاٹ کر جو خوبصورت محلات اور مکانات بنائے تھے وہ آج بھی مدائن صالح میں موجود ہیں

جن کو دیکھ کر عقل تسلیم نہیں کرتی کہ یہ انسانی ہاتھوں کا کمال ہے.اسی طرح لینہ گاؤں کے کنوؤں کو بھی دیکھ کر ذہین یہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا کہ یہ انسانوں نے کھودے ہوں گے . اسلئے یہ بات مشہور ہے کہ یہ جنات کا کارنامہ ہے کسی دور میں یہ دیہات تجارتی قافلوں کا مرکز ہوا کرتے تھے یہاں ہر قافلہ قیام کرتا تھا. یہاں قدیم زمانے میں اجناس کا ذخیرہ کرنے کیلئے بنائے گئے گودام بھی موجود ہیں جبکہ ایک قدیم بازار کے آثار بھی ہیں.

اس دیہات کا دورہ کرنے والے مٹی سے بنے ان گوداموں اور دوکانوں کی مضبوطی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جن کی چھتوں کیلئے کھجورکے درختوں کی چھال اور اس کے پتے استعمال کئے جاتے تھے . حکومت سعودی عرب کی جانب سے ان آثار قدیمہ کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں.

لینہ میں ایک تاریخی محل بھی ہے جو شاہ عبد العزیز نے سعودی عرب کے قیام کے بعد1935 میں تعمیر کروایا تھا. اس محل کو بھی بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں.محل مکمل مٹی اور پتھروں سے بنایا گیا تھا.اس کے اطراف میں نگرانی کیلئے 4 برج تعمیر کئے گئے تھے.بیرونی دیوار میں لکڑی کا بڑا دروازہ بھی ہے یہاں ایک مسجد اور پانی کا کنواں بھی ہے.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top