Facebook

’’سلطان علائوالدین خلجی‘‘ ایک جنگجو بادشاہ جو دنیا پر اپنا نیا مذہب رائج کرنا چاہتا تھا اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں

سلاطین دہلی کے دو حکمران ایسے گزرے ہیں جو بالکل ان پڑھ تھے، لیکن دونوں نے تاریخ میں بہت نام کمایا اور مؤرخین نے انھیں کامیاب حکمران قرار دیا، ان میں پہلا نام علاؤالدین خلجی کا ہے اور دوسرا نام مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کا. مشہور ہندو مصنف واستوا علاؤ الدین خلجی کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ علاؤالدین ایک دلیر سپاہی اور کامیاب جرنیل تھا.

وہ سلطنت دہلی کا پہلا ترک سلطانتھا، جس نے نظامِ سلطنت کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے کے لیے ایک مضبوط مرکزی فوج قائم کی. وہ بلاشبہ برصغیر میں پہلا ترک حکمران تھا، جو معمار سلطنت کہلانے کا مستحق ہے. اُس کے عہد میں ترکش امپیریلزم منتہائے عروج کو پہنچی.‘‘علاؤالدین ، سلطان جلال الدین فیروز شاہ کے بھائی شہاب الدین مسعود خلجی کا بیٹا تھا اور سلطان

جلال الدین فیروز خلجی کا حقیقی بھتیجا اور داماد بھی تھا. سلطان کو اُس سے بے حد محبت تھی. اس لیے اُس نے اُسے حقیقی اولاد کی مانند پالا پوسا. 1290ء میں جب وہ برسراقتدار آیا تو علاؤالدین کو’ امیرتزک‘ کے عہدے پر متعین کیا گیا اور 1291ء میں ملک چھجو جیسے خوفناک باغی کی شکست کے بعد اُسے کٹرہ، مانک پور کے وسیع علاقے کا گورنر مقرر کیا گیا. علاؤالدین اگرچہ بالکل ان پڑھ تھا مگر بلا کا ذہین، صاحبِ عزم واستقلال اور خداداد عسکری قابلیت کا مالک ایک بہادر اور بلند ہمت سپاہی تھا. ایک کامیاب منتظم کی جملہ صفات اس میں بدرجہ اَتم موجود تھیں.اس کے ساتھ اس کی شخصیت میں بڑی پیچیدگیاں تھیں . اس کی وجہ یہ تھی کہ علاؤالدین اپنی نجی زندگی میں اپنی بیوی اور اپنی چچی ملکہ جہاں کے سخت رویہ کی وجہ سے پریشان رہا کرتا تھا لیکن اپنے چچا کے مشفقانہ سلوک کی وجہ سے چپ سادھے ہوئے تھا اور اس تگ ودو میں تھا کہ کسی طرح مرکز سے کہیں دور چلا جائے. کٹرہ کی صوبیداری پر متعین ہونے سے اُسے اپنےمقصد میں قدرے کامیابی ہوئی. نیز اُسے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کا بھی موقع مل گیا. عروج واقتدار کے خواب دیکھنے والے، مہم جُو سردار اُس کے گرد جمع ہو گئے، جو اُسے عظمت وشہرت کے حصول کے لیے فتوحات اور تختِ دہلی پر قابض ہونے کے لیے اُکسانے لگے. یہ سردار جلال الدین فیروز کو نہ صرف غاصب تصور کرتے تھے بلکہ اُس کی کمزور پالیسی سے سخت نالاں تھے. وہ اُس کی جگہ علاؤالدین کو بادشاہ بناناچاہتے تھے. علاؤالدین بڑے ٹھنڈے دل ودماغ کا مالک تھا اور جلدبازی کی بجائے حالات کے مطابق عمل پیرا ہونے کا حامی تھا. اُس نے اپنے چچا اور بوڑھے سلطان پر اپنے بھائی الماس بیگ کے ذریعے سے اعتماد کو قائم رکھا اور حصولِ اقتدار کے لیے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے علاوہ مناسب موقع کی تلاش میں رہا.1292ء میں علاؤالدین نے سلطان کی اجازت سے مالوہ کے شہر بھلیسا پر فوج کشی کی، جہاں سے اُسے بےانتہا مال وزر بطورِ مالِ غنیمت ہاتھ لگا. جس کا بیشتر حصہ اُس نے سلطان کے پاس دہلی بھجوا دیا. علاؤالدین کے اس کارنامے اور دیانتداری سے اس قدر خوش ہوا کہ اُس نے اُسے ’’عارضِ ممالک‘‘ کے اہم ترین عہدے پر متعین کرنے کے علاوہ اودھ کی گورنری بھی عطا کر دی. اس طرح کٹرہ مانک پور اور اودھ کے دو اہم ترین صوبے اُس کے زیرِاقتدار آگئے. اس کے بعد علاؤالدین کی ہوس اقتدار اور بڑھ گئی.دیوگڑھی کی مہم میںعلاؤالدین کی شاندار کامیابی نے اس کے وقار اور شہرت میں اس قدر اضافہ کیا کہ وہ تختِ دہلی پر قابض ہونے کے خواب دیکھنے لگا. اُس کے گھریلو حالات مزید خراب ہو چکے تھے کیونکہ اُس کی بیوی اور اُس کی ساس ملکہ دربار میں اُس کے خلاف زہر اُگلنے اور سلطان کو اُس سے بدظن کرنے میں مصروف تھیں. ان حالات میں علاؤالدین نے اپنے چچا کو راہ سے ہٹا کر خود تختِ دہلی پر قابض ہونے کا منصوبہ بنایا اور سلطان کو کٹرہ بلاکر 20جولائی 1296ء کو اپنے دو آدمیوں سے قتل کروا دیا اور اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا. سلطان کے اس غاصبانہ قبضے کے بعد رعایا اس کے خلاف تھی لیکن سلطان نے ساری توجہ امن و امان اور سہولتیں فراہم کر نے میں لگا دی. تاریخ اسے اس پر بھی معاف نہ کرتی لیکن اس کے ہاتھوں ایک ایسا واقعہ ہو گیا جس سے اس کے کردار پر لگے داغ کو ختم کرنے میں اہم کرادر ادا کیا .دراصل سلطان عجیب و غریب منصوبے سوچتا رہتا. اُس کا ایک منصوبہ ایک نیا مذہب رائج کرنے کا تھا. وہ کہا کرتا تھا کہ میرے بھی چار بہترین دوست ہیں: ظفر خاں، الغ خاں، نصرت خاں اور الپ خاں. جن میں ہر ایک صاحب سیف ہے. وہ میرے مذہب کو پوری دنیا میں پھیلا دیں گے. اُس کا دوسرا منصوبہ یہ تھا کہ سکندرِاعظم کی طرح اپنی سلطنت کسی وزیر کے سپرد کر کے، ایک عظیم فوج کی معیت میں تمام دُنیا کو فتح کر ڈالے. چنانچہ اُس نے سکندرِ ثانی کا لقب بھی اختیار کر لیا. وہعلی الاعلان بھرے دربار میں اپنے ان منصوبوں کا ذکر کرتا مگر چونکہ نہایت مغرور اور سرپھرا تھا ، اس لیے کسی کو اُسے صحیح حقیقت سے آگاہ کرنے کی جرأت نہ ہوتی .بالآخر ہم عصر مؤرخ ضیاء الدین برنی کے چچا علاء الملک (کوتوالِ دہلی) نے سلطان کو راہِ راست پر لانے کی جرأت کی.ایک دفعہ جب سلطان اپنے مقربینِ خاص کے ساتھ مے نوشی کی محفل میں مصروف تھا، اس نے کوتوال سے اپنے منصوبوں کے بارےرائے پوچھی. علاء الملک نے کہا : مذہب اور شریعت خدا کی طرف سے نازل ہوتے ہیں. یہ انسان کے بس کی بات نہیں. پیغمبر خدا کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں. مسلمان حضورؐ کو خاتم النبین مانتے ہیں. آپ اپنی مذہبی لڑائی اور نئے مذہب کے خیال کو دل سے نکال دیں ورنہ تمام مسلمان سلطان سے بگڑ جائیں گے. وہی مسلمان جن کی تلواریں آپ کے دُشمنوں کا صفایا کر رہی ہیں، آپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے. علاء الملک نے چنگیزخاں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اُس نے اسلامی ممالک اور شہروں کو تاخت وتاراج کیا مگر تمام تر جبروت واختیار کے باوجود کوئی نیا مذہب رائج کرنے کی جرأت اُسے بھی نہ ہو سکی. نیز کسی مسلمان نے چنگیز خاں اور اُس کے منگولوں کا مذہب قبول نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس بے شمار منگولوں نے دینِ اسلام کو قبول کر لیا. علاؤالدین یہ سُن کر سناٹے میں آگیا اور علاء الملک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:تم نے بہت اچھا کیا جو بےدھڑک سچی بات میرے منہ پر کہہ دی. میں نئے مذہب کے اجراء کا خیال ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دل سے نکالتا ہوں.علاء الملک نے خلجی کے دوسرے منصوبے کے بارے میں کہا کہ

جہاں تک تسخیر عالم کے شوق کا تعلق ہے، جہانگیر وکشورکشائی سلاطین ہی کا کام ہے مگر ارسطو جیسا زیرک، قابل اعتماد اور وفادار وزیر آپ کہاں سے لائیں گے جو آپ کی غیرحاضری میں امورِ سلطنت کو دیانتداری سے انجام دے سکے. نیز کم از کم تینلاکھ فوج کا ہونا بھی لازمی ہے اور اسی قدر فوج اس ملک میں بھی موجود ہونی چاہیے تاکہ آپ کی غیرحاضری سے فائدہ اُٹھا کر اہل ملک علم بغاوت بلند نہ کر سکیں. ابھی بیشتر علاقے اس ملک میں موجود ہیں جو اب تک تسخیر نہیں ہو سکے. اس لیے بہتر ہے کہ تسخیر عالم کی بجائے اس برصغیر کی ہی تسخیر کو مکمل کیا جائے. ان امور سے فارغ ہو کر سلطانِ معظم کو رعایا پروری اور عد ل و انصاف جیسے اہم امور کیجانب متوجہ ہونا چاہیے تاکہ پوری دُنیا میں آپ کی شان کا شہرہ ہو . کوتوالِ شہر نے کچھ ایسے معقول انداز میں دلائل پیش کیے کہ سلطان قائل ہو گیا. علاء الملک کے ان بے باکانہ مشوروں کا سلطان پر گہرا اثر ہوا اور اُس نے سوائے فتوحات کے باقی سب عزائم ترک کر دیے.کاش مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کو بھی کوئی ایسا ہی مشورہ دیتا تو وہ بھی دین الہٰی کی بدعت ایجاد کرنے سے بچ جاتا . اور اس کے ذریعے سے اسلامی .اقدار کو پہنچنے والا نقصان بھی نہ ہو تا .

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top