Facebook

کہیں ہمیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

عرب کے کسی شیخ کے پاس ایک بہت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا. لوگ اس کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے پر تیار تھے مگر شیخ اسے کسی قیمت پر فروخت کرنے کو تیار نہیں تھا.گھوڑے کی شہرت سُن کر ایک روز عرب کا نامی گرامی شہسوار شیخ کے پاس آیا اور ایک خطیر رقم کے عوض گھوڑے کاسودا کرنا چاہا لیکن شیخ نے

کسی قیمت پر گھوڑا نہ دینے کا پکا ارادہ کر رکھا تھا. شہسوار جاتے وقت بولا ’’ایک بات یاد رکھنا جو چیز مجھے پسند ہوتی ہے میں اسے حاصل کرکے رہتا ہوں.‘‘ خیر وقت گزرتا گیا اور شیخ کچھ دنوں بعد اس بات کو بھول چکا تھا. ایک دفعہ شیخ گھوڑے پر سوار کسی جنگل سے گزر رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک کمزور اور بیمار آدمی دیکھا جو کسی سواری کا محتاج تھا، شیخ کو اُس آدمی پر ترس آیا اور اُس نے گھوڑا اسے دے دیا، وہ آدمی گھوڑے پر سوار ہوتے ہی تندرست و توانا اور

خوش نظر آنے لگا. اُس نے اپنے چہرے سے چادر اُتاری تو شیخ حیران ہو گیا یہ تو وہی شہسوار تھا. شہسوار نے ہنستے ہوئے زہر بھرے لہجے میں کہا دیکھو تم نے خود اس گھوڑے کو مجھے سونپ دیا.

شیخ نے کہا کے گھوڑا چاہے تم ہی رکھ لو لیکن ایک التجا ہے کہ اگر لوگ تم سے اس گھوڑے کے بارے میں پوچھیں تو کہنا، شیخ نے تحفہ دیا ہے اگر یہ کہو گے کہ شیخ کو بے وقوف بنا کر حاصل کیا ہے تو لوگ ضرورت مندوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے اور کوئی کسی کی مدد نہیں کرے گا کہ کہیں ہمیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top