Facebook

ہوس کے بھوکے مرد اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

آسکر جیتنے کے قابل سکرپٹ کے ذریعے فرعون زمانہ ہاروے وین سٹین کو آسمان سے زمین پر اتار لیا گیا ہے. وینسٹائن نے اپنے اثرو رسوخ سے نئے آنے والی اداکاراوں اور ملازمہ خواتین کو اپنی ہوس کا شکار بنایا .

ایک باتھ روب، ایک تیل کی بوتل اور مساج سے ہی معلوم ہوجاتا ہے..جاری ہے. کہ ان کے ارادے کیا ہوتے تھے. جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتی رہیں ان کو ترقیاں اور شہرت کی بلندیاں ملیں اور جنہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ان کو ہالی وڈ میں ٹھہرنا ناممکن لگا.لیکن کیا یہ صرف شو بز ہے جہاں لوگ اپنی مرضی سے کسی کو ہراساں کر سکتے ہیں

؟ ایک وائیرل ہیش ٹیگ “می ٹو ” دکھاتا ہے کہ اس لعنت کی وبا کتنی پھیلی ہوئی ہے. جہاں جنسی حراساں کرنے کی کہا نیاں سامنے آتی ہیں وہاں معلوم ہوتا ہے کہ افریقہ ، یورپ اور ساؤتھ ایشیاء میں ایک جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں.جب چندی گڑھ میں پارٹی سے واپسی پر ورنیکا کندو کو حراساں کیا گیا تو انہوں نے پولیس کو بلایا اور رپورٹ درج کروائی. چلاکی! اچھا؟ او، نہیں.

بجائے ہوس کے بھوکے مردوں کو سوال کرنے کے سب سے پہلا سوال ورنیکا سے پوچھا گیا کہ رات گئے وہ باہر کر کیا رہی تھیں. بارڈر کے پار ایک روایتی پاکستانی کا رد عمل قابل دید تھا انہوں نے غصے سےناک پھلاتے ہوئے کہا::” کیا بکواس ہے! اسے اتنی رات کوانہیں باہر نہیں ہونا چاہیے تھا.” کیوں نہیں؟ کیا آپ اسے الزام دے رہے ہیں؟ وہ تو اپنے گھر جا رہی تھیں. یہ مرد

تھے جنہوں نے اس خاتون کو پیچھا کیا. کیا آپ آدھی رات کو ڈرائیو کریں گی؟ واقعی؟ انہوں نے غلطی کی . آپ کو نہیں پتہ کہ بر صغیر کے مرد کیسے ہوتے ہیں؟ وہ جانور جیسے ہیں!”یہ توجانوروں کی بے عزتی ہو گئی، لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس طرح قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے. شکار ہی مجرم بن جاتا ہے.

یہ کچھ امثال ہیں:یونیورسٹی کے کچھ لڑکے آپ کا پیچھا کرتے ہیں قریبی لائبریری کے میز بیٹھ کر چھیڑتے ہیں اور لائیبریرین کو شکایت لگانے تک آپ کو گھورتے ہیں اور لائیبریرین نظر انداز کر دیتے ہیں. ان کا انداز کہتا ہے لڑکے لڑکے ہی رہیں گے تم اتنا کیوں تلملا رہی ہو…جاری ہے

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top