Facebook

یارہ بیٹوں کا سرطشت میں اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

جب اللہ رب العزت روٹھ جاتے ہیں تو دن بدلتے دیر نہیں لگتی، جو پروردگار نعمتیں دینا جانتا ہے وہ پروردگار نعمتیں لینا بھی جانتا ہے، ڈرتے رہیں کہ اللہ ہم سے نعمتیں چھین نہ لے، ہم ناقدرے ہیں، ہم نے قدر نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی، ناقدری کا انجام کس قدر خطرناک ہوتا ہے اس کی ایک مثال دیکھئے کہ: مغل بادشاہ کے شہزادے نے قدر نہیں کی تو انجام کیا ہوا، بہادر شاہ ظفرؒ وقت کا بادشاہ ہے، اس کے پاس محل ہے، پری چہرہ بیویاں ہیں، خدام ہیں، جدھرجاتے ہیں، خادمائیں فرشی سلام کرتیہیں، لیکن پھر زندگی میں کیا وقت آیا؟

ہتھکڑی لگی ہوئی ہے، جیل کے اندر گیارہ بیٹوں کے سرکاٹ کر دشمن نے ان کے سامنے رکھے، گیارہ بیٹوں کے سر کو دیکھ کر دل پر کیا گزری ہو گی، مجبور ہو کر کہہ دیا:نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں۔۔نہ کسی کے دل کا قرار ہوں۔ جو کسی کے کام نہ آ سکے۔۔میں وہ مشت غبار ہوں۔کوئی مجھ پہ پھول چڑھائے کیوں۔۔کوئی مجھ پہ آنسو بہائے کیوں۔کوئی مجھ پہ دیا جلائے کیوں۔۔ میں وہ بے کسی کا مزار ہوں۔ میرا رنگ روپ بدل گیا۔۔میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا۔ جو چمن خزاں سے اجڑ گیا۔۔میں اسی کی فصل بہار ہوں۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top