Facebook

جہنم کی آگ کو تیرے اوپر حرام کر دیا ہے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

بشرحانی کا مشہور واقعہ ہے حانی کہتے ہیں ننگے پاؤں چلنے والا‘ یہ شراب پیتے تھے‘ ’’پولیس مین تھے‘‘ جا رہے تھے. ایک کاغذ پر اللہ کا نام دیکھا دل میں خیال آیا اللہ کا نام کاغذ پر لکھا زمین پر پڑا ہے تو اسی وقت اللہ کا نام اٹھایا اور اونچی جگہ پر رکھ دیا اسی وقت اللہ نے الہام فرمایا‘ اے میرے پیارے تو نے میرے نام کو اپنے پاؤں سے اٹھا کے سر تک پہنچایا‘ میں تمہارے نام کو فرش سے اٹھا کر عرش تک پہنچاؤں گا‘چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فقط اپنے نام کے ادب کی وجہ سے اپنی محبت عطا فرما دی.

جب محبوب سے محبت ہوتی ہے تو اس کانام بھی پیارا لگتا ہے اور اس کا کام بھی پیارا لگتا ہے اس کی یاد میں بیٹھنے کو دل کرتا ہے یہ سب چیزیں اس کی محبت کے اثرات میں اور محبوب کی ملاقات سے دل نہیں بھرتا چاہے جتنی مرتبہ ہو.امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے ادب کی انتہاء امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا احادیث لکھ رہا تھا قلم نہیں چل رہا تھا‘

تو میں نے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے اس قلم کو ذرا درست کیا تو سیاہی لگ گئی‘ اسی حال میں مجھے تقاضا محسوس ہوا‘ بیت الخلاء جانے کا‘ جب میں وہاں بیٹھنے لگا تو بیٹھتے ہی میری نظر انگوٹھے پر پڑی تو میں نے سیاہی دیکھی تو دل میں خیال آیا کہ اگر تقاضے سے فارغ ہوا تو ہاتھ دھوئیں گے اور پانی کی وجہ سے یہ سیاہی جو میں لکھنے میں استعمال کرتا ہوں اس گندے پانی میں شامل ہو گی جو ادب کیخلاف ہے‘

میں نے تقاضا کو دبایا اور بیت الخلاء سے باہر آیا اور آ کر میں نے سیاہی کو صاف جگہ پر دھویا جیسے ہی دھویا اسی وقت الہام ہوا کہ احمد سرہندی! ہم نے جہنم کی آگ کو تیرے اوپر حرام کر دیا ہے جب علم بھی ہو اور ادب بھی ہو پھر نور علی نور ہوا کرتا ہے.

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top