Facebook

حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کوجنت کے دروازے پر روک لیا جائے گا اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں

حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کوجنت کے دروازے پر روک لیا جائے گا.حضرت اویس قرنی کون ہیں .

اویس نام ہے عامر کے بیٹے ہیں مراد قبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اور یمن انکی رہائش گاہ تھی .حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی .وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضور کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکے،

جبرئیل آسمان سے پہنچے اور انکی بات کو حضور نے بیان کیا چونکہ حضور دیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیسا سلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول اللہ ؐ قیامت کب آئے گی توآپ ؐ نے ارشاد فرمایا مجھے نہیں معلوم کب آئے گی تو سائل نے کہا کہ کوئی نشانی تو بتا دیں تو آپ نے فرمایا جب اولاد اپنی ماں کو ذلیل کرے گی تو قیامت آئے گی ،

حضورؐ نے حضرت عمرؓ اورحضرت علیؓ سے کہا کہ تمہارے دور میں ایک شخص ہو گا جس کا نام ہو گا اویس بن عامر درمیانہ قدرنگ کالاجسم پر ایک سفید داغ حضورؐ نے ان کا حلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہوں وہ آئے گا جب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے

.حضرت عمر اور حضرت علی کو اویس قرنی کی دعا کی ضرورت نہیں تھی.یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہے حضرت عمرؓ حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کیا کہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کرائیں تو حضورؐ نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا.

حضرت عمر دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہو جاؤ آپ کے حکم پر تمام حاجی کھڑے ہو گئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاؤ صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھر کہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جائو صرف مراد قبیلہ کھڑا رہے

پھر کہا مراد والے سب بیٹھ جائو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچا اور حضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہا کہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کا بیٹا ہے میرا سگابھتیجا ہےاس کا دماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟؟؟

تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہا آپ نے پوچھا کدھر تو اس نے کہا کہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیا ہے اونٹ چرانے،

آ پ نے حضرت علی ؓ کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگا دی جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اویس قرنی ؓ درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چر رہے ہیں یہ آکر بیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگے جب حضرت اویس نے محسوس کیا کہ دو آدمی آ گئے تو انہوں نے نماز مختصر کر دی،

سلام پھیرا تو حضرت عمرنے پوچھا کون ہو بھائی تو کہا جی میں مزدور ہوں اسے خبر نہیں کہ یہ کون ہیں توحضرت عمرؓ نے کہا کہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہا کہ میرا نام اللہ کا بندہ تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ سارے ہی اللہ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیا رکھا ہے تو حضرت اویس نے کہا کہ آپ کون ہیں میرا نٹرویو کرنے والے ان کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی ؓ نے کہا کہ اویس یہ امیرالمومنین عمر بن خطاب ہیں

اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگے کہا کہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کوپہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر ؓ نے کہا کہ توہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اورکہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکر

آپ، کا میں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہا کہ ہاں اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا تھا عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں،تبلیغ نہیں ،تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے.آخر میں مولا ناطارق جمیل نے کہا کہ اب میں آپ لوگوں کو وہ حدیث سناتاہوں کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے

تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو اس وقت حضرت اویس قرنی ؓ پریشان ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ اے خداآپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیا کیا ہو گیا مجھ سےاس وقت اللہ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھو جب پیچھے دیکھیں گے

تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعداد میں جہنمی کھڑے ہوں گے تو اس وقت خدا تعالٰی فرمائے گا کہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ تو انگلی کا اشارہ کر جدھر، جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا (واللہ تعالیٰ اعلم)

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top