Islam

ندائے “ یارسول اللہ “ کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:- زید موحد مسلمان جو خدا اور رسول کو رسول جانتا ہے، نماز کے بعد اور دیگر اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بکلمہ “ یا “ ندا کرتا ہے اور “ الصلوۃ و السلام علیک یارسول اللہ و اسئلک الشفاعۃ یارسول اللہ “ کہتا ہے، یہ کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور جو لوگ اسے اس کلمہ کی وجہ سے کافر و مشرک کہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ بینو بالکتاب و توجر و ایوم الحساب۔

الجواب:- بسم اللہ الرحمن الرحیم ہ الحمدللہ وکفی الصلوۃ و السلام علی حبیبہ المصطفی والہ واصحبہ اولی الصدق والصفا۔

کلامت مذکورہ بےشک جائز ہیں، جن کے جواز میں کلام نہ کرے گا مگر سفیہ، جاہل یا ضال مضل۔ جسے اس مسئلہ کے متعلق قدرے تفصیل دیکھنی ہو، “ شفاءالسقام “ امام علام بقیۃ المجتہدین الکرام تقی الملۃ والدین ابو الحسن علی سبکی، و “ مواہب لدنیہ “ امام احمد قسطلانی شارح بخاری و شرح مواہب علامہ زرقانی شرح مشکوۃ، و “ جذب القلوب الی دیار المحبوب “ و “ مدارج النبوۃ “ تصانیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی۔ و افضل القری شرح ام القرٰی امام بن حجر مکی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ العزیز العلام کی طرف رجوع لائے۔ یا فقیر کا رسالہ “ الاھل بفیض الاولیاء بعد الوصال “ مطالعہ کرے۔

احادیث سے نداء کا ثبوت

یہاں فقیر بقدر ضرورت چند کلمات اجمالی لکھتا ہے۔ حدیث صحیح مذیل بطراز گر انبہائے تصحیح جسے امام نسائی و امام ترمذی و ابن ماجہ و حاکم و بہیقی و امام الائمہ انم خزیمہ و امام ابوالقاسم طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور حاکم نے برشرط بخاری و مسلم صحیح کہا اور امام عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ و تنقیح نے ان کی تصحیح کو مسلم و مقرر رکھا جس میں حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک نابینا کو دعاء تعلیم فرمائی کہ بعد نماز یوں کہے “ اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بل الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعۃ فی ( ترمذی شریف۔ ج2ص197، امین کمپنی دہلی ) الٰہی ! میں تجھ سے مانگتا اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں بوسیلہ تیرے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے مہربانی کے نبی ہیں، یارسول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں کہ میری حاجت روا ہو، الٰہی ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔

امام طبرانی کی معجم میں یوں ہے: ان رجلا کان یختلف الی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ فی حاجۃ لہ وکان عثمان لا یلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجۃ فلقی عثمن بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ ائت المیضاۃ فتو ضا ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قال اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبینا نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بل الٰی ربی فیقضی حاجتی و تذکر حاجتک ورح الٰی اروح معک، فانطلق الرجل فصنع ما قل لہ ثم اتی باب عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ وقال حاجتک فذکر حاجتہ فقضاھا ثم قال ما ذکرت حاجتک حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکان لک من جاجۃ فانتنا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فقال لہ جزاک اللہ خیرا بما کان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت الی حتی کلمۃ فی فقال عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ واللہ ما کلمۃ ولکن شھدت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ائت المیضاۃ فتوضا ثم صلی رکعتیں ثم ادع بھذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فواللہ ما تفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضرقط ( معجم صغیر ص103 )

یعنی ایک حاجت مند اپنی حاجت کے لئے امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں آتا جاتا، امیرالمومنین نہ اس کی طرف التفات کرتے نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے، اس نے عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس امر کی شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ! پھر دعا مانگ! الٰہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے توجہ کرتا ہوں یارسول اللہ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ میری حاجت روا فرمائیے اور اپنی حاجت ذکر کر! پھر شام کو میرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں۔ حاجت مند ( کہ وہ بھی صحابی یا الاقل کبار تابعین سے تھے ) یوں ہی کیا، پھر آستانہ خلافت پر حاضر ہوئے دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیا، امیرالمومنین نے اپنے مسند پر بٹھا لیا، مطلب پوچھا، عرض کیا، فوراً روا فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا کیا اتنے دنوں میں اس وقت تم نے اپنا مطلب بیان نہ کیا پھر فرمایا جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ہمارے پاس چلے آیا کرو۔

یہ صاحب وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملے اور کہا اللہ تعالٰی تمہیں جزائے خیر دے “ امیرالمومنین میری حاجت پر نظر اور میری طرف توجہ نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی، عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا خدا کی قسم! میں نے تمھارے معاملے میں امیرالمومنین سے کچھ بھی نہ کیا مگر ہوا یہ کہ میں نے سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی، جو حضور نے یونہی اس سے ارشاد فرمایا کہ وضو کرکے دو رکعت پڑھے پھر یہ دعا کرے خدا کی قسم ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیا گویا کبھی اندھا نہ تھا “

امام طبرانی پھر امام منذری فرماتے ہیں “ والحدیث صحیح “ امام بخاری “ کتاب الادب المفرد “ میں اور امام ابن السنی و امام بن بشکوال روایت کرتے ہیں: ان ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما خدرت رجہ فقیل لہ اذکر احب الناس الیک فصاح یا محمد اہ فانتشرت ( الادب المفرد ص250 )

امام نووی شارح صحیح مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “ کتاب الاذکار “ میں اس کا مثل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے نقل فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس کسی آدمی کا پاؤں سو گیا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا تو اس شخص کو یاد کر جو تمھیں سب سے زیادہ محبوب ہے تو اس نے “ یامحمداہ “ کہا اچھا ہو گیا ( کتاب الاذکار، ص135 )

اور یہ امران دو صحابیوں کے سوا اوروں سے بھی مروی ہوا۔ اہل مدینہ میں قدیم سے اس “ یامحمداہ “ کہنے کی عادت چلی آتی ہے علامہ شہاب خفاجی مصری “ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض “ میں فرماتے ہیں “ ھذا مما تعاھدہ اھل المدینۃ ( نسیم الریاض ج3، 355 )

حضرت بلال بن الحارث مزنی سے قحط عام الرمادہ میں کہ بعد خلافت فاروقی 18ھ میں واقع ہوا، ان کی قوم بنی مزینہ نے درخواست کی کہ ہم مرے جاتے ہیں کوئی بکری ذبح کیجئے، فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا، آخر ذبح کی کھال کھینچی تو نری سرخ ہڈی نکلی، یہ دیکھ کر بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ندا کی یامحمداہ ! پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر بشارت دی “ ذکر فی الکامل “۔ ( تاریخ کامل مصنف ابن اثیرج2، ص556 )

اقوال و افعال اولیاء کاملین وائمہ مجتھدین سے نداء کا ثبوت

امام مجتہد فقیہ اجل عبدالرحمٰن ہذلی کوفی مسعودی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پوتے اور اجلئہ تبع تابعین و اکابر ائمہ مجتہدین سے ہیں، سر پر بلند ٹوپی رکھتے جس میں لکھا تھا “ محمد یا منصور !“ اور ظاہر ہے کہ “ القلم احد اللسانین “ ہشیم بن جمیل انطاکی کہ ثقات علمائے محدثین سے ہیں، انہیں امام اجل کی نسبت فرماتے ہیں، “ رایتہ وعلی رامہ قلنسوۃ اطول من ذراع مکتوب فیھا محمد یامنصور ذکرۃ فی تھذیب التھذیب وغیرہ (میزان الاعتدال مصنف ابو عبداللہ ج2، ص574) امام شیخ السلام شہاب رملی انصاری کے فتاوٰی میں ہے “ سئل عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلاں و نحو ذلک من الاستغائۃ بالانباء و المرسلین و الصالحین وھل للمشائخ اغائۃ بعد موتھم ام لا فاجاب بما نصہ ان الاستغائۃ بالانبیاء و المرسلین و الاولیاء والعلماء الصالحین جائزۃ وللانبیاء والرسل والالیاء والصالحین اغائۃ بعد موتھم الخ ( مشارق الانور مصنف حسن الصدو یالحمزاوی،59 ) یعنی ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء و مرسلین و صالحین سے فریاد کرتے اور یارسول اللہ یاعلی یاشیخ عبدالقادر جیلانی اور ان کے مثل کلمات کہتے ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اورا ولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بےشک انبیاء مرسلین و اولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی امداد فرماتے ہیں۔

ّعلامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار فتاوٰی خیریہ میں فرماتے ہیں “ قولھم یا شیخ عبدالقادر ندا فما الموجب لحرمۃ “ ( فتاوٰی خیریہ علامہ خیرالدین رملی، ج2،ص282، رگ بازار قندھار ) لوگوں کا کہنا کہ یاشیخ عبدالقادر یہ ایک نداء ہے، پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے ؟ سیدجمال بن عبداللہ عمر مکی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں “ سئلت عمن یقول فی حال الشدائد یارسول اللہ او یاعلی اور یاشیخ القادر مثلاً ھل ھو جائز شرعا ام لا اجبت نعم الاستغائۃ بلاولیاء و نداء وھم والتوسل بھم امر مشروع وشئی مرغوب لا ینکرہ الا مکابر او معائد وقد حرم برکۃ الاولیاء الکرام “ یعنی مجھ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جو مصیبت کے وقت میں کہتا ہے “ یارسول اللہ، یاعلی، یاشیخ عبدالقادر “ مثلا آیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ میں نے جواب دیا ہاں اولیاء سے مدد مانگنی اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا شرع میں جائز اور پسندیدہ چیز ہے۔ جس کا انکار نہ کریگا مگر ہٹ دھرم یا صاحب عناد اور بیشک وہ اولیاء کرام کی برکت سے محروم ہے۔

امام ابن جوزی نے کتاب “ عیون الحکایات “ میں تین اولیاء عظام کا عظیم الشان واقعہ بسند مسلسل روایت کیا کہ وہ تین بھائی سواران دلاور ساکنان شام تھے، ہمیشہ راہ خدا میں جہاد کرتے۔ “ فاسرہ الروم مرۃ فقال لھم الملک انی اجعل فیکم الملک وازواجکم بناتی وتدخلون فی النصرانیۃ فابوا وقالوا یا محمداہ “۔ یعنی ایک بار نصارائے روم انہیں قید کرکے لے گئے، بادشاہ نے کہا میں تمھیں سلطنت دوں گا اور اپنی بیٹیاں تمہیں بیاہ دوں گا، تم نصرانی ہو جاؤ انہوں نے نہ مانا اور نداء کی یامحمداہ۔

بادشاہ نے دیگوں میں تیل گرم کروا کر دو صاحبوں کو اس میں ڈال دیا، تیسرے کو اللہ تعالٰی نے ایک سبب پیدا فرما کر بچا لیا، وہ دونوں چھ مہینے کے بعد مع ایک جماعت ملائکہ کے بیداری میں ان کے پاس آئے اور فرمایا اللہ تعالٰی نے ہمیں تمھاری شادی میں شریک ہونے کو بھیجا ہے انہوں نے حال پوچھا فرمایا “ ماکانت الاالغطمۃ التی رایت حتی خرجنا فی الفردوس “ بس وہی تیل کا ایک غوطہ تھا جو تم نے دیکھا اس کے بعد ہم جنت اعلٰی میں تھے۔ امام فرماتے ہیں: “ کانو مشھورین بذلک معروفین بالشام فی الزمن الاول “ یہ حضرات زمانہ سلف میں شام میں مشہور تھے اور ان کا یہ واقعہ معروف پھر فرمایا شعراء نے ان کی منقبت میں قصیدے لکھے ازا نجملہ یہ بیت ہے۔

سیعطی الصادقین بفضل صدق
نجدۃ فی الحیوۃ و فی الممات

( شرح الصدور علامہ جلال الدین سیوطی، ج89، ص90، خلافت اکیڈمی سوات )

قریب ہے کہ اللہ تعالٰی سچے ایمان والوں کو ان کے سچ کی برکت سے حیات و موت میں نجات بخشے گا۔ یہ واقعہ عجیب نفیس و روح پرور ہے، میں بخایل تطویل اسے مختصر کر گیا، تمام و کمال امام جلال الدین سیوطی کی شرح الصدور میں ہے “من شاء فلیرجع الیہ“ یہاں مقصود اس قدر ہے کہ مصیبت میں یارسول اللہ! کہنا اگر شرک ہے تو مشرک کی مغفرت و شہادت کیسی اور جنت الفردوس میں جگہ پانی کیا معنٰی اور ان کی شادی میں فرشتوں کو بھیجنا کیونکر معقول؟ اور ان ائمہ دین نے یہ روایت کیونکر مقبول اور ان کی شہادت و ولایت کس درجہ سے مسلم رکھی، اور وہ مردان خدا خود بھی سلف صالحین میں تھے کہ واقعہ شہر طرسوس کی آبادی سے پہلے کا ہے کما ذکرہ فی الروایۃ نفسھا۔ اور طرسوس ایک ثغر ہے۔ یعنی دارالاسلام کی سرحد کا شہر جسے خلیفہ

ہارون رشید نے آباد کیا۔ کما ذکرہ الامام السیوطی فی تاریخ الخلفاء (شرح الصدور علامہ جلال الدین سیوطی، ج89، خلافت اکیڈمی سوات ) ہارون رشید کا زمانہ تابعین و تبع تابعین تھا تو یہ تینوں شہدائے کرام اگر تابعی نہ تھے الاقل تبع تابعین سے تھے واللہ الھادی حضور پرنور سید غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں “ من استغاث بی فی کربۃ کشفت عنہ ومن نادی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ ومن توسل بی الی اللہ عزوجل فی جاجۃ قضیت لہ امن صلی رکعتین یقروفی کل رکعۃ بعد الفاتحہ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی علی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام و یسلم علیہ ویذکرنی ثم یخطوا الی جھۃ العراق احدٰی عشرۃ خطوۃ یذکر فیھا اسمی ویذکر حاجتہ فاناھا تقضی باذن اللہ ( بھجۃ الاسرار امام ابو الحسن نور الدین، مصطفٰی البانی مصر،102 ) یعنی جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر نداء کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اللہ تعالٰی کی طرف سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور جو دو رکعت نماز ادا کرے ہر رکعت میں بعد فاتحہ کے سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے اس کی حاجت روا ہو اللہ کے اذن سے۔

اکابرین علمائے کرام اولیاءکرام عظام مثل ابوالحسن نور الدین علی بن جریر لخمی شطنوفی و امام عبداللہ بن اسعد یافعی مکی، مولانا علی قاری مکی صاحب مرقاۃ شرح مشکوۃ مولینا ابو المعالی محمس مسلمی قادری، و شیخ محقق مولیٰنا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اپنی تصانیف جلیلہ “ حجۃ السرار و خلاصۃ المفاخر ونزھۃ الخاطر و تحفئہ قادریہ للآثا و غیرھا“ میں یہ کلمات رحمت آیات حضور غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل روایت فرماتے ہیں۔

امام ابوالحسن نورالدین علی مصنف بہجۃ الاسرار شریف، اعاظم علماء و ائمہ قرآت و اکابر اولیاء و سادات طریقت سے ہیں، حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالٰی عنہ تک صرف دو واسطے رکھتے ہیں، امام اجل حضرت ابو صالح نصر قدس سرہ فیض حاصل کیا، انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت ابو بکر تاج الدین عبدالرزاق نور اللہ مرقدہ سے انھوں نے اپنے والد ماجد حضور پرنور سیدالسادات غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے۔ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ “زہدۃ الآثار“ شریف میں فرماتے ہیں یہ کتاب بجہۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف مشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قراءت سے عالم معروف و مشہور اور ان کے احوال شریفہ کتابوں میں مذکور مسطور۔ ( زبدۃ الآثار فارسی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، بکسنگ کمپنی ممبئی2 )

امام شمس الدین ذہبی کہ علم حدیث و اسماء الرجال میں جن کی جلالت شان عالم آشکار اس جناب کی مجلس درس میں حاضر ہوئے اور اپنی کتاب “طبقات المقرئین“ میں ان کے مدائح لکھے۔ امام محدث محمد بن محمد بن محمد بن الجزری مصنف حصن حصین اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب “ مستطاب بحجۃ الاسرار “ شریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند و اجازت حاصل کی۔ ( زبدۃ الآثار فارسی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، بکسنگ کمپنی ممبئی،24 )

ان سب باتوں کی تفصیل اور اس نماز مبارک کے دلائل شرعیہ و اقوال و افعال علماء و اولیاء سے ثبوت جلیل فقیر غفراللہ تعالٰی کے رسالہ “ انھا رالانورا من یم صلوۃ الاسرار “ میں ہے “ فعلیک بھا تجد فیھا ما یشفی الصدور ویکشف العمی والحمدللہ رب العالمین “ امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب “ مستطاب لواقع الانوار فی طبقات الخیار “ میں فرماتے ہیں “ سید محمد غمری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک مرید بازار میں تشریف لے جاتے تھے ان کے جانور کا پاؤں پھسلا، آواز پکارا “ یا سیدی محمد یا غمری “ ادھر ابن عمر حاکم صعید کو بحکم سلطان چقمق قید کئے لئے جاتے تھے، ابن عمر نے فقیر کا نداء کرنا سنا پوچھا، یہ سیدی محمد کون ہیں ؟ کہا میرے شیخ، کہا میں ذلیل بھی کہتا ہوں “ یاسیدی محمد یا غمری لا حفظنی “ اے میرے سردار، اے محمد غمری مجھ پر نظر عنایت کرو ان کا یہ کہنا کہ حضرت سیدی محمد غمری رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور مدد فرمائی کہ بادشاہ اور اس کے لشکریوں کی جان پر بن گئی، مجبورانہ ابن عمر کو خلعت دیکر رخصت کیا۔ ( طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2،94 ) سیدی شمس الدین محمد حنفی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے حجرہء خلوت میں وضو فرما رہے تھے ناگاہ ایک کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کہ غائب ہو گئی حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی، دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے رہنے دے جب تک وہ پہلی واپس آئے ایک مدت کے بعد ملک شام سے ایک شخص وہ کھڑاؤں مع ہدیہ کے حاضر لایا اور عرض کی کہ اللہ تعالٰی حضرت کو جزائے خیر دے، جب چور میرے سینے پر مجھے ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا یاسیدی محمد یا حنفی! اسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آ کر اس کے سینہ پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہو گیا اور مجھے یہ برکت حضرت اللہ عزوجل نے نجات بخشی۔

اسی میں ہے:

ولی ممدوح قدس سرہ کی زوجہ مقدسہ بیماری سے قریب مرگ ہوئیں تو وہ یوں نداء کرتی تھیں “ یا سیدی احمد یا بدوی خاطرک معی “ اے میرے سردار اے احمد بدوی حضرت کی توجہ میرے ساتھ ہے ایک دن حضرت سیدی احمد کبیر بدوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیں کب تک مجھے پکارے گی اور مجھ سے فریاد کرے گی تو جانتی ہی نہیں کہ تو ایک بڑے صاحب (یعنی اپنے شوہر) کی حمایت میں ہے اور جو کسی ولی کبیر کی درسگاہ میں ہوتا ہے ہم اس کی نداء پر اجازت نہیں کرتے یوں کہہ یاسیدی محمد حنفی! کہ یہ کہے گی تو اللہ تعالٰی تجھے عافیت بخشے ان بی بی نے یونہی کہا صبح کو خاص تندرست اٹھیں گویا کبھی مرض نہ تھا۔ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2،94)

اسی میں ہے حضرت ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے مرض موت میں فرماتے تھے، “ من کانت حاجۃ فلیات الی قبری من تراب فلیس برجل “ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2، 96) جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں روا فرما دوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کر دے وہ مرد کا ہے کا ؟

اسی طرح حضرت سیدی محمد بن احمد فرغل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احوال شریفہ میں لکھا “کان رضی اللہ تعالٰی عنہ یقول انا من المتصرفین فبورھم فمن کانت لہ حاجۃ فلیات الی قابلۃ وجھی یذکر ھال اقتضالہ “ (طبقات الکبرٰی، عدبالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر 2/ 105) فرمایا کرتے تھے میں ان میں ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتےہیں جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس میرے چہرہء مبارک کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے میں روا فرما دوں گا۔

اسی میں ہے:-

“ مروی ہوا، ایک بار حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وضو فرماتے ہیں ایک کھڑاؤں بلاد مشرق کی طرف پھینکی، سال بھر کے بعد ایک شخص حاضر ہوئے، اور وہ کھڑاؤں اس کے پاس تھی، انھوں نے حال عرض کیا کہ جنگل میں ایک بدوضع نے ان کی صاحبزادی پر دست دراز چاہی، لڑکی کو اس وقت اپنے باپ کے پیرومرشد حضرت سیدی مدین کا نام معلوم نہ تھا، یوں ندا کی “یاشیخ ابی الاحظنی“ اے میرے باپ کے پیر مجھے بچائیے۔ یہ نداء کرتے ہی وہ کھڑاؤں آئی، لڑکی نے نجات پائی وہ کھڑاؤں ان کی اولاد میں ابت تک موجود ہے۔ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2/102) اسی میں سیدی مولٰی ابو عمران رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ذکر میں لکھتے ہیں “کان اذا ناداہ مریدہ اجابہ من مسیرہ سنۃ او اکثر“ (طبقات الکبرٰی، عبدالوہاب شعرانی، مصطفٰی البانی مصر2/21) یعنی ان کا مرید جہاں کہیں سے انھیں نداء کرتا جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے بھی زائد۔

حضرت شیخ مولینا عبدالحق محدث دہلوی “اخبار الاخیار“ شریف میں ذکرمبارک حضرت اجل شیخ بہاؤالحق والدین ابراہیم و عطاء اللہ الانصاری القادری الشطاری الحسینی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ممدوح کے رسالہ مبارکہ “شطاریہ“ سے نقل فرماتے ہیں:

“ ذکر کشف ارواح یا احمد یا محمد! دردوطریق ست یک طریق آنست یا احمد رادر راست بگوید و یامحمد رادر چپا بگوید وردردل ضرب کند یارسول اللہ طریق دوم آنست کہ یااحمد رادرد استا گوید و چپایا محمد و دردل وہم کند یامصطفٰی۔ دیگر ذکر یااحمد یامحمد یاعلی یاحسن یاحسین یافاطمہ شش طرفی ذکر کند کشف جمیع ارواح شود دیگر اسمائے ملکہ مقرب ہمیں تاثیر دارند یاجبرئیل، یامیکائیل یااسرافیل یاعزرائیل چہار ضربی دیگر ذکر اسم شیخ یعنی بگوید یاشیخ یاشیخ ہزار بار بگوید کہ حرف نداء را ازدل بکشد طرف راستا برود لفظ شیخ راد ردل ضرب کند “ (اخبار الاخیار، شاہ عبدالحق محدث دہلوی، مکتبہ رحیمیہ دیوبند،2/30)

حضرت سیدی نورالدین عبدالرحمٰن مولینا جامی قدس سرہ السامی “نفخات الانس شریف میں حضرت مولوی معنوی قدس سرہ العلی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ مولینا روح اللہ روحہ نے قریب انتقال ارشاد فرمایا “ازرقن من غمناک مشوید کہ نور منصور اللہ رحمۃ اللہ تعالٰی بعد از صدو پنجاہ سال بروح شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ تعالٰی تجلی کردہ مرشد اوشد “ اور فرمایا: در ہر حالتے کہ باشید مرایاد کنید تامن اممد باشم در ہر لباسے کہ باشم“ اور فرمایا: “در عالم ماراد و تعلق ست یکے بہ دن و یکے بشما و چوں بہ عنایت حق سبحانہ و تعالی فرد مجرد شوم و عالم تجرید و تفرید روئے نماید آں تعلق نیز از آں خواہد بود “ (تفخات الانس، اردو عبدالرحمٰن جامی، مدینہ پبلیشنگ کراچی، 702)

شاہ ولی صاحب دہلوی “اطیب انغم فی مدح سیدالعرب والعجم“ میں لکھتے ہیں “ وصلی علیک اللہ یاخیر خلقہ ویا خیر مامول ویاخیر واھب ویاخیر من یرجی لکشف رزیۃ ومن جودہ قدفاق جود السحائب وانت مجیری من ھجوم ملمۃ اذا انشبت فی القلب شرا المخالب“ اور خود اس کی شرح و ترجمہ میں کہتے ہیں “ (فصل یا زدہم) در اہتمام بجناب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رحمت فرستد بر تو خدائے تعالی ائے بہترین خلق خدا! واے بہترین کسیکہ امید داشتہ شود! اے بہترین عطا کنندہ واے بہترین کسیکہ امید داشتہ باشد برائے ازالئہ مصیبتے واے بہترین کیسکہ سخاوت او زیادہ است از باراں بارہا گواہی میدہم کہ تو پناہ دہندہ منی از ہجوم کر دن مصیبتے وقت کہ بخلا مذدردل بدترین چنگال یا اھ ملخصاً (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی، 22)

اسی کے شروح میں لکھتے ہیں “ذکر بعض حوادث زماں کہ دراں حوارث لابدست از استمداد بروح آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی،2) اسی فصل اول میں لکھتے ہیں “ بہ نظر نمے آید مرا مگر آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست در ہر شدتے (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی، 4) یہی شاہ صاحب “مدحیہ ھمزیہ“ میں لکھتے ہیں

ینادی ضارعا بخضوع قلب
وذل و ابتھال و التجاء
رسول اللہ یاخیر البرایا
نوالک ابتغی یوم القضاء
اذا ماحل خطیب مدلھم
فانت الحصن من کل البلاء
الیک توجھی وبک استنادی
وفیک مطامعی وبک ارتجاء

اور خود ہی اس کی شرح و ترجمہ میں لکھتے ہیں:

(فصل ششم) در مخاطبئہ جناب عالی علیہ افضل الصلٰت و اکمل التحیات و التسلیمات نداء کند زارد خوارشدہ بشکسگی دل و اظہار بےقدری خود بہ اخلاص در مناجات وبہ پناہ گرفتن بایں طریق کہ ائے رسول خدا ائے بہترین مخلوقات عطائے مے خواہم روز فصل کردن وقے کہ فردو آید کار عظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہریلا بسوائے تست رو آور دن من وبہ تست پناہ گرفتن من و درتست امید داشتن من اہ ملخصاً (اطیب النغم، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجتبائی دہلی،33)

یہی شاہ صاحب انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ میں قضائے حاجت کے لئے ایک ختم کی ترکیب یوں نقل کرتے ہیں: “ اول دو رکعت نعل بعد ازاں یکصد و یازدہ باردرود بعد ازاں یکصد و یازدہ بار کلمہ تمجید ع یک صدو یازدہ بار شئیاللہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی“ اسی انتباہ سے ثابت کہ یہی شاہ صاحب اور ان کے شیخ و استاذ حدیث مولینا طاہر مدنی جن کی خدمت میں مدتوں رہ کر شاہ صاحب نے حدیث پڑھی اور ان کے شیخ و استاذ والد مولانا ابراہیم کردی اور ان کے استاذ مولانا احمد قشاشی اور ان کے استاذ مولینا احمد ثناوی اور شاہ صاحب کے استاذ الاستاذ مولینا احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ صاحب کے اکثر سلاسل حدیث میں داخل اور شاہ صاحب کے پیرومرشد شیخ محمد سعید لاہوری جنھیں انتباہ میں شیخ معمرثقہ کہا اور اعیان مشائخ طریقت سے گنا اور ان کے پیر شیخ محمد اشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولانا عبدالملک اور ان کے مرشد بایزید ثانی اور شیخ شناوی کے پیر حضرت سید صبغۃ اللہ بروحی اور ان دونوں صاحبوں کے پیرومرشد مولینا وجیہ الدین علوی شارح ہدایہ و شرح و قایہ اور ان کے شیخ حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری علیہم رحمۃ الملک الباری۔

یہ سب اکابرناد علی کی سندیں لیتے اور اپنے تلامذہ و مستفیدین کو اجازتیں دیتے اور یاعلی یاعلی کا وظیفہ کرتے وللہ الحجۃ السامیہ جسے اس کی تفصیل ہو فقیر کے رسالہ “ انھا الانوار وحیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات “ کی طرف رجوع کرے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے بستان المثین میں حضرت ارفع و اعلی امام العلماء نظام الاولیاء حضرت سیدی احمد زروق مغربی قدس سرہ استاذ امام شمس الدین لقانی و امام شہاب الدین قسطلانی شارح صحیح بخاری کی مدح عظیم لکھی کہ وہ جناب ابدال سبعہ و محققین صوفیہ سے ہیں، شریعت و حقیقت کے جامع باوصف علو باطن ان کی تصانیف علوم ظاہری میں بھی نافع و مفید بکثرت ہیں، اکابر علماء فخر کرتے تھے کہ ہم ایسے جلیل الدر عالم و عارف کے شاگرد ہیں یہاں تک کہ لکھا: “بالجملہ مردے جلیل القدرے ست کہ مرتبہ کمال او فوق الذکراست“

پھر اس جناب جلالت مآب کے کلام پاک سے دوبیتیں نقل کیں کہ فرماتے ہیں

انا لمریدی جامع لشتاتہ
اذا ما سطا جور الزمان بنکبۃ
وان کنت فی ضیق و کرب و وحشۃ
فناد بیان زروق اٰت بسرعۃ

یعنی میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمعیت بخشنے والا ہوں جب ستم زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور اگر توتنگی و تکلیف و وحشت میں ہو تو یوں نداء کر یازروق! میں فوراً موجود ہوں گا (بستان المحدثین، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، سعید کمپنی کراچی، 325)

علامہ زیادی پھر علامہ اجمہوری صاحب تصانیف کثیرہ مشہورہ پھر علامہ داوؤدی محشی شرح منہج پھر علامہ شامی صاحب ردالمحتار حاشیہ درمختار گمشدہ چیز ملنے کے لئے فرماتے ہیں کہ بلندی پر جاکر حضرت سیدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہ کے لئے فاتحہ پڑھے پھر انھیں نداء کرے کہ یاسیدی احمد یاابن علوان شامی مشہور معروف کتاب ہے۔ (ردالمحتار، ابن عابدین بن شامی، دارلکتب العربیہ مصر، 3/355)

فقیر نے اس کے حاشیہ کی یہ عبارت اپنے رسالہ حیاۃ الموات کے ہامش تکملہ پر ذکر کی۔ غرض یہ صحابہ کرام سے اس وقت تک کہ اس قدر ائمہ و اولیاء و علماء ہیں جن کے اقوال فقیر نے ایک ساعت قلیلہ میں جمع کئے اب مشرک کہنے والوں سے صاف پوچھنا چاہئیے کہ عثمان بن حنیف و عبداللہ بن عباس بن عمر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے لیکر شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کے استاذہ و مشائخ تک سب کو کافر و مشرک کہتے ہو یا نہیں ؟ اگر انکار کریں تو الحمدللہ! ہدایت پائی اور حق واضح ہو گیا اور بےدھڑک ان سب پر کفر و شرک کا فتوٰی جاری کریں تو ان سے کہئے کہ اللہ تمھیں ہدایت کرے۔ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو تو کسے کہا اور کہا کچھ کہا، اناللہ و انا الیہ راجعون اور جان لیجئے کہ جس مذہب کی بناء پر صحابہ سے کیلر اب تک کے اکابر سب معاذاللہ مشرک و کافر ٹھہریں، وہ مذہب خدا و رسول کو کس قدر دشمن ہو گا۔

صحیح حدیثوں میں آیا کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہے اور بہت سے ائمہ دین نے مطلقاً اس پر فتوی دیا جس کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ “النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید۔“ میں ذکر کی، ہم اگرچہ بحکم احتیاط تکفیر نہ کریں تاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ ایک گروہ ائمہ کے نزدیک یہ حضرات کہ یارسول اللہ و یاعلی و یاحسن و یاغوث الثقلین کہنے والے مسلمان کو کافر و مشرک کہتے ہیں۔ خود کافر ہیں تو ان پر لازم کہ نئے سرے سے کلمہء اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں۔ درمختار میں ہے۔ “مافیہ خلاف یومر بالاستغفار والتوبۃ و تجدید النکاح“

فائدہ

حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو نداء کرنے کے عمدہ دلائل سے التحیات ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اور اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم سے عرض کرتا ہے:

السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ و برکاتہ
یعنی سلام حضور پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں

اگر نداء معاذاللہ شرک ہے تو یہ عجب شرک ہے کہ عین نماز میں شریک و داخل ہے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم اور اگر یہ جاہلانہ خیال محض باطل کہ التحیات زمانہ اقدس سے ویسے ہی چلی آئی ہے تو مقصود ان لفظوں کی ادا ہے نہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نداء۔ حاشاو کلا شریعت مطہرہ نے نماز میں کوئی ذکر ایسا نہیں رکھا ہے جس میں صرف زبان سے لفظ نکالے جائیں اور معنی مراد نہ ہوں۔ نہیں نہیں بلکہ قطعاً یہی درکار ہے کہ “التحیات للہ والصلوات والطیبات“ سے حمدالٰہی کا قصد رکھے اور “السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ سے یہ ارادہ کرے کہ اس وقت میں اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتا اور حضور سے بالقصد عرض کر رہا ہوں کہ سلام حضور پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔

فتاوٰی عالمگیری میں شرح قدوری سے ہے “لا بدان یقصد بالفاظ التشھد معا نیھا التی وضعت لھا من عندہ کانہ یحی اللہ تعالٰی ویسلم علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی نفسہ علی اولیاء اللہ تعالٰی“ (فتاوٰی عالمگیری، نورانی کتب خانہ پیشاور، 2/72) تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے: ( ویقصد بالفاظ التشھد) معا نبھا مرادۃ لہ علی وجہ (النشاء) کانہ یحی اللہ تعالی ویسلم علی نبیہ وعلی نفسہ و اولیائہ (لاارفما) عن ذلک ذکرہ فی المجتبی“ (تنویرالابصار، ابن عابدین بن شامی، بیروت 1/342)

علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں: “یقصد معانیہ مرداۃ علی انہ ینشئھا تحیۃ وسلامامنہ“ (مراقی الفلاح، حسن شرنبلالی، ازہریہ مصر165) اسی طرح بہت علماء نے تصریح فرمائی اس پر بعض سفہائے منکرین یہ عذر گڑھتے ہیں کہ صلوۃ و سلام پہنچانے پر ملائکہ مقرر ہیں تو ان میں نداء جائز اور ان کے ماوراء میں ناجائز حالانکہ یہ سخت جہالت، بےمزہ ہے۔ قطع نظر بہت اعتراضوں سے جو اس پر وارد ہوتے ہیں، ان ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ صرف درور و سلام ہی نہیں بلکہ امت کے تمام اقوال و افعال و اعمال روزانہ دو وقت سرکار عرش وقار حضور سیدالابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں عرض کئیے جاتے ہیں۔

احادیث کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطلقاً اعمال حسنہ و سیئہ سب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں اور یونہی تمام انبیاءکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور والدین و اعزاء و اقارب سب پر عرض اعمال ہوتی ہے۔

فقیر نے اپنے “رسالہ سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری“ میں وہ سب حدیثیں جمع کیں، یہاں اسی قدر بس ہے کہ امام اجل عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی “لیس من یوم الا وتعرض علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اعمال امتہ غدوۃ و عشیا فیعرفھم بسیما ھم واعمالھم“ (شرح مواہب اللدنیہ، عبدالباقی زرقانی، دارالمعرفہ بیروت، 5/337) یعنی کوئی دن ایسا نہیں جس میں سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اعمال امت ہر صبح و شام پیش نہ کئیے جاتے ہوں تو حضور کا اپنے امتیوں کا پہچاننا ان کی علامت اور ان کے اعمال دونوں وجہ سے ہے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وشرف وکرم)

فقیر غفراللہ تعالٰی لہ بتوفق اللہ عزوجل اس مسئلہ میں ایک کتاب مبسوط لکھ سکتا ہے مگر مصنف کے لئے اسی قدروافی اور خدا ہدایت دے تو ایک حرف کافی۔

اکفنا شرالمضلین یاکافی وصل علی سیدنا و مولانا محمد ان الشافی والہ وصحبہ حماۃ الدین الصافی امین والحمدللہ رب العالمین۔

کتبہ

عبدالمذنب احمد رضا البریلوی عنی عنہ

بحمدن المصطفٰی النبی الامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top