ENTERTAINMENT

لڑکی نے لاجواب کر دیا اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

ایک فلائٹ پر پاس بیٹھی لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا، آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کرلیں، سنا ہےاس طرح سفر بآسانی کٹ جاتا ہے۔ لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟ اُس شخص نے کہا کہ ہم بات کرسکتے ہیں کہ ، اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نیہں مانتا؟ لڑکی نے دلچسپی سے کہا کہ ضرور لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواباس شخص نے پوچھا کیا؟ لڑکی نے کہا کہ گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن۔۔۔ گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اسکی وجہ کیا ہے؟ وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا کہ مجھے اسکا پتہ نہیں۔ اس پر لڑکی بولی کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بنائے قوانین ،پردہ ،وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کا بھی علم نہیں ؟ یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرفمتوجّہ ہوگئی۔

ایک بندہ مسجد میں داخل ہوا اور دعا مانگنے لگا کہ اے میرے رب بہت غریب ہوں پاؤں میں پہننے کو جوتا نہیں ہے مالک کہیں سے ایک جوتے کى روزى کا بندوبست کر دے مالک ایک جوتا دلا دے لوگ دیکھتے ہیں تو شرم آتی ہے کہ اس کے پاس جوتا بھى نہیں خیر مسجد سے دعا مانگ کر باہر نکلا تو چند قدم ہى چلا تھا کہ دیکھا ایک شخص زمین کے بل چلتا آ رہا ہے اور پاؤں نہ ھونے کى وجہ سے اتنى مشکل سے زمین پر ٹانگیں گڑ کر چل رہا تھا کہ ٹانگوں سےخون نکل نکل کر زمین پر نشان چھوڑ رہا تھا جب اس نے یہ کیفیت دیکھى تو فوراً واپس موڑا اور مسجد میں جا کر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر پڑا کہ اے میرے رب تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے جوتا نہیں دیا تو کیا چلنے کو پاؤں تو دیے ہیں اُس مالک کى ذات کا ہر وقت شکر ادا کیا کریں کسى چھوٹی سواری پر ھو تو بڑی سواری کى خواہش سے پہلے ساتھ پیدل چلنے والے کو دیکھ لو اور اگر پیدل چل رہے ھو تو سواری کى خواہش سے پہلے اس کے بارے میں سوچو جو پیدل بھى نہیں چل سکتا.

ایک فلائٹ پر پاس بیٹھی لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا، آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کرلیں، سنا ہےاس طرح سفر بآسانی کٹ جاتا ہے۔ لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟ اُس شخص نے کہا کہ ہم بات کرسکتے ہیں کہ ، اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نیہں مانتا؟لڑکی نے دلچسپی سے کہا کہ ضرور لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔ اس شخص نے پوچھا کیا؟ لڑکی نے کہا کہ گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن۔۔۔ گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اسکی وجہ کیا ہے؟ وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا کہ مجھے اسکا پتہ نہیں۔ اس پر لڑکی بولی کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بنائے قوانین ،پردہ ،وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کا بھی علم نہیں ؟ یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجّہ ہوگئی۔

ایک بندہ مسجد میں داخل ہوا اور دعا مانگنے لگا کہ اے میرے رب بہت غریب ہوں پاؤں میں پہننے کو جوتا نہیں ہے مالک کہیں سے ایک جوتے کى روزى کا بندوبست کر دے مالک ایک جوتا دلا دے لوگ دیکھتے ہیں تو شرم آتی ہے کہ اس کے پاس جوتا بھى نہیںخیر مسجد سے دعا مانگ کر باہر نکلا تو چند قدم ہى چلا تھا کہ دیکھا ایک شخص زمین کے بل چلتا آ رہا ہے اور پاؤں نہ ھونے کى وجہ سے اتنى مشکل سے زمین پر ٹانگیں گڑ کر چل رہا تھا کہ ٹانگوں سے خون نکل نکل کر زمین پر نشان چھوڑ رہا تھا.

جب اس نے یہ کیفیت دیکھى تو فوراً واپس موڑا اور مسجد میں جا کر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر پڑا کہ اے میرے رب تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے جوتا نہیں دیا تو کیا چلنے کو پاؤں تو دیے ہیںاُس مالک کى ذات کا ہر وقت شکر ادا کیا کریںکسى چھوٹی سواری پر ھو تو بڑی سواری کى خواہش سے پہلے ساتھ پیدل چلنے والے کو دیکھ لو اور اگر پیدل چل رہے ھو تو سواری کى خواہش سے پہلے اس کے بارے میں سوچو جو پیدل بھى نہیں چل سکتا.

اگر آپکو ہماری پوسٹ اچھی لگی ہو تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں شکریہ
Previous Article
عظیم ماں بنی اس آرٹیکل کو ضرور …
Next Article
محنت

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top