Education

کالا جادو معلوماتی تحریر ۔۔۔۔ ضرور پڑھئیے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

وہ بیروزگار تھا۔ کہاں کہاں اس نے نوکری کی تلاش میں دھکے نہیں کھائے۔ مگر اس کے ہاتھ میں سوائے مایوسی کے کچھ نہ آیا۔ ایسے ہی وہ گائوں کے قبرستان کے پاس بیٹھا گہری سوچوں میں گم تھا کہ ایک عجیب و غریب حلیے کا شخص ایک قبر کے پاس کھڑا تھا۔ وہ شکل و حلیے سے عجیب ہی لگ رہا تھا۔ ایسا شخص دعا کے لیے قبر کے پاس تو کھڑا نہیں ہوسکتا۔ گائوں کا یہ قبرستان آبادی سے ہٹ کر تھا۔ وہ گہری سوچوں میں گم اکثر یہاں آجاتا۔ اسے یہاں عجیب سا سکون ملتا۔ کچھ دنوں سے اس نے مشاہدہ کیا کہ وہ اس شخص کا معمول بن گیا کہ وہ قبر ستان میں دکھائی دیتا۔ کوئی ایک قبر ہوتی تو سوچتا کہ وہ اس کا کوئی عزیز ہے۔ مگر وہ کبھی کسی قبر کے پاس ساکت کھڑا ہوتا تو کبھی کسی قبر کے پاس ۔۔۔۔

ایک دن ہمت کر کے اس نے اس شخص کو آواز دی ۔ مگر وہ اپنی جگہ پر ساکت رہا ۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد اس نے آنکھ اٹھا کر نوجوان کی طرف دیکھا۔ اس شخص کی آنکھوں میں بلا کی وحشت تھی ۔ سرخی مائل آنکھیں جیسے دھکتے ہوئے انگارے ہوں۔ کچھ دیر بعد وہ ایسے ہی اس کے پاس چلا آیا۔ اس نے اپنا نام تعارف نذیر کے نام سے کروایااور نوجوان نے اپنا تعارف جاوید کے نام سے کروایا۔ اس سے زیادہ بات نہیں ہوئی ۔ نذیر کا کہنا تھا کہ وہ بس دعا کے لیے آتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس نوجوان کی دوستی نذیر سےہوگئی.

جاوید نے ساری کہانی سنا دی تھی کہ وہ بیروزگار ہے۔ کوئی روزگار نہیں بہت سختی ہے ۔ جاوید نے پھر راز کی بات بتائی کہ وہ ایک عامل ہے۔ وہ قبرستان میں خاص قسم کا علم کرنے کے لیے آتا ہے۔ اس نے اپنے تھیلے میں سے ایک پتلا سا نکال کر دکھایا جس پر بیشمار سوئیاں چبھی تھیں۔پھر اس نے بتایا کہ لوگ حسد میں آکر دوسروں پر کالا جادو کرواتے ہیں۔ اس کام کے لیے وہ بھاری رقم دینے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں۔ تم میرے ساتھ آجائو۔

بس جب شیطان کے بہکاوے میں آجائے تو پھر وہ اس کے ہی کام کرتا ہے۔ نذیر کے ساتھ جاوید کام کرنے لگا۔ شہر میں آستانے سے وہ گاہگ تلاش کرتے اور قبرستان میں جاکر پتلوں پر سوئیاں چبھوکرشیطانی منتر پڑھتے۔ جاوید کو بس پیسے سے مطلب تھا ۔ اس کو یہ علم نہ تھا کہ اس عمل کا کوئی نقصان کسی کو ہوتا بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔نذیر کا کاروبار وسیع ہوگیا۔ جاوید اس کا دایاں بازو بن گیا۔ پیسے کی ریل پیل شروع ہوگئی ۔ کبھی کوئی آیا تو کہا کہ کہ الو کی آنکھیں درکار ہیں کبھی کسی کو کچھ کہا ۔۔۔۔۔ اس چکر میں ہی لوگوں سے پیسے بٹورنے شروع کردئیے ۔دن گزرے ، جاوید کی شادی ہوگئی ۔ اس کی بیوی خوبصورت تھی ۔ شادی کو چار سال ہونے کے باوجود اولاد نہ ہوئی ۔ بیوی کو عجیب سی بیماری لاحق ہوگئی ۔ بیٹھی بیٹھی غشی میں چلی جاتی ۔

اس نے ڈاکٹروں سے بہت علاج کروایا ۔۔مگر بے سود ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں ہی اسے خوشخبری ملی کہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے وہ باپ بننے والا ہے ۔ بس جاوید بہت خوش تھا۔ بیتابی سے اس دن کا انتظار کر رہا تھا۔ جب وہ بچے کا باپ بنتا۔۔ باپ بنا بھی تو کیسا بچہ پیدائشی اپاہج پیدا ہوا ۔ اس کے دونوں بازو نہ تھے۔ بس وہ تو زندہ لاش بن کر رہ گیا۔ اس کو سب یاد آنے لگا ۔ کہ کیسے دوسروں کو نقصان پہنانے کے لیے منتر پڑھا کرتا تھا۔ اس نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہ کی تھی کہ اس عمل کا کوئی نقصان ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔ اب اس کو نقصان آنکھوں سے نظر آیا ۔ مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی ۔ وہ ایک زندہ لاش کا باپ تھا۔ زندگی بھر اس کا غم سہنا تھا۔

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top