Facebook

یو پی ایس کی بیٹریوں کی عمر بڑھانے کا آسان ترین طریقہ جسے جاننے کے بعد ساری زندگی آپ نئی بیٹریاں نہیں خریدیں گے اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں

ایئرکنڈیشنر س نکلنے والا پانی اتنا صاف ستھرا ہوتا ہے کہ اسے یو پی ایس بیٹری کے لیے ’’بہترین دوا‘‘ تک قرار دیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں یو پی ایس ہے تو آپ کو ہر سال کم از کم ایک مرتبہ اس کی بیٹری ضرور تبدیل کرنی پڑتی ہو گی کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کمزور پڑتی چلی جاتی ہے اور آخرکار بالکل جواب دے جاتی ہے۔

اس دوران جب بیٹری کا پانی خشک ہو جاتا ہے تو عام طور پر کشید کردہ خالص پانی (ڈسٹلڈ واٹر) ڈالا جاتا ہے جبکہ بعض لوگ بد احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نلکے کا پانی تک بیٹری میں ڈال دیتے ہیں جو اس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے اور بیٹری صرف چند مہینوں ہی میں ناکارہ ہو جاتی ہے۔Related image

بیٹری کی عمر بڑھانے کے لیے معمولی سی تیزابیت کا حامل پانی بھی استعمال کیا جاتا ہے جو مقامی مارکیٹ میں ’’1250 نمبر کے پانی‘‘ کے نام سے دستیاب ہے جبکہ بعض مقامی کمپنیاں ’’بیٹری واٹر‘‘ کے نام سے یہی پانی فروخت کرتی ہیں جو بہت مہنگا ہوتا ہے۔

ایئرکنڈیشنر کا پانی اس سے کہیں زیادہ بہتر اور مفید ہوتا ہے جس کے بارے میں بیٹریاں فروخت کرنے والے مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ یو پی ایس بیٹری کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے موزوں ترین ہے۔ کراچی میں بیٹریوں کی فروخت اور مرمت سے وابستہ کئی دکاندار ایئرکنڈیشنر کے پانی کو باقاعدگی سے خرید کر استعمال بھی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایئرکنڈیشنر کا پانی استعمال کرنے پر بیٹری اپنی اوسط عمر سے تقریباً دو یا تین ماہ تک زیادہ کام کرتی ہے، چاہے وہ یو پی ایس میں نصب ہو یا پھر کسی گاڑی لگی ہوئی بیٹری ہو۔

یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد اگر آپ کو یقین نہیں آرہا تو ایئرکنڈیشنر سے نکلنے والے پانی کے بہترین ہونے کی وجہ بھی جان لیجیے: یہ پانی دراصل ہوا میں موجود آبی بخارات (water vapors) کے ٹھنڈا ہو کر مائع حالت میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بنتا ہے اور اسی بناء پر بہت خالص بھی ہوتا ہے۔ اگر اسے احتیاط سے جمع کرلیا جائے تو ڈسٹلڈ واٹر سے بھی زیادہ خالص اور مفید ثابت ہوتا ہے :

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top