Facebook

جب انسان گناہ چھوڑنا چاہے اورگناہ اسکو نہ چھوڑے تو یہ روحانی عمل اسکی مدد کرسکتا

گناہ بڑی لذت والی چیز ہے،انسان اسکے ہاتھوں مجبور ہوکر ہی جنت و دوزخ کماتا ہے

.یہ داخلی چیز بھی ہے اور اندورنی بھی .

گویا گناہ انسان کو اندر باہر سے دلکشی اور رغبت دلاتا رہتا ہے .کچھ لوگ گناہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہی ان کی زندگی کا حصول ہوتا ہے لیکن بعض لوگ گناہ کو برا سمجھتے اور اس سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں لیکن باطنی روحانی طور پر وہ اتنے مضبوط نہیں ہوتے اور گناہ نہ کرنے پر قدرت نہیں رکھ پاتے .ہر وہ انسان جو گناہ آلودہ زندگی سے جان چھڑوانا چاہتا ہے اسکو آیت کریمہ کا روزانہ تین سو تیرہ مرتبہ بعد از عصر ذکر کرنا چاہئے. آیت کریمہ ایسا عمل ہے جو انسان کو اسکے گناہوں خامیوں اور کمزوریوں کا اللہ کے سامنے اعتراف کرنے کی تلقین کرتا ہے تو اللہ اپنے اس عاجز بندے کی گریہ زاری سن کر اسکا باطن روشن فرماتے اور بندے کو گناہ سے پرہیز کرنے کی قوت عطا فرماتے ہیں.ایسے بندوں کو جب بھی گناہ کی تحریک و ترغیب ملتی ہے تو ان کے اندر سے اتنی مضبوط آواز بلند ہوتی ہے کہ وہ گناہ سے بچنے کی کوشش کرتاہے تو اس میں کامیاب ہوجاتا ہے. یاد رکھیں کہ انسان گناہ چھوڑنا چاہتا ہے لیکن گناہ جب اس پر حاوی ہوجاتا ہے تو یہ اس انسان کو اتنی جلی نہیں چھوڑتا مگر جسے اللہ کریم توفیق اور قوت عطا فرما دیں ،ایسا بندہ گناہکے شر سے بچ کر اپنی روح کو پاکیزہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے. ..

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top