Facebook

خادم حسین رضوی کی گالیاں ۔۔۔ دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

خادم حسین رضوی کی گالیاں ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

میں ہر گز دفاع نہیں کروں گا لیکن تنقید کا حق بھی اسی کو دوں گا جس کی حق گوئی و بے باکی بے مثال ہو ۔
تم ضرور سنگسار کر و مگر پہلا پتھر وہی مارے جس نے گناہ نہ کیا ہو ۔

اس دیس میں سود کا نظام چلتا رہا ۔۔۔۔اللہ و رسول ﷺسے جنگ جاری رہی ۔۔۔۔ماں سے ستر بارزنا کے مترادف ٹھہرایا گیا عمل اس دیس میں جاری رہا مگر سب خاموش ۔۔۔۔۔۔۔ خادم حسین رضوی گالیاں دیتا ہے ۔
مندر میں پوجا مسجد میں عبادت گویا راضی رہے صیاد بھی رہے باغباں بھی خوش ۔۔۔۔ مگر صاحبزادوں سمیت سب خاموش ۔۔۔۔پر خادم حسین رضوی گالیاں دیتا ہے ۔

قادیانی میرے بھائی ہیں اور پاکستانی قوم نے لبرل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔۔ممتاز قادری کی شہادت ۔۔۔۔۔پر خادم حسین گالیاں دیتا ہے ۔۔۔۔۔
ان سب منافقوں کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ مذہبی و سیاسی طبقہ ۔۔۔۔۔۔۔پر خادم حسین رضوی گالیاں دیتا ہے
اور ان سب پر خاموش عوام کا راضی بہ گناہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن خادم حسین رضوی گالیاں دیتا ہے۔

میں ہرگز دفاع نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔اپنے اپنے گریبانوں میں ایک بار جھانک کر دیکھ لو اور پھر کہنا خادم حسین رضوی گالیاں دیتا ہے
شیخِ وقت اپنی مسندِ تدریس پر تھا اور خلیفہ وقت پوچھ رہا تھا اگر مچھر کا خون کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہے
شیخ وقت نے جواب دیا : جس کے دامن پر ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون ہے وہ یہ پوچھتا ہے کہ مچھر کا خون دامن پر لگ جائے تو کیا حکم ہے ۔ہائے تاسف !!!!

اب ذرا اس سوال کو کسی مفتی صاحب سے یوں پوچھیے خادم حسین رضوی گالیاں دیتا ہے لیکن دین رسول ﷺپر ہونے والے ظلم پر جو عالم خاموش ہو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟اور اس سے بھی بڑھ کر جو اس ظلم پر معاون ہو اس کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے ؟
اپنے منصب سے محبت کی وجہ سے جو ناموسِ رسالت ﷺ پر پہرا دینےسے قاصر رہا اس کے لیے کیا حکم ہے ؟یہ فاسق کے حکم میں آتا بھی ہے یا نہیں ؟
احکام ترے حق ہیں، مگر اپنے مفسرتاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں پازند کیا کوئی جان ہتھیلی پر لیے وہیل چئیر پر بیٹھا ناموسِ رسالتﷺ کی جنگ لڑتا رہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتا رہا ۔۔۔۔اذیتوں کے سلسلے دراز ہوتے رہے، بے بسی کی تصویر بنا کر کہتے ہو گالیاں دیتا ہے ۔۔۔۔ واہ رے تمہارا انصاف ۔
اس سب کے باوجود میں ہرگز دفاع نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔
میں یہی عرض کروں گا آپ سب سے ، عام قیادت سے ، ہم نے اپنے بزرگوں سے سُنا کہ امام بخاری نے اپنے دینار دریا کے حوالے کر دئیے تھے اگر چہ وہ انہی کی ملکیت تھے کیوں ؟
اس لیے کہ اگر ان پر یہ تہمت لگ گئی تو رہتی دنیا تک ان سے حدیث کوئی روایت نہیں کرے گا اس لیے دست بستہ عرض ہے قیادت میں برداشت ہونی چاہیے ۔۔۔۔بڑے مقاصد کے حصول کے لیے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے ۔۔۔

ہمیں معلوم ہے ظلم کی انتہاء کر دی گئی ۔۔۔۔۔ہمیں معلوم ہے بے بسی کی کیفیت میں یہ سب کچھ ہوا ۔۔۔۔ آپ سے یہ بھی عرض ہے کہ آپ کی قوم عرصہ دراز سے فضائل کے سرور میں مسرور رہی ہے ۔۔۔ احتیاط تو سب پر لازم ہے قیادت پر یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔
اس وقت تمام مسالک کی مذہبی جماعتوں ۔۔۔تمام لیڈروں میں اگر کوئی سچا حق گو بے باک اور مخلص شخص وہ ہمیں صرف خادم حسین رضوی نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔

لوگوں کے قلم حق کہنے سے خاموش ہو جائیں یا بازارِ اقتدار میں بک جائیں اور گلے خشک ہو جائیں یا لفافوں کی محبت میں رطب اللسان ہو جائیں ۔۔۔۔۔خوف اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ دانشوروں کو جکڑ لے ایسے میں قائد اعظم کا مقدمہ لڑتے ،شہدائے پاکستان اور دفاع پاکستان کی جنگ اپنی جان ہتھیلی پر لڑتے اگر کوئی نظر آتا ہے تو وہ درویش ہی تو تنہا کھڑا دکھائی دیتا ہے

بقول اقبال ؔ
درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے، نہ غربی
گھر میرا نہ دِلی، نہ صفا ہاں، نہ سمر قند
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نہ آبلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

اس کے خلوص پر تو اس کا بد ترین دشمن بھی شک نہیں کرتا ۔۔۔۔
تمہیں ساتھ نہیں دینا مت دو مگر پہلا پتھر مارنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا ۔

دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top