Urdu

اس بچی کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی اور میں چپ تھی، وہ میری بیٹی تو نہ تھی پھر غم کیسا

اس کی عمر نو سال تھی گھر سے کچھ لینے نکلی تھی ۔شاید دودھ ختم ہو گیا ہو گا چھوٹے بہن یا بھائی کا ،امی کو آسان حل یہی نظر آیا کہ اس کو بھیج کر منگا لیں ۔کوئی اچھنبے کی بات تو تھی نہیں ، غریبوں کے گھروں کی یہ چھوٹی بیٹی ماں کے لۓ ایک مددگار ہی تو ہوتی ہیں ۔اس نے بھی ہاتھ میں پیسے دباۓ اور دودھ لینے چل دی ۔ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ وہ راستے پر رواں تھی ۔


دنیا کو ابھی تو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھنا شرو‏ع کیا تھا ۔وہ بہت حیرانگی سے چمکتی دھوپ ، اڑتے پرندوں کو دیکھ رہی تھی ۔اس کو اس بات کا اندازہ ہی نہ تھا کہ کچھ حریص نگاہیں اس کی اس معصومیت کو شکاری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ اس نے دودھ خریدا اور واپسی کے لۓ مڑی ایک سنسان گلی سے گزرتے ہوۓ دو ہاتھوں نے اسے اپنی جانب کھینچا اور گھر میں اندر کرنے کے بعد دروازہ بند کر لیا ۔اس کے منہ پر وہ ہاتھ دھرا ہوا تھا ۔وہ کمزور سی پھول جیسی کلی ان ہاتھوں میں بری طرح مچل رہی تھی ۔

اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کے سبب کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھی ۔مگر اپنے جسم پر رینگتے ہوۓ ان گندے ہاتھوں کو محسوس ضرور کر سکتی تھی ۔اس کے اندر اس لمس سے ناپسندیدگی کی لہریں اٹھ رہی تھیں مگر اب اس کا منہ ایک بدبو دار کپڑے سے باندھا جا چکا تھا وہ کسی بھی قسم کی آواز نکالنے سے قاصر تھی ۔


حیوانیت اپنے عروج پر تھی ۔ اس کی رگ رگ میں درد کا ایک محشر برپا تھا ۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی بے لباسی کا ماتم کرے یا اس اجنبی درد کا نوحہ جو آج سے قبل اس نے کبھی برداشت نہیں کیا تھا ۔ اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا ۔ وہ بے حسی کی حالت میں تھی ۔مگر وہ وحشی اس کو بار بار بھنبھوڑ رہے تھے ۔وہ ایک نہ تھا ان کی تعداد کو گننے کے قابل وہ نہ تھی اس کو تو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ بربریت کا کھیل اس کے ساتھ کتنی بار کھیلا گیا اور کس کس نے کھیلا ۔

جب اس کو ہوش آیا تو تیز دھوپ اس کی آنکھوں کو چندھیا رہی تھی ۔بہت سارے لوگ اس پر جھکے ہوۓ تھے ۔ ان کی بھبھناہٹ اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی ۔اس کے بعد وہ ایک بار پھر بے ہوش ہو گی ۔اب اس کو ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی اور اس کو بہت درد ہو رہا تھا اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ کہاں ہے ۔


کئی لوگ مائک پکڑے اس کی کھلتی آنکھوں کی طرف دیکھ کر اس کی جانب بڑھے ۔ کوئی پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا اس کے ساتھ اور کوئی پوچھ رہا تھا کہ کون ہے جس نے اس کے ساتھ یہ سب کیا کوئی کہہ رہا تھا کہ لائیو چل رہا ہے سب ،اور کوئی کہہ رہا تھا کہ بریکنگ نیوز ہے ۔کسی کو لگا کہ حوا کی بیٹی کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے ۔

میں ان سب سے ہٹ کر کھڑے سوچ رہی تھی کہ ٹھیک ہی تو کر رہے ہیں یہ سب ۔یہ ان کی بیٹی تو نہ تھی پھر غم کیسا ؟
Via : parhlo

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top